تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وومن شیلٹر ہوم، دارالامان اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی تقریب محض ایک رسمی پروگرام نہیں تھی بلکہ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی تھی کہ معاشرے میں خواتین کے احترام، تحفظ اور بااختیاری کے لیے اجتماعی سوچ اور عملی اقدامات کس قدر ضروری ہیں۔ ایسی تقریبات بظاہر مختصر ہوتی ہیں مگر ان کے پیچھے ایک بڑا سماجی پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ پیغام یہ ہے کہ ایک مہذب اور متوازن معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب اس میں خواتین کو عزت، تحفظ اور مواقع میسر ہوں۔خواتین کا عالمی دن دراصل صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ اس عہد کی تجدید ہے کہ معاشرے میں خواتین کو درپیش مسائل کو سمجھا جائے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خاندانی نظام مضبوط ہے وہاں خواتین کا کردار صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ وہ تعلیم، صحت، قانون، سیاست اور سماجی خدمات سمیت ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور انہیں معاشرتی ترقی کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ اس تقریب کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ پروگرام ایک ایسے ادارے میں منعقد ہوا جو معاشرے کی کمزور اور متاثرہ خواتین کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ دارالامان یا وومن شیلٹر ہوم دراصل وہ جگہ ہے جہاں ایسے حالات کا شکار خواتین کو عارضی رہائش، تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہاں آنے والی خواتین زندگی کے مختلف مسائل اور مشکلات سے گزر کر پہنچتی ہیں اور انہیں ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔تقریب میں مہمان خصوصی ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ کی شرکت اس بات کی علامت تھی کہ خواتین کی قیادت بھی معاشرتی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ دین اسلام نے خواتین کو جو عزت اور مقام دیا ہے وہ دنیا کے کسی اور مذہب یا نظام میں نہیں ملتا۔ اسلامی تعلیمات میں ماں، بیٹی، بہن اور بیوی ہر رشتے میں عورت کو احترام اور تحفظ کا مقام حاصل ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات معاشرتی رویے اور روایات ان تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں اور خواتین کو وہ حقوق فراہم کریں جو انہیں دین نے عطا کیے ہیں۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ طارق نسیم منگن ایڈووکیٹ نے بار ایسوسی ایشن کی جانب سے شیلٹر ہوم میں مقیم خواتین کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ یقین دہانی نہایت اہم ہے کیونکہ بہت سی خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے قانونی رہنمائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وکلا برادری اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے تو بہت سی خواتین انصاف کے حصول میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔تقریب میں شریک دیگر شخصیات
انچارج وومن شیلٹر ہوم، دارالامان اوکاڑہ روبینہ شہزادی اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اشتیاق احمد خان،رخشندہ تصور شیخ ایڈووکیٹ اور راقم الحروف و صدر سماجی تنظیم ’ماڈا‘ محمد مظہر رشید چودھری نے بھی اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے صرف تقاریر کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔ تعلیم، معاشی مواقع اور قانونی تحفظ ایسے عوامل ہیں جو خواتین کو خود مختار بناتے ہیں۔ جب خواتین تعلیم یافتہ ہوں گی اور انہیں روزگار کے مواقع ملیں گے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں گی۔دارالامان جیسے ادارے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے صرف رہائش فراہم نہیں کرتے بلکہ یہاں مقیم خواتین کو نفسیاتی، سماجی اور قانونی مدد بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کر سکیں۔ ایسے اداروں کی فعالیت اور بہتری کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیموں اور مخیر حضرات کی معاونت بھی ضروری ہے۔معاشرے میں خواتین کے احترام اور تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جب معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ ملے گا تو خواتین کے خلاف تشدد، ناانصافی اور امتیازی سلوک جیسے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ خواتین کی ترقی دراصل پورے معاشرے کی ترقی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور بااختیار عورت نہ صرف بہتر ماں بنتی ہے بلکہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی شعور، تعلیم اور مثبت اقدار فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ یہ سرمایہ کاری دراصل مستقبل کی ترقی میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ یہ تقریب اسی شعور اور سوچ کی ایک جھلک تھی۔ اس پروگرام نے نہ صرف دارالامان میں مقیم خواتین کو حوصلہ دیا بلکہ معاشرے کو یہ پیغام بھی دیا کہ خواتین کی عزت اور تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ریاستی ادارے، سماجی تنظیمیں اور عام شہری مل کر اس ذمہ داری کو نبھائیں تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر عورت خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرے۔خواتین کے عالمی دن کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ ہم محض ایک دن تک محدود نہ رہیں بلکہ سال کے ہر دن خواتین کے حقوق، احترام اور تحفظ کے لیے کام کریں۔ جب یہ سوچ اجتماعی رویہ بن جائے گی تو یقیناً ہمارا معاشرہ زیادہ مہذب، متوازن اور ترقی یافتہ بن سکے گا٭


