افتخار احمد سندھو
اسرائیل اور امریکہ کی ایران پربمباری سے پتا نہیں کتنے لوگ مر رہے ہیں لیکن پاکستان کی حکومت کی طرف سے غریب عوام پر گرائے گئے پٹرول بم سے لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں۔ لوگوں کو اس بات کی فکر کھائے جا رہی ہے کہ ان کا گھر کیسے چلے گا۔ یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اگر حکمرانوں کو عوام کی مشکلات کا ذرہ بھر احساس ہوتا تو یہ حکومت اس طرح کے فیصلے ہرگز نہ کرتی۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف‘ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کی یہ بات ببانگ دہل کہتے رہے ہیں کہ اگر بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھیں وزیراعظم چور ہے۔ ایک ہفتہ قبل انہی کی حکومت نے دو چار‘ دس روپے نہیں بلکہ پچپن روپے کا اضافہ کرکے عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکا ڈالا۔ پٹرول پمپس پر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھ کر لگتا تھا کہ جنگ ایران میں نہیں پاکستان میں چل رہی ہے۔ ایرانی جنگ بھی لڑ رہے ہیں اور وہاں بلیک مارکیٹنگ ہے‘ نہ منافع خوری‘ نہ ہی ذخیرہ اندوزی۔ یہ دھندا ہمارے ہاں جاری ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے ایک ایسا طوفان ہے جو اس کی روزمرہ زندگی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے‘ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں‘ یوں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے جس میں عام آدمی پِس کر رہ جاتا ہے۔ ماہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے حکومت نے مہنگائی سے پریشان عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ روزگار رک گئے ہیں‘ مزدور گھر بیٹھ گئے ہیں‘ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہیں وہی پرانی ہیں۔ حکومت بتائے کہ مجبور عوام ان کی نااہلی اور نالائقی کا بوجھ مزید کیسے برداشت کریں؟ ایک جھٹکے میں پٹرول اور ڈیزل 55‘ 55 روپے فی لیٹر مہنگے۔ فیصلہ چند منٹ میں ہو جاتا ہے مگر اس کا بوجھ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ ہر بار وہی کہانی‘ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں‘ جنگ ہو رہی ہے‘ حالات غیر معمولی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ریلیف اتنی تیزی سے کیوں نہیں آتا؟ ایک لیٹر پٹرول کی قیمت میں پہلے ہی کسٹم ڈیوٹی‘ پٹرولیم لیوی‘ کلائمیٹ لیوی‘ کمپنی اور ڈیلر مارجن شامل ہیں۔ یعنی قیمت کا بڑا حصہ ٹیکسوں پر کھڑا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ ”مشکل فیصلہ‘‘ ہے۔ مشکل فیصلہ عوام کے لیے کیوں؟ حکومت کے اخراجات میں کمی کیوں نہیں؟ وفود بڑھتے جا رہے ہیں‘ وزرا کی فوج موجود ہے‘ بیرونِ ملک دورے جاری ہیں مگر قربانی ہمیشہ عوام ہی دیں۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی چلانا ہی مشکل نہیں ہوتا‘ ٹرانسپورٹ مہنگی‘ سبزی مہنگی‘ آٹا مہنگا‘ ہر چیز مہنگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا معیشت صرف عوام کی جیب سے ہی چلنی ہے؟ کرپشن‘ نااہلی اور کمزور پالیسیوں کا بوجھ آخر کب تک عوام اٹھائیں گے؟ ریاست کا کام عوام کوتکلیف کے بجائے ریلیف دینا ہوتا ہے‘ نہ کہ ہر بحران کا حل قیمتیں بڑھانا۔ پھر وہی ہوا‘ فیصلہ اوپر‘ بوجھ نیچے۔ حکمرانوں کو تو پٹرول فری میں ملتا ہے‘ اور عوام سے توقع یہ کہ وہ یہ مشکل فیصلہ قبول کریں اور خاموش رہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے چین 40 فیصد‘ بھارت 80 فیصد اور جاپان 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے۔ جنگی صورتحال میں آبنائے ہرمز بند ہو جانے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر ضرور فرق پڑا ہے لیکن مذکورہ ممالک نے ایک پیسہ بھی تیل کی قیمتوں پر نہیں بڑھایا جبکہ پاکستان کو سعودی عرب متبادل راستوں سے تیل کی فراہمی کی یقین دہانی کروا چکا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے پاس سابقہ قیمتوں کا خریدا ہوا تقریباً 28 دن کا سٹاک موجود ہے ‘جس کی مقدار ایک کروڑ 14 لاکھ ٹن ہے۔ اس کو اگر فی لیٹر 55 روپے اضافے کے ساتھ ضرب دیا جائے تو 846 ارب روپے یعنی سیدھا سیدھا تین ارب ڈالر کا ڈاکا اس قوم کی جیب پر ڈال دیا گیا۔ 28 دن میں تین ارب ڈالر‘ ایک ایسا ڈاکا جس کی کوئی مناسب توجیہ اس حکومت کے پاس نہیں۔ کُل ملا کر اسحاق ڈار یہی کہہ پائے کہ جی وزیراعظم صاحب تیل کی بڑھتی قیمتوں سے شدید پریشان ہیں‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اعداد وشمار کے جادوگروں نے دنیا میں شدید بدامنی کے حالات میں موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھایا ہے۔
زیادہ دور نہ جائیں! بھارت میں ایندھن کے ذخائر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی ریٹیل قیمتیں بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی آئل ریفائننگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہ ینبع سے تیل کے کچھ کارگو خریدنے کی بکنگ کر لی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے امریکہ سے خصوصی اجازت ملنے کے بعد روس سے بھی تیل خریدا ہے۔ اگر روس بھارت کو ایل این جی کی پیشکش کرتا ہے تو بھارت اس کی خریداری پر بھی یقینا غور کر سکتا ہے‘ لیکن ہمارے حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے ہوئے ہیں اور تیل کی قیمت میں اضافہ ان کے نزدیک واحد حل ہے۔ جب بھی کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ درپیش ہوتا ہے سب سے پہلے ہم بچوں کے سکول بند کر دیتے ہیں۔ حیرت ہے کہ جو جنگ لڑ رہے ہیں اُن کے ملکوں میں سکول کھلے ہیں اور جو صرف جنگ دیکھ رہے ہیں‘ ان کے ہاں سکول بند ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کا ایک منہ زور طوفان آیا ہوا ہے۔ ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور تو اور عوامی ٹرانسپورٹ‘ پاکستان ریلویز نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اکانومی کلاس کے کرایوں میں پانچ فیصد‘ اے سی کلاسز کے کرایوں میں 10 فیصد جبکہ مال گاڑیوں کے کرایوں میں 20 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ 9 مارچ سے اضافے کا اطلاق تمام مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کے کرایوں پرکیا گیا ہے۔ عید پر اپنے گھروں کو جانے والے پردیسوں کو عید کی خوشیوں سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ ٹرین نسبتاً سستی سواری تھی‘ اس کے کرائے میں اضافہ کرکے حکومت نے عوام کی یہ سہولت بھی چھین لی۔ پٹرول مہنگا کرنے کے بعد ٹرین کے کرایوں میں اضافہ ہرگز‘ ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو عوام کا کوئی احساس نہیں‘ اور غریب عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ اب ایک بار پھر‘ آج یا کل پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت نے پندرہ دن کے بجائے اب سات دن بعد تیل کی قیمتوں کا جائزہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اللہ ہی خیر کرے! حکومت کی طرف سے تو غریب عوام پر رحم کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ بقول ساغر صدیقی:
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
Load/Hide Comments

