اداریہ
پاکستان کے جنوب مغربی ساحل پر واقع شہر گوادر میں تعمیر کی جانے والی گوادر پورٹ کو ایک دور میں پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ بندرگاہ جغرافیائی اعتبار سے ایسی اہم جگہ پر واقع ہے جہاں سے مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت کو نئی راہیں مل سکتی ہیں۔ خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے آغاز کے بعد گوادر کو خطے کا ایک بڑا تجارتی مرکز بنانے کی امیدیں اور بھی مضبوط ہو گئیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود گوادر پورٹ ابھی تک اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق فعال نہیں ہو سکی۔
اس صورتحال کی پہلی بڑی وجہ بنیادی ڈھانچے کی سست رفتار ترقی ہے۔ ایک کامیاب بندرگاہ کے لیے ضروری ہے کہ اسے ملک کے صنعتی اور تجارتی مراکز سے مضبوط سڑکوں، ریلویز اور جدید لاجسٹک نظام کے ذریعے جوڑا جائے۔ بدقسمتی سے گوادر کو ملک کے دیگر بڑے شہروں سے مکمل طور پر منسلک کرنے کا عمل ابھی تک ادھورا ہے۔ جب تک سامان کی ترسیل تیز، محفوظ اور کم خرچ نہ ہو، بندرگاہ کی افادیت محدود ہی رہتی ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ مقامی آبادی کے تحفظات ہیں۔ گوادر کے باسی طویل عرصے سے پینے کے صاف پانی، روزگار اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر کسی بڑے منصوبے کے ثمرات مقامی لوگوں تک نہ پہنچیں تو احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے، جو بالآخر منصوبے کے خلاف مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مقامی آبادی کو ترقی کے عمل میں حقیقی شریک بنایا جائے۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں سکیورٹی کے مسائل اور سیاسی بے یقینی بھی ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ سرمایہ کاری ہمیشہ ایسے ماحول کی متقاضی ہوتی ہے جہاں استحکام، اعتماد اور قانون کی بالادستی موجود ہو۔ جب تک سرمایہ کاروں کو محفوظ اور سازگار ماحول میسر نہیں آئے گا، بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کا فروغ مشکل رہے گا۔
ادارتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ منصوبے کی صلاحیت نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ گوادر پورٹ اب بھی ملک کے لیے بے شمار معاشی امکانات رکھتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت بنیادی ڈھانچے کی تکمیل، مقامی مسائل کے حل اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے۔ اگر سنجیدگی اور دانشمندی سے اقدامات کیے جائیں تو گوادر پورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی تجارت کے لیے ایک اہم مرکز بن سکتی ہے۔
گوادر پورٹ کی کامیابی دراصل ملک کی معاشی خودمختاری اور علاقائی روابط کے نئے باب کا آغاز ہو سکتی ہے بشرطیکہ خوابوں کو عملی حکمتِ عملی اور مستقل مزاجی کے ساتھ حقیقت کا روپ دیا جائے۔
Load/Hide Comments

