ولادتِ کعبہ سے محرابِ شہادت تک ،مولائے کائنات حضرت علیؑ کی عظمت

تحریر: دینی سکالر الحاج احمد علی سعیدی

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی حیاتِ مبارکہ محض ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ان ہی عظیم ہستیوں میں مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا نام نہایت نمایاں ہے۔ آپ علیہ السلام وہ منفرد شخصیت ہیں جن کی ولادت بھی خانۂ کعبہ میں ہوئی اور شہادت بھی محرابِ عبادت میں نصیب ہوئی۔ گویا آغاز بھی بیت اللہ سے اور انجام بھی مسجد کے سجدے میں ہوا۔
حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ۱۳ رجب بروز جمعہ خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ یہ وہ عظیم فضیلت ہے جس کا اعتراف محدثین، مورخین اور سیرت نگاروں نے کیا ہے۔ آپ علیہ السلام کے والد سیدالبطحا حضرت ابو طالب علیہ السلام تھے، جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش اور حفاظت میں اپنی پوری زندگی صرف کر دی۔ آپ علیہ السلام کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد تھیں جو تقویٰ، ایمان اور شرافت میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔
حضرت علی علیہ السلام کو بچپن ہی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوشِ تربیت نصیب ہوئی۔ جب آپ علیہ السلام کی عمر چھ برس ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اپنے گھر منتقل کر لیا تاکہ براہِ راست اپنی نگرانی میں آپ کی تربیت فرما سکیں۔ یوں حضرت علی علیہ السلام نے بچپن سے ہی نبوت کے گھرانے میں پرورش پائی اور اخلاقِ نبوی کو قریب سے دیکھا اور سیکھا۔
بعثتِ نبوی کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم باب شروع ہوتا ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ علیہ السلام سب سے پہلے نوجوان تھے۔ یہ اعزاز اس قدر عظیم تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن حوضِ کوثر پر سب سے پہلے مجھ سے وہ شخص ملاقات کرے گا جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور وہ علی ابن ابی طالب ہیں۔
دعوتِ ذوالعشیرہ کے موقع پر بھی حضرت علی علیہ السلام کی وفاداری اور جرات نمایاں ہوئی۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دی اور پوچھا کہ اس مشن میں کون میرا مددگار بنے گا تو پورا مجمع خاموش رہا۔ اس وقت کم عمر علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! میں آپ کا مددگار ہوں۔” اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اے علی! تم میرے بھائی اور میرے مددگار ہو۔”
حضرت علی علیہ السلام کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ آپ کاتبِ وحی تھے۔ قرآن کریم کی آیات کی کتابت کے ساتھ ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط، معاہدات اور اہم دستاویزات بھی آپ ہی تحریر کرتے تھے۔ صلح حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ بھی آپ ہی کے دست مبارک سے لکھا گیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کی رات حضرت علی علیہ السلام کی قربانی تاریخ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔ جب کفار مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تو حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بسترِ رسول پر لیٹ کر دشمنوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ یہ واقعہ “لیلة المبیت” کے نام سے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
میدانِ جہاد میں حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت اور بہادری اپنی مثال آپ ہے۔ بدر، احد، خندق اور خیبر جیسے معرکوں میں آپ کی جرات نے اسلام کے دشمنوں کے حوصلے پست کر دیے۔ جنگِ خندق میں عمرو بن عبدود جیسے نامور پہلوان کو شکست دینا اور جنگِ خیبر میں مرحب کو قتل کرنا آپ کی شجاعت کی روشن مثالیں ہیں۔ خیبر کے قلعے کا دروازہ اکھاڑ کر مسلمانوں کے لیے فتح کی راہ ہموار کرنا تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے آپ کو “فاتح خیبر” کے لقب سے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت صرف شجاعت تک محدود نہیں تھی بلکہ علم، عبادت اور تقویٰ میں بھی آپ کا مقام بلند تھا۔ قرآن کریم کی آیت تطہیر اہل بیت کی طہارت کا اعلان کرتی ہے اور حضرت علی علیہ السلام اس مقدس خاندان کا اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح واقعۂ مباہلہ میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہونے والی شخصیات میں حضرت علی علیہ السلام نمایاں تھے۔
آخرکار وہ لمحہ بھی آیا جب حق و صداقت کا یہ عظیم علمبردار محرابِ عبادت میں شہادت کے منصب پر فائز ہوا۔ ۱۹ رمضان کو مسجد کوفہ میں نماز فجر کے دوران ایک بدبخت نے زہر آلود تلوار سے حملہ کیا۔ ضرب لگنے پر حضرت علی علیہ السلام کے لبوں سے یہ تاریخی الفاظ نکلے:
“فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَة”
یعنی ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔
دو دن بعد ۲۱ رمضان کو یہ عظیم ہستی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں یہ منفرد سعادت نصیب ہوئی کہ ولادت کعبہ میں اور شہادت مسجد میں ہوئی۔
واقعی یہ شعر حضرت علی علیہ السلام کی زندگی پر صادق آتا ہے:
کسے را نہ شد ایں سعادت
بکعبہ ولادت، بمسجد شہادت

اپنا تبصرہ بھیجیں