تحریر:رشیداحمدنعیم
رمضان کے مقدس مہینے میں جب لاکھوں غریب گھروں کے چولہے پہلے ہی مدھم جل رہے ہوں اور ماؤں کی آنکھوں میں بچوں کے لیے افطار کا انتظام نہ کر پانے کی خاموش شرمندگی تیر رہی ہو تو ایسے وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ صرف ایک معاشی قتل ِعام کا فیصلہ نہیں بلکہ غریب کے دسترخوان پر گرنے والا ایسا معاشی بم محسوس ہوتا ہے جس کی گونج ہر اس گھر تک پہنچتی ہے جہاں پہلے ہی زندگی بوجھ بنتی جا رہی ہے کیونکہ رمضان المبارک صبر، ہمدردی اور ایثار کا مہینہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد اپنے دسترخوان وسیع کرتے ہیں۔ بھوکے کو کھانا کھلانا عبادت سمجھا جاتا ہے۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا نیکی تصور کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ اسی مقدس مہینے میں جب لاکھوں گھرانوں کے چولہے پہلے ہی بمشکل جل رہے ہوں، جب ماں اپنے بچوں کے سامنے خالی برتن چھپانے کی کوشش کر رہی ہو، جب باپ پورے دن کی مشقت کے بعد بھی گھر آ کر شرمندگی محسوس کرتا ہو کہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکا۔ایسے وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کر دینا دراصل غریب کے دسترخوان پر ایک معاشی بم گرانے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔
یہ اضافہ محض ایک عام سا اعلان نہیں بلکہ کروڑوں غریب اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے ایک نئے عذاب کا آغازہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر بڑا اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشی نظام اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے۔ سامان کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے۔ زراعت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور نتیجتاً آٹا، سبزی، دال، چینی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان جنم لیتا ہے جو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غریب کے گھر کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ ایک دیہاڑی دار مزدور جو دن بھر کی محنت کے بعد چند سو روپے کماتا ہے اس کے لیے پہلے ہی زندگی ایک کٹھن امتحان بن چکی ہے۔ جب آٹا مہنگا ہو، دال مہنگی ہو، بجلی کے بل بڑھتے جائیں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی برداشت سے باہر ہوتے جائیں تو ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ دراصل اس مزدور کے لیے زندگی کو مزید اذیت ناک بنا دیتا ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ کس سمت جائے؟ کس سے فریاد کرے؟ اپنی مجبوری کس کے سامنے بیان کرے؟
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے اوروہی سوال جو شاید کروڑوں پاکستانیوں کے دل میں مچل رہا ہے کہ غریب کے دسترخوان پر یہ معاشی بم مارنے سے پہلے کیا فیصلہ سازوں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ بیوروکریسی اور حکومتی اشرافیہ کو ملنے والی مفت پٹرول کی سہولت کو کیوں ختم نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ زیادہ منصفانہ اور بہتر فیصلہ نہ ہوتا کہ پاکستان بھر میں جن جن افراد کو سرکاری گاڑیوں کے ساتھ مفت پٹرول کی سہولت حاصل ہے ان کی یہ مراعات ختم کر دی جاتیں؟مگر یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ اور بیوروکریسی کا وہ طاقتور طبقہ جو ہمیشہ مراعات کے حصار میں رہتا ہے وہ ہر معاشی طوفان سے محفوظ کیوں رہتا ہے؟ یہ سوال آج عوام کے دلوں میں سلگ رہا ہے کہ آخر وہ کون سا نظام ہے جس میں پٹرول مہنگا ہونے پر رکشہ چلانے والے کی جیب کٹتی ہے مگر سرکاری گاڑیوں کے قافلے بدستور ایندھن جلاتے رہتے ہیں؟ وہ کون سا انصاف ہے جس میں دیہاڑی دار مزدور کے بچوں کے دودھ کے پیسے کم ہو جاتے ہیں مگر اعلیٰ افسران کے پٹرول کارڈ، لگژری گاڑیاں اور سرکاری مراعات جوں کی توں برقرار رہتی ہیں؟ اگر معیشت واقعی مشکل میں ہے تو پھر سب سے پہلے قربانی اقتدار کے ایوانوں سے کیوں شروع نہیں ہوتی؟ کیوں وہ لوگ جو قومی خزانے سے تنخواہیں، گاڑیاں، رہائشیں اور بے شمار سہولتیں حاصل کرتے ہیں کبھی عوام کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے؟ کیا اس ملک کی اشرافیہ نے خود کو عوام سے بالا تر سمجھ لیا ہے؟ کیا اس ریاست میں کوئی ایسا لمحہ بھی آئے گا جب
مراعات یافتہ طبقہ بھی یہ کہے کہ”آج قربانی ہم دیں گے۔بوجھ ہم اٹھائیں گے۔“
عوام کو ریلیف دیا جائے گا؟ یا پھر یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا کہ بحران آئے تو قربانی غریب دے اور آسائشیں اشرافیہ لوٹتی رہے؟جب بھی کوئی مشکل معاشی فیصلہ کرنا ہو، جب بھی مالی بوجھ ڈالنا ہو، جب بھی قربانی مانگنی ہو تو قربانی کے لیے ہمیشہ غریب ہی کیوں منتخب کیا جاتا ہے؟ اشرافیہ کی طرف نظر کیوں نہیں اٹھتی؟ یہ اشرافیہ اتنی مقدس کیوں ہے کہ ہر بحران میں بچ نکلتی ہے؟ اس کی مراعات کیوں برقرار رہتی ہیں؟ اس کی آسائشوں کو کیوں ہاتھ نہیں لگایا جاتا؟یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی اور اخلاقی سوال ہے اگر ایک ملک واقعی معاشی استحکام کی طرف بڑھنا چاہتا ہے تو اس کا پہلا اصول انصاف ہونا چاہیے مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ بوجھ صرف اس طبقے پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی کمزور ہے۔ جس کے پاس نہ اثر و رسوخ ہے۔ نہ اختیار ہے۔ نہ کوئی طاقتور آواز ہے۔
حکومت کی جانب سے اس اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یقیناً عالمی حالات کا اثر کسی بھی درآمدی معیشت پر پڑتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر عالمی حالات کا بوجھ برداشت کرنا ہی ہے تو کیا یہ بوجھ صرف عوام کے کندھوں پر ہی ڈالنا ضروری ہے؟ کیا یہ بوجھ پورے معاشرے میں منصفانہ طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا تھا؟یہ وہ مقام ہے جہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ اگر واقعی معیشت کسی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے تو پھر معاشی زلزلے کے جھٹکے صرف عوام کے لیے ہی کیوں مختص کر دیے گئے ہیں؟ اشرافیہ اس زلزلے سے محفوظ کیوں ہے؟ کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشی بحران کے وقت ایک ایسا حفاظتی حصار قائم کر دیا جاتا ہے جس کے اندر اشرافیہ محفوظ رہتی ہے اور باہر کھڑے کروڑوں عوام مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرتے رہتے ہیں؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں معاشی کامیابی کے نعرے تو اکثر سنائی دیتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ ملک بلند معاشی پرواز کر رہا ہے مگر ایک سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے کہ اگر معیشت واقعی ترقی کر رہی ہے تو پھر غریب کے منہ سے روٹی کا نوالہ کیوں چھینا جا رہا ہے؟کامیاب معیشت کی علامت یہ نہیں ہوتی کہ امیر مزید امیر ہوتا جائے اور غریب مزید غریب۔ کامیاب معیشت کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ عام آدمی کی زندگی آسان ہو۔ اس کے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہو۔ اس کے گھر کا چولہا سکون سے جل رہا ہو مگر جب پٹرول کی قیمت میں یکدم پچپن روپے کا اضافہ کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا ایک اور طوفان عوام کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
عید قریب آ رہی ہے۔ بہت سے گھروں میں بچے امید لگائے بیٹھے تھے کہ شاید اس عید پر انہیں نئے کپڑے مل جائیں گے۔شاید اس بار دسترخوان پر کچھ بہتر پکوان بن جائیں گے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اس اضافے نے ان امیدوں کو بھی دھندلا دیا ہے۔ جو باپ پہلے ہی پریشان تھا وہ اب مزید فکر مند ہو گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات کیسے پوری کرے گا۔رمضان کی خاموش شاموں میں جب افطار کا وقت قریب آتا ہے تو ملک کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں گھروں میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آتی ہے۔ یہ وہ خاموشی ہے جس میں برتنوں کی کھنک کم اور دلوں کی دھڑکن زیادہ سنائی دیتی ہے۔ ایک غریب باپ کی آنکھوں میں جھلکتی بے بسی کو اگر کوئی غور سے دیکھے تو وہاں نمی کے ساتھ کئی ٹوٹے ہوئے خواب بھی نظر آتے ہیں۔وہ بچوں کے چہروں کو دیکھتا ہے، ان کی معصوم خواہشوں کو سنتا ہے اور دل ہی دل میں اپنی بے بسی پر کڑھتا رہتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب افطار کے دسترخوان پر سادہ سی چیزیں بھی خوشی کا سبب بن جاتی تھیں مگر آج مہنگائی نے خوشیوں کی روشنی کو مدھم کر دیا ہے۔ کئی گھروں میں چولہے کی آنچ مدھم ہے اور امید کی لو بھی جیسے دھیرے دھیرے کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ بچوں کے ہاتھوں میں کبھی رنگین خواب تھے آج وہی ہاتھ خالی پیالوں کو تھامے ماں کی طرف سوالیہ نظروں
سے دیکھتے ہیں۔ ایک ماں اپنے بچوں کے سامنے مسکرانے کی کوشش تو کرتی ہے مگر اس کی آنکھوں کی نمی اس کے دل کی داستان بیان کر دیتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جہاں آنسو خاموشی سے ٹپکتے ہیں۔ ارمان بکھر جاتے ہیں۔ خوشیوں کی روشنی جیسے وقت کی دھول میں ماند پڑتی چلی جاتی ہے۔ ایسے فیصلوں کے وقت شاید یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ غریب کی آہ بہت طاقتور ہوتی ہے۔ جب کسی مظلوم کے دل سے نکلی ہوئی آہ آسمان تک پہنچتی ہے تو پھر اس کے اثرات کو روکنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ معاشی پالیسیوں کی سختی ایک دن مظلوموں کی دعاؤں اور آہوں کے سامنے بے بس ہو جائے۔
رمضان المبارک کا پیغام تو یہی ہے کہ کمزور کا سہارا بنو، بھوکے کو کھانا کھلاؤ، ضرورت مند کی مدد کرومگر اگر اسی مہینے میں ایسے فیصلے کیے جائیں جو غریب کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیں تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ہمارے معاشی فیصلوں میں انسانیت کا عنصر کہاں ہے؟ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں۔ یہی عوام ٹیکس دیتے ہیں۔ یہی محنت کرتے ہیں۔یہی ملک کی معیشت کو اپنے پسینے سے زندہ رکھتے ہیں اگر اسی عوام کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا دی جائے تو پھر معاشی ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر اس بوجھ کا اصل نشانہ ہمیشہ غریب ہی کیوں بنتا ہے؟ کیا اس ملک کی معیشت کا سارا بوجھ صرف اس مزدور، رکشہ چلانے والے اور دیہاڑی دار کے کندھوں پر ہی ڈالنا ضروری ہے؟ کیا کبھی فیصلہ سازوں نے اس شخص کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے جو دن بھر پسینہ بہانے کے بعد شام کواپنی کم آمدن میں ضروریات پوری نہ ہونے کے احساس کے ساتھ گھر لوٹتا ہے؟ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو کیا اس کا واحد حل یہی ہے کہ عوام کی جیبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جائے؟
کیا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی کی ٹینکی تک محدود نہیں رہتا بلکہ غریب کے دسترخوان تک پہنچ جاتا ہے؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ پہلے ان مراعات پر نظر ڈالی جاتی جو برسوں سے طاقتور طبقوں کو حاصل ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ بوجھ کو منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جاتا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر گلی، ہر محلے اور ہر تھکے ہوئے مزدور کے دل میں سلگ رہے ہیں کیونکہ جب فیصلے عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرتے ہوں تو پھر عوام کے دلوں سے اٹھنے والے سوالوں کو نظر انداز کرنا آسان نہیں رہتاراقم الحروف فیصلہ سازوں سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہے گا کہ کیا واقعی ایک مضبوط معیشت وہ ہوتی ہے جس میں بوجھ صرف کمزور کندھوں پر ڈالا جائے؟یا پھر وہ معیشت مضبوط ہوتی ہے جس میں قربانی بھی سب دیتے ہیں اور مراعات بھی انصاف کے ساتھ تقسیم کی جاتی ہیں؟اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی بلندیوں تک پہنچانا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے معاشی انصاف کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ وہ معاشرہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا جس میں دسترخوان خالی ہوں اور ایوانوں میں آسائشوں کی روشنی جگمگا رہی ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشروں میں انصاف کا توازن بگڑتا ہے تو پھر صرف معیشت نہیں پورا نظام لرزنے لگتا ہے۔ قومیں صرف اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کی معیشت بحران میں ہو بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ریاست کے ایوانوں میں مراعات محفوظ ہوں اور عوام کے گھروں میں امید کے چراغ بجھنے لگیں اور جب امید کے چراغ بجھنے لگیں تو پھر تاریخ کا پہیہ بھی زیادہ دیر خاموش نہیں رہتا

