مقابلہ بازی کا درست میدان،خوداحتسابی کی دعوت

تحریر:حافظ سید ذہین علی نجفی

قارئین محترم! انسانی فطرت میں ایک عجیب کشش پائی جاتی ہے۔آگے بڑھنے کی، دوسروں سے بہتر ہونے کی، اور برتری حاصل کرنے کی۔ یہی جذبہ انسان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے، مگر جب یہی جذبہ غلط رخ اختیار کر لے تو حسد، بغض، اور نفرت جیسے منفی جذبات کو جنم دیتا ہے۔ آج کا معاشرہ اسی بگڑی ہوئی مقابلہ بازی کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے، جہاں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصروف ہے، چاہے اس کے لیے اسے اخلاقیات کی حدود ہی کیوں نہ پار کرنی پڑیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مقابلہ بازی انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا میدان کیا ہونا چاہیے؟ کیا یہ دوڑ صرف مال و دولت، عہدے، شہرت اور ظاہری نمود و نمائش تک محدود ہونی چاہیے؟ یا پھر اس کا کوئی اعلیٰ اور بامقصد رخ بھی ہو سکتا ہے؟
اسلام اس فطری جذبے کو دبانے یا ختم کرنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک مثبت اور تعمیری سمت عطا کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ واضح ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ“پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاؤ”(سورۃ البقرہ: 148)یہ آیت انسان کو ایک عظیم اصول فراہم کرتی ہے کہ اگر تمہیں مقابلہ کرنا ہی ہے تو نیکیوں میں کرو۔ قرآن کہیں بھی یہ تعلیم نہیں دیتا کہ تم دنیاوی آسائشوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، بلکہ اس کے برعکس وہ انسان کو خیر، بھلائی، اور خدمت کے میدان میں سبقت لینے کی دعوت دیتا ہے۔
آج ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، وہاں مقابلہ بازی کا معیار بدل چکا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بہتر گھر، مہنگی گاڑیاں، اور اعلیٰ عہدے حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے، جہاں ہر کوئی اپنی زندگی کو دوسروں کے سامنے بہتر ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس دوڑ میں انسان نہ صرف اپنی روحانی اقدار کو بھول بیٹھتا ہے بلکہ دوسروں کی کامیابی پر حسد کرنے لگتا ہے۔اگر ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھیں تو اصل کامیابی کا معیار کچھ اور ہی ہے۔ وہ ہے تقویٰ، علم، اور نیک اعمال۔ یہی وہ میدان ہے جہاں مقابلہ بازی نہ صرف جائز ہے بلکہ قابلِ تحسین بھی ہے۔ اگر ایک شخص علم حاصل کرنے میں آگے بڑھتا ہے، دوسرا عبادت میں، تیسرا خدمتِ خلق میں —تو یہ وہ مقابلہ ہے جو معاشرے میں خیر اور بھلائی کو فروغ دیتا ہے۔روایاتِ معصومینؑ بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:“نیکی کے کاموں میں جلدی کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کل کیا پیش آ جائے۔”اسی طرح رسولِ خدا ﷺ نے بھی نیک اعمال میں سبقت لینے کی تلقین فرمائی ہے۔ یہ تعلیمات ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ وقت بہت قیمتی ہے اور اسے فضول مقابلہ بازی میں ضائع کرنے کے بجائے نیکی کے کاموں میں صرف کرنا چاہیے۔
یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نیتوں کا بھی محاسبہ کرے، کیونکہ بظاہر نیکی کے کام بھی اگر دکھاوے یا مقابلہ برائے نمود کے لیے ہوں تو ان کی اصل روح ختم ہو جاتی ہے۔ حقیقی مقابلہ وہی ہے جو خلوصِ نیت کے ساتھ ہو، جہاں مقصد صرف اللہ کی رضا ہو نہ کہ لوگوں کی تعریف حاصل کرنا۔ اگر ہم نیکیوں میں سبقت لے جانے کے ساتھ ساتھ اپنی نیت کو بھی خالص رکھیں تو یہی اعمال ہمارے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
مزید برآں، انسان کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ نیکی میں سبقت صرف بڑی یا نمایاں کاموں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ چھوٹے چھوٹے اعمال، جیسے کسی مسکین کی مدد، کسی کو اچھا مشورہ دینا، والدین کی خدمت، یا گھر کے اندر صلح و محبت قائم کرنا بھی نیکی کی دوڑ کا حصہ ہیں۔ یہ چھوٹے کام اگر خلوص کے ساتھ کیے جائیں تو بڑے اثرات مرتب کرتے ہیں اور معاشرے میں خیر و محبت کو فروغ دیتے ہیں۔
یہ سلسلہ انسان کی زندگی میں ایک مثبت نظام قائم کرتا ہے، جہاں ہر عمل ایک دوسرے کو بہتر بنانے اور روحانی ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔ اس طرح مقابلہ بازی حسد اور خود غرضی کا سبب نہیں بنتی بلکہ برائی کو کم کرنے اور بھلائی بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اور پھر انسان یہ سمجھ جائے کہ نیکی میں سبقت کا اصل مزہ اور فائدہ صرف اس کی آخرت کے لیے نہیں بلکہ اس کی شخصیت کی تعمیر اور معاشرے کی بہتری میں بھی مضمر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مقابلہ برائے خیر حقیقی معنوں میں انسان کو بلند کرتا ہے، اسے اخلاقی اور روحانی طاقت عطا کرتا ہے، اور دوسروں کے لیے بھی مثال قائم کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، نیکی میں سبقت کے لیے صبر اور استقامت بھی ضروری ہیں۔ ہر نیک عمل فوراً نتیجہ نہیں دیتا، اور بعض اوقات انسان کو مشکلات یا رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہی صبر اور ثابت قدمی انسان کو روحانی بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور اس کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
علاوہ ازیں، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں علم اور عمل دونوں میں بھی سبقت لے جائے۔ صرف نیک اعمال کرنا کافی نہیں، بلکہ علم حاصل کرنا اور اس علم کو عمل میں لانا بھی نیکی کی دوڑ کا حصہ ہے۔ ایک شخص جو علم حاصل کر کے دوسروں کی رہنمائی کرتا ہے یا معاشرتی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، وہ بھی اسی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی یہ دوڑ ایک عارضی حقیقت ہے۔ آج جو شخص دولت یا منصب میں آگے ہے، کل وہ بھی اسی مٹی میں دفن ہو جائے گا جہاں سب برابر ہو جاتے ہیں۔ لیکن نیکیوں کی دوڑ ایک ایسی دوڑ ہے جس کا اختتام قبر پر نہیں ہوتا بلکہ وہاں سے اس کا اصل آغاز ہوتا ہے۔
نیز، انسان کو یہ شعور رکھنا چاہیے کہ نیکی میں سبقت کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں روشنی پیدا کرتا ہے۔ جب ایک فرد نیک اعمال میں آگے بڑھتا ہے، دوسروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے اور انہیں بھی بھلائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیکی کی دوڑ میں سبقت نہ صرف ذاتی کامیابی ہے بلکہ اجتماعی فلاح و بہبود کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔نیز، نیکی میں سبقت لینے کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے دل میں عاجزی اور شکرگزاری بھی پیدا کرنی چاہیے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ اللہ کی رضا کے لیے ہے، اور اسی حقیقت سے اعمال کی قدر بڑھتی ہے۔ عاجزی اور شکرگزاری انسان کو غرور اور تکبر سے بچاتے ہیں اور نیک اعمال میں استقامت پیدا کرتے ہیں۔
موت کو ہر حال میں یاد رکھنے سے انسان کی زندگی میں نیکی کی اہمیت اور ضرورت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ محدود ہے اور ہر عمل کا حساب لینا ہے، تو وہ دنیاوی حرص و ہوس سے دور ہو کر اچھے اعمال میں اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔یہ یادداشت انسان کو یہ بھی سکھاتی ہے کہ مقابلہ بازی کا اصل میدان نیکی اور بھلائی ہے، کیونکہ دنیاوی دوڑ ایک دن ختم ہو جائے گی، مگر نیک اعمال کا صلہ قیامت میں ملے گا۔ موت کی یاد انسان کے دل میں عاجزی، محتاط رویہ، اور وقت کی قدر پیدا کرتی ہے، اور اسے فضول سرگرمیوں اور بری عادات سے بچاتی ہے۔اس طرح، موت کی یاد نہ صرف روحانی شعور بڑھاتی ہے بلکہ انسان کو نیک عمل میں سبقت لینے کی تحریک بھی دیتی ہے، اور زندگی کو ایک مثبت، مقصدی، اور بامعنی سمت عطا کرتی ہے۔آباؤاجداد کو دیکھ لیں تو انسان کو اپنی زندگی کی حقیقت اور نیکی کی اہمیت کا اندازہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ جو لوگ آج زندہ ہیں، ایک دن وہ بھی اسی مٹی میں دفن ہو جائیں گے جہاں ہمارے بزرگ آرام کر چکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مال، منصب، اور دنیاوی شہرت سب فنا ہو جاتے ہیں، اور انسان کی یاد صرف اس کے نیک اعمال سے باقی رہتی ہے۔
یہ حقیقت انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ مقابلہ بازی میں اصل میدان نیکی اور بھلائی ہے، کیونکہ دنیاوی دوڑ کا انجام قبر کے سامنے ختم ہو جاتا ہے، مگر نیکی کی دوڑ قبر کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ جب انسان اپنے آباؤاجداد کی زندگی اور ان کے اعمال کا جائزہ لیتا ہے تو اسے سمجھ آتا ہے کہ وہ کامیاب انسان ہے جو دوسروں کے لیے خیر اور بھلائی چھوڑ کر جائے، نہ کہ صرف دنیاوی اثاثے چھوڑے۔یہ شعور انسان کے دل میں عاجزی پیدا کرتا ہے اور نیکی میں سبقت لینے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ اس کی زندگی ایک مثبت اثر اور مثالی مثال کے طور پر باقی رہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے کتنے لوگ مرکربھی زندہ ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی میں نیک اعمال میں سبقت لیتا ہے۔چاہے وہ علم بانٹنا ہو، دوسروں کی مدد کرنا ہو، عبادت میں دل لگانا ہو، یا صدقہ و خیرات جاری رکھنا ہو—تو اس کے اثرات صرف اس پر نہیں رہتے بلکہ وہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے اعمال انسان کو نہ صرف روحانی بلندی دیتے ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔یہ حقیقت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان کی موت کے بعد بھی اس کی نیکی کے اثرات زندہ رہتے ہیں۔ جو لوگ علم حاصل کر کے دوسروں کی رہنمائی کرتے ہیں، جو لوگ صدقہ جاریہ کے ذریعے معاشرے میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں، وہ اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کے دلوں اور زندگیوں میں زندہ رہتے ہیں۔ اس لیے نیکی میں سبقت کی دوڑ صرف ذاتی فائدہ نہیں، بلکہ دوسروں کی بھلائی اور فلاح کا سبب بھی بنتی ہے۔
بحیثیت مجموعی، ہم ایک دوسرے سے بغض کیوں رکھتے ہیں؟ بیزار کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے یا پھر کسی قسم کی تربیت یا معاشرتی اثرات کا نتیجہ؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں بعض حد تک حسد اور مقابلہ بازی موجود ہے، لیکن یہ جذبات تب خطرناک ہو جاتے ہیں جب انہیں صحیح راستے پر نہیں ڈالا جاتا۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ معاشرتی اور گھریلو تربیت کا بڑا اثر انسان کے روئیے پر پڑتا ہے۔ اگر بچپن سے افراد کو دوسروں کے ساتھ تعاون، حسنِ سلوک، اور دوسروں کی کامیابی کو خوش دلی سے قبول کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی، تو یہ چھوٹے چھوٹے منفی جذبات بڑے ہو کر بغض اور بیزاری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ کہ ہم ایک دوسرے سے حسد یا بغض رکھتے ہیں، لازمی طور پر ہماری فطرت کا حصہ نہیں بلکہ اکثر یہ تربیت اور ماحول کی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسلام نے بھی یہی سکھایا ہے کہ مقابلہ بازی کو نیکی اور بھلائی میں استعمال کیا جائے، تاکہ حسد، تکبر اور بغض جیسے منفی جذبات ختم ہوں اور ہر فرد دوسروں کی بھلائی میں حصہ لینے اور خوشی محسوس کرنے کی عادت پیدا کرے۔ماننا چاہئے کہ گھرسے جو ملایہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔ یعنی ہمارے معاشرتی رویوں، تربیت کے فقدان، حسد اور بغض کی موجودگی کا نتیجہ یہ منظر نامہ پیدا کرتا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے دشمنی یا ناراضگی رکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں نیکی، تعاون، اور سبقت برائے خیر کو اپنائیں، تو نہ صرف ہماری ذاتی شخصیت مضبوط ہوگی بلکہ معاشرتی ماحول بھی بہتر اور مثبت بنے گا۔یہ کہ ہر برائی، حسد، یا بیزاری صرف ذاتی خواہشات اور فطرت کا نتیجہ نہیں بلکہ تربیت اور ماحول کی پیداوار ہے، ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ نفوس دونوں ضروری ہیں۔ جب ایک فرد خود نیکی کی دوڑ میں سبقت لیتا ہے، خلوص اور صبر کے ساتھ عمل کرتا ہے، تو وہ اپنے گردونواح میں بھی بھلائی کی تحریک پیدا کرتا ہے اور اسی طرح مجموعی طور پر معاشرہ بہتر ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سوچ اور ترجیحات کو تبدیل کریں۔ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ اصل کامیابی دوسروں سے آگے نکلنے میں نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔ ہم اپنی زندگیوں میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں مقابلہ حسد اور نفرت کا سبب نہ بنے بلکہ خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنے۔بِلاشُبہ یہیکہا جا سکتا ہے کہ مقابلہ بازی بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں، بلکہ اس کا رخ ہی اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ اگر یہ دنیاوی مفادات تک محدود ہو جائے تو انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے، اور اگر اسے نیکی، علم، اور خدمت کے میدان میں لے آیا جائے تو یہی مقابلہ انسان کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔لہٰذا، اگر مقابلہ کرنا ہے تو نیکی میں کرو، کیونکہ دنیا کی دوڑ ایک دن ختم ہو جائے گی، مگر نیکی کی دوڑ ہمیشہ جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں