ایک عظیم انسان کی لازوال جدوجہد کو سلام

نصرالد بلوچ

کچھ شخصیات صرف اپنے خاندان تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے کردار، ہمت اور جدوجہد کے باعث ایک تاریخ بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک باہمت اور عظیم شخصیت مرحوم حاجی داد محمد تھے۔ وہ ایک نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور باوقار انسان تھے جن کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ لوگوں سے محبت سے ملنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور مظلوم کے لیے آواز بلند کرنا ان کی فطرت کا حصہ تھا۔
مگر ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ان کے چھوٹے بھائی علی اصغر کی گمشدگی تھا۔ یہ ایسا درد تھا جس نے ان کے دل کو کبھی سکون سے جینے نہ دیا۔ اس غم کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے بھائی کی تلاش کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ وہ کبھی کسی سرکاری دفتر کے دروازے پر دستک دیتے تو کبھی کسی دوسرے ادارے کا رخ کرتے۔ وہ مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور دل میں یہی امید رکھتے رہے کہ ایک دن ان کے بھائی کا سراغ ضرور مل جائے گا۔
مرحوم حاجی داد محمد نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر سب سے پہلے مضبوط آواز بلند کی۔ اس وقت جب بہت سے لوگ خوف اور مایوسی کی وجہ سے خاموش تھے، انہوں نے جرأت اور حوصلے کے ساتھ سچ کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کی یہ آواز جلد ہی ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی اور لوگوں نے ان کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا تاکہ اس سنگین انسانی مسئلے کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
انہوں نے اس جدوجہد کو صرف احتجاج تک محدود نہیں رکھا بلکہ طویل عرصے تک احتجاجی کیمپ میں بیٹھ کر اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ وہ تقریباً ایک سال تک بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود رہے تاکہ حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں کو جھنجھوڑا جا سکے اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے درد کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ ان کی یہ جدوجہد صرف اپنے بھائی کے لیے نہیں بلکہ ان تمام خاندانوں کے لیے تھی جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں اور جو انصاف کے منتظر ہیں۔
ان کی مسلسل قربانیوں اور بے مثال استقامت نے ایک ایسی اجتماعی آواز کو جنم دیا جس نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں ایک ایسی تنظیم وجود میں آئی جو آج بھی ان مظلوم خاندانوں کی نمائندگی کر رہی ہے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مگر افسوس کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ان کے بھائی علی اصغر کی بازیابی کا خواب ان کی آنکھوں میں ہی رہ گیا۔ یہ درد ان کے دل میں ایک ایسی کسک بن کر رہا جو آخر تک ان کے ساتھ رہی۔
8 مارچ 2026 کو مرحوم حاجی داد محمد ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ اپنے پیچھے جدوجہد، حوصلے، قربانی اور سچائی کی ایک ایسی داستان چھوڑ گئے جو ہمیشہ مظلوموں کے لیے امید اور ہمت کا چراغ بنی رہے گی۔
آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی آواز، ان کی جدوجہد اور ان کی قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی کے لیے آواز اٹھائی بلکہ ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لیے امید، حوصلے اور استقامت کی ایک روشن مثال قائم کی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم حاجی داد محمد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں