پاکستان کے سکیورٹی حکام نے جمعے کو بتایا کہ پاکستانی فوج نے جاری آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے ہیں۔
حکام کے مطابق 12 اور 13 مارچ کی شب چار عسکریت پسند ٹھکانے نشانہ بنائے گئے، جن میں افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک عسکری تنصیبات شامل تھیں۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر، ٹراوو عسکریت پسند کیمپ اور قندھار ائر فیلڈ پر آئل سٹوریج کی سہولیات کے ساتھ ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر تباہ کیا گیا۔
ایک اور فضائی حملے میں پاکتیا صوبے میں شیرینا عسکریت پسند کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل آج صبح افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب فضائی کارروائی میں کام ایئر کے فیول ڈیپو کو نشانہ بنایا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ کام ایئر کے جس نجی فیول ڈیپو کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا وہاں سے افغانستان میں نجی ائیر لائنز اور اقوام متحدہ کے طیاروں کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’اس سے پہلے بھی حاجی خانزادہ کے نام سے ایک تاجر کی نجی تیل کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔‘
د تیرو تجاوزونو او جنایاتو په دوام یوځل بیا پاکستاني پوځي رژیم په کابل، کندهار، پکتیا، پکتیکااو ځینو نورو برخو کې بمبارد وکړ، په ځینو ځایونو کې یې ملکي کورونه ویشتي چې ښځې او ماشومان یې شهیدان کړل او په ځينو ځایونو کې یې تشې دښتې او خالي ځایونه په نښه کړې دي.
۲/۱— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) March 13, 2026
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔
جواب میں افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان چین کی ثالثی کی کوششوں نے حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد اور بیجنگ افغانستان کے معاملے پر ’مکالمے کے عمل‘ میں مصروف ہیں۔
طالبان کی حکومت نے جمعرات کو کہا تھا کہ مشرقی افغانستان میں مبینہ طور پر پاکستانی توپ خانے اور مارٹر فائر سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد جان سے گئے ہیں۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر مزید کہا کہ پاکستان فوج نے کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا سمیت دیگر علاقوں پر بھی بمباری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں کچھ مقامات پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے شہید ہوئے، جبکہ بعض جگہوں پر غیر آباد مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘
د کابل ښار د ۲۱مې حوزې اړوند د ۲۴م ګذر په سیمه کې د پاکستاني رژیم د ړانده بمبارۍ له امله ملکي کورونه په نښه شوي دي، چې په پایله کې یې د ښځو او ماشومانو په ګډون ۴ تنه شهیدان او ۱۵ نور ټپیان شوي دي.
کابل پولیس ترجمان خالد زدران کے مطابق کابل میں 24ویں گزرگاہ کے علاقے میں ’پاکستانی حکومت کی اندھا دھند بمباری میں شہری گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔
’اس حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت چار افراد جان سے گئے جبکہ 15 دیگر زخمی ہو گئے۔‘
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بدھ کو ایکس پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ ’پاکستانی حملوں سے اب تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے مجموعی طور پر 641 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔‘
اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاکستان نے ’مضبوطی کے ساتھ ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں، اس اصول کے ساتھ کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔‘

