تحریر:راجہ جمیل صدیق خان ایڈوکیٹ
عالمِ اسلام اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں فرقہ واریت، سیاسی مفادات اور عالمی طاقتوں کی چالوں نے مسلمانوں کو باہمی اختلافات میں الجھا دیا ہے۔ ایسے میں کبھی ایران کے رہبر کے بارے میں دھمکیوں کی باتیں ہوتی ہیں اور کبھی شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اصل روح قربانی، شہادت اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا درس دیتی ہے۔ اگر کوئی رہنما یا مجاہد حق کی راہ میں شہید ہو جائے تو اسلام کی تاریخ میں اسے شکست نہیں بلکہ عزت اور کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ کی سب سے روشن مثال حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی ہے جو جنگ کربلا میں پیش آئی۔ امام حسینؑ نے ظلم اور جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا علم بلند کیا اور اپنی جان، اپنے خاندان اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے کر قیامت تک کے لیے ظلم کے خلاف مزاحمت کی مثال قائم کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان، چاہے وہ کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، اس قربانی کو اسلام کی تاریخ کا ایک عظیم باب سمجھتے ہیں۔
شیعہ مسلمانوں کے ہاں محرم کے دنوں میں جو ماتم اور عزاداری کی جاتی ہے، اس کا مقصد صرف غم کا اظہار نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہوتا ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر ہم کربلا کے میدان میں موجود ہوتے تو امام حسینؑ کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ظلم کے خلاف اپنی جان تک قربان کر دیتے۔ اس لیے ماتم دراصل اس عزم اور وفاداری کا اظہار ہے جو کربلا کے پیغام سے جڑا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے بعض حلقے اس کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں اور اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے ایک گہرا روحانی اور تاریخی پس منظر موجود ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض سنی علماء بھی امام حسینؑ کی قربانی کو انتہائی عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کئی اہلِ علم اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ شہادت اسلام میں سب سے بڑا اعزاز ہے اور اگر کسی کو حق کی راہ میں شہادت نصیب ہو جائے تو یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں حضرت عمر بن خطاب جیسے عظیم صحابی بھی شہادت کے مقام پر فائز ہوئے اور ان کی قربانی کو بھی ہمیشہ عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔
آج کے حالات میں جب فلسطین میں مظلوم مسلمان دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہاں مزاحمت کون کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی کی تحریک میں مختلف اسلامی گروہ شامل ہیں جن میں فلسطینی اسلامی جہاد، حماس اور حزب اللہ جیسے گروہ شامل ہیں۔ ان میں سنی بھی ہیں اور شیعہ بھی، لیکن سب کا مقصد ایک ہی ہے یعنی فلسطین کی آزادی اور ظلم کے خلاف مزاحمت۔
یہ حقیقت ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ اسلام کی اصل طاقت اتحاد میں ہے۔ اگر مسلمان فرقوں اور مسالک کی بنیاد پر ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے تو دشمن طاقتیں ہمیشہ فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔ لیکن اگر امتِ مسلمہ کربلا کے پیغام کو سمجھ لے، یعنی حق کے لیے ڈٹ جانا اور ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا، تو وہ دوبارہ اپنی قوت اور وقار حاصل کر سکتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان تاریخ سے سبق سیکھیں، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور مشترکہ مسائل پر متحد ہو جائیں۔ کیونکہ امام حسینؑ کی قربانی کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ حق اور انصاف کی خاطر کھڑے ہو جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب تک یہ پیغام زندہ ہے، ظلم کے خلاف مزاحمت بھی زندہ رہے گی اور امتِ مسلمہ میں بیداری کی امید بھی باقی رہے گی۔

