ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا: مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 13ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس


12ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


 

رات 10 بج کر 30 منٹ پر: شیبہ آئل فیلڈ کی طرف جانے والے ڈرون کو روکا، سعودی وزارت دفاع 

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جمعرات کو شیبہ آئل فیلڈ کی طرف جانے والے تین ڈرونز کو روکا گیا ہے۔

خلیجی ریاست کی وزارت دفاع نے ایکس پر ایک پوسٹ کہا کہ ’شیبہ فیلڈ کی طرف جانے والی بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیوں (ڈرونز) کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘

اس سے قبل وزارت دفاع نے ایک الگ پوسٹ میں کہا تھا کہ ایک ہی فیلڈ کی طرف جانے والے دو ڈرونز اسی طرح تباہ کیے گئے تھے۔

سعودی عرب نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ اس نے اس آئل فیلڈ کے خلاف کئی ڈرونز حملوں کو روکا ہے، جو ملک کی تیل کی پیداوار کے لیے انتہائی اہم ہے۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، اس کے سپریم لیڈر کی ہلاکت اور مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیلنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

شیبہ آئل فیلڈ متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے سعودی کمپنی آرامکو چلاتی ہے، جو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔


رات 10 بجے: پاکستانی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے آذربائیجانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر گفتگو کی

اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کی رات کہا ہے کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اپنے آذربائیجانی ہم منصب جیہون بیراموف سے بات کی ہے اور ’تازہ ترین علاقائی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور‘ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

 


رات 8 بج کر 30 منٹ پر: ایران نے آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگیں نہیں بچھائیں، ایرانی نائب وزیر خارجہ

ایرانی نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نہیں بچھا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی افواج نے آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے والے 28 ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

ماجد تخت روانچی نے تہران میں اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’ہرگز نہیں، یہ سچ نہیں ہے۔‘

 انہوں نے کہا کہ ’ایران اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ مستقبل میں اس پر دوبارہ جنگ مسلط نہ کی جائے۔‘

تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایران پر دوبارہ جنگ مسلط نہیں کی جائے گی۔

’جب گذشتہ جون میں جنگ شروع ہوئی تو 12 دن کے بعد نام نہاد دشمنی ختم کر دی گئی۔ لیکن آٹھ یا نو ماہ کے بعد، وہ دوبارہ منظم ہوئے اور انہوں نے دوبارہ جنگ کی۔‘  

نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے کچھ ممالک کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​کے دوران مؤثر طریقے سے بند رہی تھی۔

تخت روانچی نے کہا، ’کچھ ممالک پہلے ہی ہم سے آبنائے گزرنے کے بارے میں بات کر چکے ہیں اور ہم نے ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک ایران کا تعلق ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جو ممالک جارحیت میں شامل ہوئے، انہیں آبنائے ہرمز کے محفوظ راستے سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔‘


رات 8 بجے: امریکی بحری جہاز میں آگ لگنے سے عملے کے دو ارکان زخمی

امریکی بحریہ نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جو اس وقت ایران کے خلاف جنگ کے لیے تعینات دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ہے، کے عملے دو ارکان جمعرات کو لانڈری روم میں آگ لگنے سے زخمی ہو گئے۔

اے ایف پی کے مطابق یو ایس نیول فورسز سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دو ملاح اس وقت غیر جان لیوا زخموں کا طبی علاج کر رہے ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔‘

بحریہ نے کہا کہ آگ، ’جہاز کی مین لانڈری میں‘ شروع ہوئی، ’جنگ سے متعلق نہیں تھی اور اس پر قابو پالیا گیا ہے۔‘

بحریہ نے کہا کہ فورڈ آپریشن ایپک فیوری کے ایک حصے کے طور پر اب بحیرہ احمر میں ہے۔ یہ نام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی بمباری کے حملے کو دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاز کے پروپلشن پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے، اور طیارہ بردار بحری جہاز مکمل طور پر کام کر رہا ہے۔‘

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملاحوں کے غلط استعمال کے نتیجے میں فورڈ کے بیت الخلا میں خرابی اور رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔


شام 6 بج کر 50 منٹ: آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے، ایرانی سپریم لیڈر کا پہلا پیغام 

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کی شام کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے۔

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک آلے کے طور پر بند رہنا چاہیے۔

ہاتھ سے لکھے ہوئے اپنے پہلے عوامی پیغام میں، جسے جمعرات کی شام سرکاری ٹی وی کے نشریاتی ادارے پر پڑھا گیا، خامنہ ای نے یہ مزید کہا کہ خطے میں تمام امریکی اڈوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ان پر حملہ کیا جائے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ تہران ’اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اتحاد اور گرمجوشی، خوشگوار باہمی تعلقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ خطے میں تسلط یا استعمار قائم کرنا نہیں چاہتا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​کے دوران زخمی ہونے والوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’موجودہ صورت حال کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے کچھ مالی معاوضے کی پیشکش کر کے نمٹا جانا چاہیے۔‘


شام 6 بجے: ایران کے نئے سپریم لیڈر پہلا پیغام جاری کریں گے: سرکاری ٹیلی گرام

اے ایف پی کے مطابق، ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد اپنا پہلا پیغام ’چند لمحوں میں‘ جاری کریں گے۔

ان کے سرکاری ٹیلی گرام چینل نے یہ بتائے بغیر کہا کہ آیا یہ کوئی ریکارڈ شدہ پیغام یا تحریری بیان ہوگا۔

چینل نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پہلا پیغام چند لمحوں میں جاری کیا جائے گا۔

اس پیغام میں ’شہید رہبر انقلاب (علی خامنہ ای)، عوام، مسلح افواج، انتظامی اداروں، مزاحمتی محاذ کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک اور دشمنوں سے نمٹنے کے کردار اور فرائض‘ سے خطاب کیا جائے گا۔


شام 5 بج کر 40 منٹ پر: لبنان کے ٹوٹنے سے پہلے اسرائیل اس پر حملے روک دے، ترکی

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے جمعرات کو اسرائیل کی طرف سے پڑوسی ملک لبنان پر بمباری کو ’اس کے ٹوٹنے سے پہلے‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اپنے جرمن ہم منصب جوہان وڈے فل کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں کہا، ’(اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین) نتن یاہو کی حکومت خطے میں ہر بحران کے مرکز میں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل، توسیع پسندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، اپنی گندی جنگ کو لبنان میں لانے کے لیے موجودہ جنگ کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘

’اسرائیل کے حملوں کو لبنانی ریاست کے خاتمے سے پہلے ختم ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اس سے ’پورے خطہے‘ خاص طور پر پڑوسی ممالک پر گہرا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو ’بالکل ناقابل قبول‘ قرار دیا گیا ہے۔

لبنان گذشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اس وقت گھس گیا جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا۔

اسرائیل، جس نے 2024 کی جنگ بندی کے باوجود جنگ سے پہلے ہی لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے تھے، اس کے بعد سے ہوائی حملے شروع کیے ہیں اور سرحدی علاقوں میں زمینی فوج بھیج دی ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق اس تشدد میں 687 سے زائد افراد جان سے گئے ہیں، جب کہ 800,000 سے زائد افراد نے بے گھر ہونے کا اندراج کرایا ہے۔


سہ پہر چار بج کر 15 منٹ: امریکہ اور اسرائیل کے حملے، ایران میں 32 لاکھ لوگ بے گھر

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 32 لاکھ ایرانی بے گھر ہو چکے ہیں۔

یو این ایچ سی آر نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا یہ لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ اچانک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کئی نے بنیادی سہولیات تک رسائی کھو دی ہے۔

ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو بے گھری کی تعداد اور بڑھ سکتی ہے اور طبی، خوراک، پانی اور پناہ کے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔


سہ پہر 3 بج کر 45 منٹ پر: خلیجی جزیرے پر حملے کی صورت ایران تمام تحمل ترک کر دے گا، پارلیمنٹ سپیکر

ایران کی طاقتور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے خلیج میں اس کے کسی جزیرے پر حملہ کیا تو تہران ’تمام تحمل ترک کر دے گا۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں باقر غالب نے کہا کہ ’ایرانی جزیروں کی سرزمین کے خلاف کسی بھی جارحیت سے تمام تحمل کو پارہ پارہ ہو جائے گا۔ ہم تمام تحمل کو ترک کر دیں گے اور خلیج فارس کو حملہ آوروں کے خون سے دوڑائیں گے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ وہ کن جزیروں کا حوالہ دے رہا تھا، لیکن Axios کی ایک حالیہ رپورٹ میں امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے طور پر خارگ پر قبضہ کرنا میز پر تھا۔

 


دوپہر ایک بجے: دبئی کے مرکز میں دھماکوں کی آوازیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ دبئی کے مرکز میں دھماکے سنے گئے ہیں۔

اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ ایک رہائشی علاقے کے اوپر دھوئیں کی بادل دیکھے گئے ہیں۔


دوپہر 12 بج کر 15 منٹ: رواں سال یوم پاکستان  بیرونِ ملک سادگی سے منایا جائے گا

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ رواں سال 23 مارچ کو یوم پاکستان بیرونِ ملک تمام مشنز میں سادگی کے ساتھ منایا جائے گا، جو صرف روایتی پرچم کشائی کی تقریب تک محدود ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری اقدامات کی روشنی میں، اور مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے کے ان ممالک اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یومِ پاکستان کی استقبالیہ تقاریب منعقد نہیں کی جائیں گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان کو امید ہے کہ مکالمہ اور سفارت کاری غالب آئیں گے اور جلد ہی پورے خطے اور اس سے آگے امن، استحکام اور خوشحالی واپس آئے گی۔‘


صبح 11 بج کر 45 منٹ: خلیجی ممالک میں ڈرون حملوں کی نئی لہر، عمان میں تیل کے ذخائر نشانہ

خلیجی خطے میں آج مزید ڈرون حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں کے علاوہ بحرین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک دھوئیں کی رپورٹ سامنے آئی۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں چار بحرینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔

ادھر سعودی عرب کے وزارت دفاع کے مطابق دو ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کی تین کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔

کویت میں ڈرون نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔

عمان کے ساحلی شہر صلالہ میں حکام نے تصدیق کی کہ بندرگاہ پر موجود ایندھن کے ذخیرہ ٹینکس ڈرون حملوں میں متاثر ہوئے ہیں۔

عمان ان دنوں اُن راستوں میں شامل ہے جہاں سے وہ تیل منتقل کیا جاتا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزارنا ممکن نہیں ہوتا۔


صبح 10 بج کر 15 منٹ: روس اور پاکستان کے صدور سے رابطے میں ہوں: ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں امن اور استحکام کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس اور پاکستان کے صدور سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس جنگ جو صہیونی حکومت اور امریکہ نے شروع کی کے خاتمے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کے ناقابلِ تردید حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

’ہرجانے کی ادائیگی کی جائے، اور ایک مضبوط بین الاقوامی ضمانت دی جائے کہ ایسی جارحیت دوبارہ نہ ہو۔‘


صبح نو بج کر 10 منٹ: پاکستان کی جانب سے بحرین اور روس کی قرارداد کی حمایت

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے مطابق پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نےکہا کہ پاکستان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں سے دو پاکستانی جان سے گئے جب کہ ایران پر حملوں نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

سلامتی کونسل سے خطاب میں عاصم افتخار نے امید ظاہر کی کہ خلیجی ممالک کی سرزمین پر حملے فوری طور پر بند ہوں گے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک کو جنگ کے بدترین نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان ان کی حکومتوں اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان روسی فیڈریشن کی جانب سے پیش مسودہ قرارداد کو بھی مثبت نظر سے دیکھتا ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی قرارداد کا بنیادی مقصد فریقین پر زور دینا ہے کہ وہ فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں- یہ مؤقف پاکستان کے مجموعی مؤقف کے عین مطابق ہے۔


صبح 8 بج کر 55 منٹ: امریکہ کو ایران میں کام مکمل کرنا ہو گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران ’شکست کے دہانے‘ پر پہنچ چکا ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی افواج حملے اس حد تک بڑھا سکتی ہیں کہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا ’تقریباً ناممکن‘ ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے کہا کہ ’وہ تقریباً آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم تہران اور دوسری جگہوں کے ایسے حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں کہ ان کے لیے اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا، اور ہم یہ نہیں چاہتے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کو ایران میں ’کام مکمل کرنا‘ ہو گا، یہ بات انہوں نے اس کے چند گھنٹے بعد کہی جب انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے کیوں کہ واشنگٹن کے پاس نشانہ بنانے کے لیے اہداف ختم ہو گئے تھے۔

ٹرمپ نے کینٹکی کے شہر ہیبرون میں ایک خطاب کے دوران ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’ہم جلدی نہیں جانا چاہتے، ہے نا؟ ہمیں کام مکمل کرنا ہو گا، ٹھیک ہے؟‘

اپنا تبصرہ بھیجیں