تحریر:محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے آسان پیشہ نہیں رہا۔ یہ وہ میدان ہے جہاں خبر کی تلاش میں نکلنے والا شخص اکثر اپنی ذاتی آسائش، مالی استحکام اور بعض اوقات اپنی جان تک کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ کم تنخواہیں، غیر یقینی ملازمتیں اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باوجود صحافی اپنے فرائض انجام دیتے ہیں تاکہ عوام تک سچ پہنچ سکے اور اقتدار کے ایوانوں کو جوابدہ رکھا جا سکے۔ایسے حالات میں اگر ریاست کی جانب سے دی گئی چند بنیادی سہولتیں بھی محدود کر دی جائیں تو یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے نظامِ اطلاعات پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ریلوے کی جانب سے صحافیوں کے لیے کرایوں میں رعایت کو 80 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کر دینا اور اسے سالانہ محدود سفروں تک قید کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہ فیصلہ بظاہر کفایت شعاری کے اصول کے تحت کیا گیا ہے۔ ریلوے کا مالی بحران کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خسارے میں کمی اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر طبقے پر ایک ہی پیمانہ لاگو کرنا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے؟صحافی کسی روایتی سرکاری ڈھانچے کا حصہ نہیں ہوتے۔ انہیں وہ مراعات حاصل نہیں ہوتیں جو دیگر شعبوں میں ملازمین کو میسر ہوتی ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انہیں مسلسل سفر پر مجبور کرتی ہیں۔ ایک دن لاہور، دوسرے دن پشاور، کبھی کراچی تو کبھی کسی دور افتادہ علاقے میں ہنگامی صورتحال کی کوریج۔ ایسے میں سفر کی سہولت ان کے لیے آسائش نہیں بلکہ ضرورت ہوتی ہے۔نئی پالیسی کے تحت سال میں محدود سفر کی شرط دراصل صحافی کے پیشے کی نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ خبروں کی دنیا کسی شیڈول کی پابند نہیں ہوتی۔ کوئی بھی بڑا واقعہ، احتجاج، قدرتی آفت یا سیاسی بحران کسی بھی وقت جنم لے سکتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک صحافی کو یہ سوچنا پڑے کہ اس کے پاس کتنے سفر باقی ہیں، تو یہ اس کی پیشہ ورانہ آزادی پر ایک غیر محسوس قدغن بن جاتی ہے۔مزید برآں، شریک حیات کی رعایت کا خاتمہ ایک الگ مسئلہ کھڑا کرتا ہے۔ صحافی بھی ایک عام انسان ہے جس کی ایک فیملی ہے، ذمہ داریاں ہیں، اور نجی زندگی ہے۔ پہلے جو معمولی سہولت تھی، وہ اب ختم کر دی گئی ہے، جس سے اس کے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوگا۔یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ ایسے فیصلے بالواسطہ طور پر صحافت کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔ جب فیلڈ میں جانا مہنگا ہو جائے گا تو رپورٹنگ محدود ہو جائے گی، ڈیسک پر انحصار بڑھے گا، اور نتیجتاً خبروں کی گہرائی اور سچائی متاثر ہوگی۔ ایک متحرک صحافت کے لیے آزادانہ نقل و حرکت ناگزیر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی سازی میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ حساسیت بھی ہو۔ ہر شعبے کی اپنی نوعیت اور تقاضے ہوتے ہیں۔ اگر مالی دباؤ کم کرنا مقصود ہے تو درمیانی راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔ رعایت کو کسی حد تک برقرار رکھتے ہوئے سفروں کی تعداد میں معقول اضافہ کیا جا سکتا تھا تاکہ نہ ریلوے پر غیر ضروری بوجھ پڑے اور نہ ہی صحافیوں کی مشکلات میں غیر ضروری اضافہ ہو۔حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر ازسرِنو غور کرے۔ صحافی محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ اگر ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی تو اس کا اثر صرف ان پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر پڑے گا۔آوازوں کو محدود کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن ان کے اثرات دیرپا اور گہرے ہوتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ایسی پالیسی اپنائی جائے جو توازن، انصاف اور دور اندیشی کا مظہر ہو

