تحریر: کیپٹن (ر) محمد رقیب خان
دنیا کی تاریخ میں کچھ معرکے صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ فکر، نظریہ اور کردار کی صورت میں صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ کربلا بھی ایسا ہی ایک معرکہ ہے جس نے حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچ دی۔ ایک طرف حسینیت ہے جو اصول، حق اور خدا کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کا نام ہے، اور دوسری طرف یزیدیت ہے جو طاقت، جبر اور مفاد پرستی کی علامت ہے۔ یہی کشمکش آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں کسی نہ کسی صورت جاری ہے۔
حضرت امام زین العابدینؑ کے شجرہ مبارک سے جڑی وہ شخصیت جسے دنیا آیت اللہ کے نام سے جانتی ہے، دراصل اسی حسینی روایت کی ایک جھلک ہے۔ اللہ کی نشانی کہلانے والے ان رہنماؤں نے اپنے اکابرین کی راہ پر چلتے ہوئے دین اسلام کے بنیادی اصولوں سے کبھی انحراف نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ملک کے مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں مشکلات، پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اللہ کی نصرت اس قوم اور اس کی قیادت کے ساتھ رہی ہے اور وقت گواہ ہے کہ وہ ہر آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔
آیت اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانا اور طاغوتی طاقتوں کے سامنے سر نہ جھکانا اس قیادت کا امتیاز رہا ہے۔ انقلاب کے بعد سے لے کر آج تک اس نظام نے بے شمار دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی سازشوں کا سامنا کیا، مگر اس کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب ایک یلغاری فوج کو قدرتی طوفان نے ایرانی صحراؤں میں ہی تہس نہس کر دیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ جب کوئی قوم اپنے اصولوں پر ثابت قدم ہو تو اللہ کی نصرت اس کے شاملِ حال ہو جاتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر انصاف کے پیمانے دوہرے رکھتی ہیں۔ آزاد اور امن پسند ممالک کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ آخر کسی ملک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول سے روکنے کا جواز کیا ہے؟ خاص طور پر وہ طاقت جو خود تاریخ میں ایٹم بم استعمال کرنے والا واحد ملک رہی ہے، اور جو اپنے قریبی اتحادیوں کو بھی اسی قوت سے لیس کیے ہوئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کو نصیحت اور خود ہر حد سے تجاوز کرنا وہ رویہ ہے جسے عوامی زبان میں“اوروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت”کہا جاتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی طاقت کہلانے والے ملک کے پاس وسائل کی بھی کمی نہیں۔ توانائی کے وسیع ذخائر، جدید ٹیکنالوجی اور بے پناہ عسکری قوت اس کے پاس موجود ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اتنی طاقت موجود ہے تو پھر“جیو اور جینے دو”کے اصول کو اپناتے ہوئے دنیا میں امن قائم کیوں نہیں رہنے دیا جاتا؟ اللہ کی مخلوق کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے بجائے ان کی خوشحالی اور فلاح کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا؟ آخرکار ہر طاقتور کو بھی ایک دن اللہ کے حضور جوابدہ ہونا ہے۔
آج امت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ فلسطین سے لے کر شام، عراق، لیبیا اور افغانستان تک مسلم دنیا مسلسل آزمائشوں کا شکار رہی ہے۔ پاکستان بھی ان حالات سے الگ نہیں رہا۔ ان تجربات نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ بیرونی طاقتیں ہمیشہ کمزور اور منتشر قوموں کو ہی نشانہ بناتی ہیں۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکے اور جہاں جہاں اصلاح کی ضرورت ہے اسے فوری طور پر اختیار کرے۔
موجودہ حالات میں انا پرستی، ہٹ دھرمی اور باہمی اختلافات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر ہم نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو تاریخ ایک بار پھر ہمیں اسی مقام پر لا کھڑا کرے گی جہاں ہم پہلے کھڑے تھے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں اور اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل اختیار کریں۔پاکستان کو بھی اس حوالے سے ایک فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ بہتر ہوتا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا فوری اجلاس بلایا جاتا تاکہ مسلم دنیا کو درپیش خطرات پر متفقہ حکمت عملی تیار کی جاتی۔ تاہم اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ملک کے اندر قومی یکجہتی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھایا جائے۔ اپوزیشن کو ساتھ لے کر، مقبول عوامی رہنما عمران خان کی رہائی کے بعد ایک قومی کانفرنس بلائی جائے تاکہ موجودہ عالمی حالات اور ممکنہ خطرات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر کوئی جامع حل تلاش کیا جا سکے۔
تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب قومیں اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد ہو جاتی ہیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ حسینیت کا پیغام بھی یہی ہے کہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر امت مسلمہ اس پیغام کو سمجھ لے اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لے تو یقیناً یزیدیت کی ہر شکل کو شکست دینا ممکن ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

