آغا سفیر حسین کاظمی
پاکستان اس وقت جن داخلی و خارجی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان میں سب سے نازک اور خطرناک پہلو وہ ہے جو براہِ راست عوام کے ذہنوں اور سوچوں کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ بیانیے کی سطح پر لڑی جا رہی ہے۔ایک ایسی جنگ جس میں ہتھیار الفاظ ہیں، اور نشانہ قومی یکجہتی ہے۔ بدقسمتی سے اس جنگ میں ہمارا اپنا معاشرہ بھی کہیں نہ کہیں غیر محسوس انداز میں شامل ہو جاتا ہے، جب ہم بغیر تحقیق کے ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
حال ہی میں اہلِ تشیع کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ جنرل سید عاصم منیر کی ایک اہم ملاقات اسی تناظر میں موضوعِ بحث بنی۔ اس ملاقات میں تقریباً دو درجن نمایاں علماء و اکابرین شریک ہوئے، جہاں قومی معاملات، داخلی استحکام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی مگر اہم نوعیت کی مشاورتی نشست تھی، جس کا مقصد مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور حساس حالات میں ایک متوازن بیانیہ تشکیل دینا تھا۔
بعض عناصر کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور ہر مثبت پیش رفت کو بھی اپنے مخصوص بیانیے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی ملاقات کے تناظر میں سوشل میڈیا پر ایک مخصوص پوسٹ گردش کرنے لگی، جس میں اس اہم نشست کو ایک خاص رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس بیانیے میں یوں تاثر دیا گیا کہ ملاقات دراصل یکطرفہ تھی، علما کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، موبائل فون پہلے ہی لے لیے گئے، اور ماحول سخت اور دھمکی آمیز تھا۔
اسی بیانیے کا ایک انتہائی حساس پہلو وہ جملہ ہے جو جنرل سید عاصم منیر کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ “جو زیادہ ایران کا حامی بنتا ہے وہ ایران چلا جائے”۔ یہ جملہ بظاہر ایک ردعمل کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس کے اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کے جملے کسی بھی ذمہ دار ریاستی شخصیت سے منسوب کرنے کے لیے ٹھوس اور مستند شواہد درکار ہوتے ہیں، جبکہ یہاں ایسا کوئی معتبر ذریعہ موجود نہیں۔
مزید یہ کہ اس “منقول” متن میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ سربراہ پاک فوج نے ممکنہ احتجاجی مظاہروں، خصوصاً امریکی قونصل خانہ کراچی یا دیگر حساس مقامات پر ہونے والے واقعات کے حوالے سے سخت اقدامات کی بات کی، حتیٰ کہ ایسے معاملات کو ملٹری کورٹس میں لے جانے جیسے دعوے بھی شامل کیے گئے۔ اس طرح کے بیانات کا مقصد واضح طور پر خوف اور بداعتمادی کی فضا پیدا کرنا ہوتا ہے۔
تاہم، حقیقت کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ اسی ملاقات میں شریک آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالمِ دین مفتی کفایت حسین نقوی نے ان تمام تاثر کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا کہ گفتگو کا محور پاکستان کی خارجہ پالیسی، خطے کی صورتحال اور امن و استحکام تھا۔ ان کے مطابق سربراہ پاک فوج ایک متوازن اور مثبت سوچ کے حامل ہیں، اور ان کی کوشش ہے کہ نہ صرف خطہ موجودہ بحرانوں سے نکلے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کا ماحول قائم ہو۔
اگر ہم اس پورے سوشل میڈیا بیانیے کا تجزیہ کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم پروپیگنڈا حکمت عملی کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں جذباتی جملے، غیر مصدقہ اندرونی تفصیلات، اور بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ حوالہ جات شامل کر کے ایک ایسا ماحول بنایا گیا جس میں قاری حقیقت اور افواہ میں فرق نہ کر سکے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے بیانیے صرف معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ ان کا اصل مقصد ذہن سازی ہوتا ہے۔ جب بار بار یہ تاثر دیا جائے کہ ریاست کسی خاص طبقے کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے، تو اس سے نہ صرف اس طبقے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے بلکہ مجموعی طور پر قومی ہم آہنگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
نیز، اس قسم کی پوسٹس میں اکثر ریاستی پالیسیوں کو بھی سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی تعلقات، دفاعی معاہدات یا علاقائی کشیدگی جیسے معاملات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عوامی جذبات کو بھڑکائیں، نہ کہ حقیقت کو واضح کریں۔ حالانکہ خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن، مفاد اور حکمت عملی کے اصولوں پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ جذباتی نعروں پر۔
مزید برآں، یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس طرح کے بیانیے میں اکثر آخر میں ریاست اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ “ریاست کچھ اور کر رہی ہے، عوام کچھ اور چاہتے ہیں” کا تاثر دے کر اعتماد کو کمزور کیا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی فیصلے ہمیشہ ایک وسیع تر تناظر میں کیے جاتے ہیں، جن میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال اور عالمی دباؤ جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔
یہاں ہمیں اپنے رویوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ جب ہم بغیر تحقیق کے ایسی پوسٹس کو شیئر کرتے ہیں، تو ہم نادانستہ طور پر اسی پروپیگنڈا مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وائرل ہونے والی چیز سچ نہیں ہوتی، اور ہر “منقول” متن حقیقت کا آئینہ دار نہیں ہوتا۔
پاک فوج کے سربراہ اور حکومتی سیاسی قیادت اس وقت انتہائی متوازن خارجہ پالیسی کے ساتھ معاملات چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خطے میں ہر لمحہ غیر متوقع تبدیلیاں آ سکتی ہیں اور کسی بھی غیر محتاط اقدام سے ملک کی سلامتی اور اقتصادی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی زمین کسی بھی بیرونی تنازع میں استعمال نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی کسی عالمی یا علاقائی محاذ میں فوری شمولیت ملک کے مفاد میں ہے۔ اس لیے وہ نہ صرف داخلی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ عالمی تعلقات میں بھی تحمل، توازن اور حکمت عملی کے اصولوں کے تحت فیصلے کر رہے ہیں تاکہ بحران کے اثرات کم سے کم ہوں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کا فریق رہے۔
اب تک کسی نے بھی اپنی حیثیت میں رہ کر کبھی کسی پاکستانی مکتبہ فکر کے بارے میں ایسی متنازعہ بات نہیں کہی جو تشویش یا اختلاف رائے کا باعث بنتی ہو۔ ہر پاکستانی شہری، چاہے وہ کسی بھی مذہبی، سیاسی یا فکری پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، ملک کے اندر اپنی شناخت اور مؤقف کے ساتھ محفوظ رہا ہے۔ اس میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ادارے اور قیادت ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی مسلک یا گروہ کو نشانہ بنایا نہ جائے، اور اختلاف رائے بھی قانونی، تعمیری اور متوازن انداز میں سنا اور حل کیا جائے۔ یہی رویہ قومی یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا اصل راز ہے۔
یاد رکھیں، ادارے پاکستان کے ہیں اور پاکستان کے محافظ ہیں۔ اداروں میں جتنے بھی لوگ موجود ہیں، وہ سب کسی نہ کسی گروہ، زبان، علاقہ، قبیلے یا مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، مگر وہ جس نصب العین اور ضابطے کے تحت کام کرتے ہیں، اس میں پاکستانیت کے سوا کسی اور وابستگی یا جھکاؤ کی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا ہر فیصلہ، ہر کارروائی اور ہر موقف ملک کے قومی مفاد، سلامتی اور استحکام کے تناظر میں ہوتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو اداروں کو اپنے افراد کے ذاتی پس منظر سے بالاتر کر کے ایک متحد اور ذمہ دار قوم کے محافظ کے طور پر کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔
اور اگر کوئی ایسا جھکاؤ رکھتا ہے، تو وہ یقینی طور پر پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستانیت ہی وہ واحد معیار ہے جو ملک کی سلامتی، اتحاد اور بقا کو یقینی بناتا ہے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ جو ذاتی، بیرونی یا فرقہ وارانہ مفادات کو ریاستی اصولوں پر فوقیت دے، وہ نہ صرف اداروں کی عملداری کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قومی اعتماد اور اجتماعی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ہر اہلِ ادارہ، چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو، اپنے فرائض میں صرف پاکستان کی خدمت کو مقدم رکھتا ہے۔
لہذا یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایک ذمہ دار اور متوازن بیانیے کی ہے۔ ہمیں نفرت، افواہوں اور پروپیگنڈے کو مسترد کرنا ہوگا، اور حقیقت، تحقیق اور برداشت کو اپنانا ہوگا۔ کہانی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔مگر پاکستان کی نہیں، نفرت کی۔

