سیزر کو کس نے قتل کیا ؟

رؤف کلاسرا
یہ سوال ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی پوچھا جاتا ہے اور جواب ملتا ہے اُس کے بیٹے جیسے دوست بروٹس نے ساتھیوں سمیت اسے قتل کیا تھا۔ بروٹس اس کی داشتہ کا بیٹا تھا اور سیزر اُسے بیٹا ہی سمجھتا تھا۔
بروٹس کا نام ایک طعنے کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔کسی کو ان تین چار دیگر سازشیوں کے نام کا علم نہیں ہے جنہوں نے بروٹس کو اپنے باپ جیسے دوست کے خلاف بغاوت پر اکسایا اور آخر خنجر اس سے مروایا ۔ میں بھی برسوں سے یہی سمجھتا آیا کہ سیزر کو بروٹس اور دیگر سینیٹرز نے قتل کیا تھا لیکن اب عمر کے بڑھنے اور مطالعہ کرنے سے سوچتا ہوں کہ نہیں سیزر کے قاتل بروٹس یا وہ چند سازشی سینیٹرز نہیں تھے۔ تو پھر سیزر کو کس نے قتل کیا تھا؟ سب پوچھیں گے۔ مجھے زندگی میں جن چند تحریروں نے بے حد متاثر کیا ہے اور برسوں گزرنے کے بعد بھی ان کا اثر کم نہیں ہوتا ان میں شیکسپیئر کا ڈرامہ جولیس سیزر ٹاپ پر ہے۔اگرچہ یونانی ڈرامہ نگار سوفوکلیزکے ڈرامے بھی کلاسک اور کمال ہیں خصوصا ً ایڈی پس کنگ‘ جس میں انسانی قسمت اور تقدیر کے کھیل کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا تھا۔لیکن جولیس سیزر کی اپنی خوبصورتی ہے۔ جولیس سیزر سے بہتر محلاتی سازشوں‘ پاور گیم‘ سیاستدانوں کے کھیل‘ہجوم کے مزاج یا انسانوں پر خوف کے ہتھیار کا استعمال کہیں اور نہیں ملے گا۔جن لوگوں کو بھی سیاست اور سیاسی کرداروں سے دلچسپی ہے انہیں جولیس سیزر کو پڑھنا چاہیے بلکہ بار بار پڑھنا چاہیے۔ 1989ء میں ایک دن لیہ کالج کے سٹاف روم میں میرے انتہائی مہربان اور محسن پروفیسر ظفر حسین ظفر نے مجھے کہا تھا کہ کالج میں پہلی دفعہ بی اے انگلش لٹریچر آپشنل مضمون متعارف کرایا جارہا ہے تم اس میں داخلہ لے لو‘آگے ایم اے انگلش میں داخلے میں جو آسانی ہوگی سو ہوگی عمر بھر کیلئے بھی آسانی ہو جائے گی کہ اس ملک میں جس کو کچھ انگریزی کی سوجھ بوجھ ہو وہ دوسرے لفظوں میں بھوکا نہیں مرتا۔ میں نے اُن کی بات مان لی اور مضمون رکھ لیا۔میرے ہوسٹل روم میٹ اور دوست ذوالفقار سرگانی سمیت بارہ پندرہ دیگر لڑکوں نے بھی شوق شوق میں رکھ لیا۔ کچھ دنوں کے بعد خالد دستی اور میں رہ گئے باقی سب چھوڑ گئے کہ کون انگلش ڈراموں‘ ناول اور شاعری کی سات بکس پڑھے۔ ذوالفقار یہ کہہ کر چھوڑ گیا کہ پہلے ہی دو سو نمبرز کی لازمی انگریزی کے لالے پڑے ہیں۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتا کہ چھوڑو کس چکر میں پڑ گئے ہو۔آخر ہمارے تیسرے روم میٹ کبریا خان سرگانی نے میری جان چھڑائی اور کہا: ذوالفقار اسے شوق ہے تو کرنے دو‘ پڑھنا اس نے ہے تنگ تم ہورہے ہو۔ آج بھی ذوالفقار سے لیہ جا کر ملتا ہوں تو یہ واقعہ سنا کر شرمندہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے کہ تم 37سال بعد بھی نہیں بھولے۔ خیر ہمیں لٹریچر پڑھانے والے استاد بہت اعلیٰ ملے جن میں جی ایم صاحب‘بہادر خان ڈلو صاحب اورشبیر نیر صاحب شامل تھے۔ انہوں نے پوری محنت سے پڑھایا۔ خیر جہاں باقی انگریزی ادیبوں‘ ڈرامہ نگاروں اور شاعروں سے تعارف ہوا وہیں شیکسپیئر کے جولیس سیزر اورMuch Ado About Nothing جیسے دو ڈرامے بھی پڑھنے کو ملے۔ جولیس سیزر جس محبت اور ڈوب کر جی ایم صاحب نے پڑھایا ویسا کبھی کسی نے نہیں پڑھایا ہو گا۔ آگے صرف دو طالب علم بیٹھے ہوتے تھے لیکن ہمارے استاد اتنی اچھی تیاری کے ساتھ آتے اور ایک ایک چیز سمجھاتے کہ لگتا تھا وہ پچاس ساٹھ کی کلاس کو پڑھا رہے ہیں۔ جی ایم صاحب کی جو بات مجھے نہیں بھولتی وہ ان کا جولیس سیزر پڑھاتے ہوئے بروٹس سے ناراض ہونا تھا۔ وہ اکثر پڑھاتے پڑھاتے بروٹس کا ذکر لے آتے اور اپنے مخصوص انداز میں سوکھے ہونٹوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے عینک کے اوپر سے ہمیں دیکھتے ہوئے کافی دکھی ہوتے کہ بروٹس نے کیوں سیزر کو قتل کیا۔ وہ سازشیوں کی باتوں میں کیوں آیا۔ سیزر تو اسے اپنا بیٹا سمجھتا تھا۔ وہ تو اس کا دوست تھا۔ ہم بھی یہی سمجھتے تھے کہ بروٹس نے اپنے باپ جیسے دوست کے ساتھ غلط کیا ۔ کوئی وجہ نہیں بنتی تھی کہ وہ سازشیوں کی باتوں میں آجاتا اور خنجر مار دیتا‘جس پر سیزر کا وہ مشہورِ زمانہ ڈائیلاگ ضرب المثل بن چکا ہے کہ بروٹس تم بھی…؟
آج جی ایم صاحب زندہ ہوتے تو میں ان کے پاس حاضر ہوتا اور ان سے جولیس سیزر دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کرتا اور شاید کچھ پوائنٹس ان کے گوش گزار کرتا کہ آپ سیزر اور بروٹس کے تعلق کو اب ایک نئے انداز سے دیکھیں۔ کیا سیزر ہی کہیں اس کا ذمہ دار تو نہیں تھا کہ خود کو قتل کرا بیٹھا؟ یقینا یہ بات بڑی عجیب سی لگے گی کہ بھلا کون خود کو قتل کراتا ہے؟ آپ میں سے جن لوگوں نے میکاولی کی کتاب ”دی پرنس ‘‘پڑھ رکھی ہے انہیں یاد ہوگا کہ وہ شہزادے کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اگر تمہیں یہ مسئلہ درپیش ہو کہ عوام تم سے محبت کرتے ہوں یا تم سے ڈرتے ہوں تو پھر تمہیں انہیں ڈرا کر رکھنا چاہیے۔ کسی حکمران کا خوف لوگوں کو دھوکا‘ غداری یا بغاوت سے دور رکھتا ہے۔ لیکن اگر آپ انسانی تاریخ کو دیکھیں تو اکثر بغاوتوں یا قتل و غارت کے پیچھے ان کے قاتلوں کا خوف کھڑا ہوتا تھا۔ سیزر کو ہی دیکھ لیں کہ اُس کے قتل کی وجہ اس کے قریبی دوستوں کا خوف ہی تھا جو سیزر نے اُن کے اندر پیدا کر دیا تھا۔ سارے لوگ جنہوں نے سازش تیار کی اور قتل کیا وہ سب سیزر کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ تھے۔ سیزر اس وقت گال کا علاقہ فتح کر کے روم لوٹا تھا۔ رومن لوگ دیوانہ وار اُس کے استقبال کو دوڑے اور وہ راتوں رات رومن عوام کا نیا ہیرو بن گیا۔ اُن دنوں گال کو فتح کرنا ہر رومن کا خواب تھا اور یہ خواب برسوں بعد سیزر نے پورا کیا تھا۔ لیکن سیزر نے گال پر چڑھائی سینیٹرز کی منظوری کے بغیر کی تھی جس پر سینیٹرز اُس کی واپسی پر شاندار استقبال سے ڈر گئے کہ اب سیزر ایک ڈکٹیٹر بن جائے گا۔ انہیں خوف ہوا کہ سیزر رومن ری پبلک کو ختم کردے گا اور ان سب کی زندگیاں بھی خطرے میں ہوں گی۔ یہ بھی خبر پھیل گئی کہ مارک انتھونی اگلے دن سینیٹ میں سیزر کی تاج پوشی کرنے والا تھا اور یوں رومن ری پبلک سے آمریت بن جائے گی۔ دراصل یہ سیزر کی مقبولیت کا خوف ہی تھا جس نے بروٹس کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ دوست اہم تھا یا روم۔ اگر سیزر بچ گیا تو روم نہیں بچے گا۔ اس لیے تو اس نے سیزر کی لاش پر کھڑے ہو کر وہ تاریخی جملہ کہا تھا:Not that I loved caesar less but that I loved Rome more۔ یوں سیزر کا سینیٹ کو بائی پاس کرنا‘ گال کی فتح ‘ عوام میں مقبولیت اور پھر تاج پوشی نے اسے اچانک ایک ایسا خطرہ بنا دیا کہ ان سینیٹرز کو فیصلہ کرنا تھا کہ سیزر نے زندہ رہنا ہے یا روم یا انہوں نے ؟ یہ وہ خوف تھا جو سیزر کے مخالفوں کے اندر پیدا ہوا یا دوسرے لفظوں میں سیزر نے اپنے ایکشن یا شخصیت کی وجہ سے پیدا کر دیاکہ اب فیصلہ ہونا تھا کہ سیزر رہے گا یا وہ ریاست رہے گی۔
مجھے نہیں پتہ جی ایم صاحب میری اس اپروچ سے متفق ہوتے کہ جب جب طاقتور انسان‘سیاستدان‘ حکمران‘ فوجی جنرل یا ملک بھی دوسروں کے دلوں میں اپنا خوف اس حد تک پیدا کر دیں کہ دوسروں کو اپنی زندگیاں خطرے میں لگیں تو سمجھ لیں وہ سیزر کی طرح موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ اپنے مخالفوں کو اتنا ڈرا نہ دیں کہ ایک دن وہ سب جان کی بازی لگا کر آپ کی ہی جان لے لیں۔سیزر کی دہشت‘ مقبولیت اور خوف نے اس کی جان لی تھی۔ اپنی دہشت اور خوف کا خنجر اس نے خود ہی اپنے مخالفوں کو تھمایا تھا جس سے وہ قتل ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں