ایران امریکہ جنگ ختم ہونے والی ہے؟

عمران یعقوب خان
جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو اسرائیل کے ایما بلکہ دباؤ پر شروع کی گئی ایران امریکہ جنگ کا تیسرا ہفتہ مکمل ہو رہا ہو گا۔ یوں رمضان میں شروع کی گئی یہ جنگ رمضان میں ختم ہوتی نظر نہیں آتی‘ لیکن لگتا ہے کہ جلد ختم ہو جائے گی۔ جنگ شروع کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اسی توقع کا اظہار کیا ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ یہ الگ بات کہ امریکہ کو اس دلدل سے نکلنے میں خاصا لمبا عرصہ لگ جائے گا‘ جیسا کہ پچھلے کالم میں عرض کی تھی کہ یہ کمبل اب امریکہ کو جلد چھوڑنے والا نہیں۔ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے خود کو اسرائیل کے خلاف ایک طویل جنگ کے لیے تیار کر لیا ہے‘ اور یہ کہ اسرائیل کو جنگ کے میدان میں حیرت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے جبکہ ایران کے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر اب تک کی جنگ کو دو فقروں میں بیان کیا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا بڑی پا مردی سے مقابلہ کیا اور دشمن کو اس کی توقع سے زیادہ نقصان پہنچایا بلکہ حیران کیا ہے۔
ایران اسرائیل اور امریکہ پر خاموشی سے اور بغیر کسی کی مدد کے جوابی وار کر رہا ہے‘ لیکن دشمن کی صفوں میں ایک ہاہاکار مچی ہوئی ہے جس میں سب سے بلند آواز جنگ کا حکم دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے۔ اپنی شہادت سے قبل ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ میں مسلم ممالک کے نام کھلا خط لکھا تھا کہ ایران کو مذاکرات کے دوران امریکی اور صہیونی حملے کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد ایران کو توڑنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ اسلامی دنیا کے مستقبل کے بارے میں غور کریں‘ آپ جانتے ہیں کہ امریکہ آپ کے ساتھ وفادار نہیں اور اسرائیل آپ کا دشمن ہے۔ اگر امت مسلمہ ایک مضبوط اتحاد قائم کر لے تو یہ تمام ممالک کے لیے سلامتی‘ ترقی اور آزادی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب دنیا کی واحد سپر پاور کا سربراہ ادھر اُدھر مدد تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر چین‘ جاپان اور دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔ علاوہ ازیں آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر امریکی صدر ناراض ہیں اور کسی کو طعنہ دے رہے ہیں تو کسی کو دھمکی۔ ٹرمپ یہ واویلا کرتے بھی نظر آئے کہ ہم نیٹو کے لیے موجود رہے‘ لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا‘ ہم نے نیٹو کے دفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن ہمارے دفاع کے لیے وہ موجود نہیں۔
ایران نے اب تک امریکہ کے کئی جہاز تباہ کر دیے ہیں جبکہ امریکہ کے کئی ایندھن بھرنے والے طیاروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایران کے میزائل حملے میں امریکی فضائیہ کے پانچ ری فیولنگ طیارے زمین پر ہی نشانہ بن گئے۔ اس حملے کے بعد امریکی فضائیہ کے متاثر یا تباہ ہونے والے ری فیولنگ طیاروں کی مجموعی تعداد کم از کم سات ہو گئی۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں فوجیوں سمیت 1300 سے زائد افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ لبنان میں 103 بچوں سمیت 773 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ امریکہ کو بھی اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم امریکہ کا نقصان جانی سے زیادہ مالی ہے۔ عراق میں پیش آنے والے طیارے کے حادثے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 13 تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ایران سے جنگ میں 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ یہ تصدیق بھی کی گئی ہے کہ ایران کی بمباری کے نتیجے میں 15 اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ 3369 زخمی ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔
ویسے امریکی صدر کو جنگ بند کرنے اور جنگ سے نکلنے کے مشورے ملنا شروع ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکہ ایران میں اپنی فتح کا اعلان کرے اور وہاں سے نکل جائے۔ سابق امریکی سفیر ایلیٹ ایبرامز نے کہا ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر دو ہفتوں میں جنگ ختم کر سکتے ہیں‘ ایران میں جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے پاس دو اختیارات ہیں‘ یا تو حکومت کے خلاف کسی قسم کی بغاوت ہو گی یا ایک دو ہفتوں میں صدر ٹرمپ اعلان کر دیں گے کہ جنگ ختم ہو رہی ہے۔ ادھر جرمن چانسلر فریڈرک مرز ایران میں جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بول پڑے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ نے جرمنی کی توانائی کی قیمتوں پر شدید اثر ڈالا ہے‘ ٹرمپ کے پاس خلیج فارس میں جنگ ختم کرنے کی واضح حکمت عملی نہیں۔
اب معاملہ یہ ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے پوری دنیا کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خود امریکہ میں مہنگائی بڑھ گئی ہے اور لوگ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے دو دو نوکریاں کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیل کے بحران نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ نے کئی ماہ تک بھارت کو روس سے تیل نہ خریدنے پر مجبور کیا‘ یورپ خام خیالی کا شکار تھا کہ روس کے خلاف امریکی حمایت مل جائے گی لیکن اب دو ہفتوں کی جنگ کے بعد ہی امریکہ دنیا سے روسی تیل خریدنے کی بھیک مانگ رہا ہے۔ تیل خریدنے والے ممالک پر تو جو اثرات مرتب ہوں گے‘ وہ ہوں گے ہی‘ تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی معاشی لحاظ سے خود کو ایک دلدل میں پاتے ہیں‘ خصوصاً اوپیک کے رکن ممالک۔
ایک تحقیق کے مطابق بڑے ممالک کے پاس ہنگامی حالات کے لیے تجارتی اور سٹرٹیجک تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ 38 ممالک کے پاس 62 دن کی ضروریات پوری کرنے کا تیل موجود ہے۔ چند ممالک میں یہ ذخائر زیادہ ہیں لیکن زیادہ تر اسی رینج میں ہیں یا کچھ کے پاس اس سے کم دنوں کا تیل ہے۔ امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے بڑے (1.68ارب بیرل) تجارتی اور سٹرٹیجک تیل کے ذخائر ہیں جو اس کی 50سے 53 دن کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ اسی طرح چین کے پاس 200 دن سے زیادہ کی ضروریات پوری کرنے کا تیل موجود ہے‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تیل کی ترسیل بند ہو جاتی ہے تو کسی ملک کے پاس تیل کے جتنے بھی بڑے ذخائر ہوں‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پر دباؤ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دباؤ بڑھنا شروع ہو چکا ہے اور عالمی سطح پر پڑنے والا یہی دباؤ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کرنے پر مجبور کر دے گا۔ ویسے بھی امریکہ کی اپنی معیشت کی چولیں ہلتی نظر آ رہی ہیں۔ عالمی دباؤ نہ پڑا تو امریکہ کے اندر سے پیدا ہونے والا پریشر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں