بلوچستان کی 78 سالہ تاریخ میں کارکردگی کا روشن باب

تحریر: آصف رضا مسعودی

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ — ایک ایسا دور جو خدمت، دیانت اور میرٹ کی علامت بن گیا

بلوچستان کی 78 سالہ تاریخ میں سیاسی تجربات، عدم استحکام، اتحاد و انتشار اور حکومتوں کی بار بار تبدیلی ہمیشہ سے ایک نمایاں پہلو رہا ہے۔ یہ صوبہ، جس کی مٹی میں تاریخ، تہذیب، وسائل اور غیر معمولی انسانی صلاحیتیں موجود ہیں، بدقسمتی سے دہائیوں تک ایسی سیاسی قیادت سے محروم رہا جو اس خطے کی اصل ضرورتوں کو سمجھ کر پالیسیاں مرتب کرتی۔ اکثر ادوار ذاتی مفادات، برادری ازم، ٹھیکہ سسٹم اور انتخابی جوڑ توڑ کے گرد گھومتے رہے۔ اس دوران عوامی خدمت، تعلیمی ترقی، صحت کی بنیادی سہولیات اور سماجی انصاف جیسے وعدے محض سیاسی نعرے بن کر رہ گئے۔

ضلع کیچ اور مکران جیسے خطے ہمیشہ طاقت کے چند مخصوص مراکز کے گرد گھومتے رہے۔ ایسے گروہ جن کے لیے انتخابی منشور سے زیادہ اہم نوکریاں اپنے لوگوں کو دینا، ٹھیکے بانٹنا، یا اپنے خاندان کی سیاسی گرفت کو مضبوط کرنا تھا۔ عوام کی حقیقی ترقی کبھی ان کا مرکزی ہدف نہیں رہی۔

مگر اسی تاریخ کے سفر میں ایک ایسا دور بھی آیا جس نے بلوچستان کی سیاست کو ایک نئی سمت، ایک نئی سوچ اور ایک نئے وژن سے روشناس کرایا۔ یہ دور وہ تھا جب اقتدار کی کرسی پر ایک ایسا شخص بیٹھا جس کی سیاست خدمت سے شروع ہوئی اور خدمت پر ہی قائم رہی — ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ۔

ایک تعلیم یافتہ، صاف گو، محنتی اور عوام دوست رہنما، جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی بلوچستان کے نوجوانوں، غریب طبقات، اور پسماندہ علاقوں کی بہتری کے لیے وقف کر دی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ — سیاست میں نظریاتی جدوجہد کا آغاز

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا سیاسی سفر 1980 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب بلوچستان میں قوم پرستی، جمہوری جدوجہد اور محرومیوں کے خلاف آوازیں زور پکڑ رہی تھیں۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جو سیاست کو کاروبار نہیں بلکہ خدمت سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو متحرک کیا، سیاسی شعور کو فروغ دیا اور بلوچستان کی محرومیوں کو علمی انداز میں اجاگر کیا۔

وزیر صحت (1988–1989)

صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں انہوں نے:

درجنوں بنیادی صحت مراکز قائم کیے۔

دیہی علاقوں میں سول ڈسپنسریوں کا جال بچھایا۔

نئے میڈیکل اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتیاں کیں۔

اس دور میں پہلی بار صحت کے شعبے کو شہری علاقوں سے نکال کر پہاڑی اور دور دراز بستیوں تک پہنچایا گیا۔

1993–1997: وزارتِ تعلیم — بلوچستان میں حقیقی تعلیمی انقلاب

بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم کا حقیقی ڈھانچہ جس نے صوبے کو جدید سمت دی، وہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزیرِ تعلیم کے دور میں قائم ہوا۔

نمایاں کارنامے:

6000 اساتذہ کی بھرتیاں پورے بلوچستان میں

صرف ضلع کیچ میں 3000 اساتذہ کو تعیناتی

JVT، JET، SST، PTI اور دیگر کیٹیگریز متعارف

سینکڑوں اسکولوں کا اپ گریڈیشن

ڈگری کالجوں کا قیام

زرد رنگ کی اسکول عمارتیں — آج بھی ان کے دور کی واضح نشانی

اس دور نے بلوچستان کے بچوں کے لیے تعلیم کا نیا دروازہ کھولا۔ پہلی بار دور دراز کے علاقوں کی بیٹیاں بھی اسکول جانے لگیں۔

2013–2015: وزارتِ اعلیٰ —بلوچستان کی تاریخ کا سنہری دور

جون 2013 میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے جب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو یہ بلوچستان کے لیے ایک خوش آئند تبدیلی تھی۔ ان کا دور حکومت محض ڈھائی سال کا تھا، مگر کارکردگی کے لحاظ سے اسے بلوچستان کی سب سے مؤثر، شفاف اور عوام دوست حکومت قرار دیا جاتا ہے۔

نمایاں فیصلے:

1. 7200 لیڈی ہیلتھ ورکرز مستقِل

2. 5000 پیکج ٹیچرز کو مستقل روزگار

3. ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں 1500 نئی آسامیاں

4. پولیس و لیویز میں 1200 نوکریاں NTS کے ذریعے

5. بلوچستان میں NTS متعارف ،بھرتیوں میں مکمل شفافیت

6. 2000 میرٹ پر ملازمتیں مختلف محکموں میں

ڈاکٹر مالک نے پہلی بار بلوچستان کے نوجوانوں کو بتایا کہ نوکری لینے کے لیے سفارش نہیں بلکہ قابلیت ضروری ہے۔ یہی وہ دور تھا جب میرٹ کو ادارہ جاتی شکل دی گئی۔

اعلیٰ تعلیم کا نیا دور ، یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجز اور ہسپتال

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں صوبے کی تعلیمی تاریخ میں پہلی بار یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کا ایسا جال بچھایا گیا جو بعد میں ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کرنے کا ذریعہ بنا۔

نئی یونیورسٹیاں:

تربت یونیورسٹی

چاکر اعظم یونیورسٹی نصیر آباد

لورالائی یونیورسٹی

جھالاوان یونیورسٹی خضدار

میڈیکل کالجز:

مکران میڈیکل کالج

جھالاوان میڈیکل کالج

لورالائی میڈیکل کالج

کالجز اور اداروں کے لیے سہولیات:

گرلز ڈگری کالج تربت: 4 بسیں

عطا شاد ڈگری کالج: 4 بسیں

تربت یونیورسٹی: 6 بسیں

مکران میڈیکل کالج: 4 بسیں

یہ وہ سہولیات تھیں جنہوں نے تعلیمی اداروں کو فعال، مضبوط اور بین الاقوامی معیار کے قریب کیا۔

انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبے ، تربت کی شناخت بدل گئی

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور حکومت میں تربت، مکران اور ضلع کیچ نے وہ ترقی دیکھی جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی۔

اہم منصوبے:

تربت مڈل سٹی کی خوبصورتی اور انفراسٹرکچر میں انقلابی تبدیلیاں

تربت–گوادر–کوئٹہ روڈ کی توسیع

سفر کا دورانیہ 2 دن سے کم ہو کر 10 گھنٹے

تربت کو ٹاؤن کی بجائے کارپوریشن کا درجہ

فائر بریگیڈ، سیوریج، اور ویسٹ کلیکشن کی جدید مشینری کی فراہمی

یہ ترقی ایسی تھی جو عوام کی روزمرّہ زندگی میں حقیقی تبدیلی لائی۔

سیاسی مخالفتیں — مگر حقیقت برقرار

سیاست میں مخالفت ہونا عام بات ہے، مگر کچھ حلقوں، خصوصاً چند مخصوص گروہوں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی واضح کارکردگی کے باوجود محض سیاسی عناد کی بنیاد پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

ایک ایسا شخص جس نے 6000 اساتذہ دیے

سینکڑوں اسکول اپ گریڈ کیے

تعلیم اور صحت کے درجنوں منصوبے دیے

ہزاروں نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار دیا

یونیورسٹیاں قائم کیں

ہسپتال فعال کیے

اسے محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ اپنا فیصلہ ہمیشہ کارکردگی پر کرتی ہے، بیانات پر نہیں۔

تاریخ کا روشن باب

بلوچستان کی تاریخ میں چند ہی رہنما ایسے گزرے ہیں جنہوں نے خدمت کا عملی ثبوت چھوڑا ہے۔
1973 میں نیپ حکومت کے سردار عطا اللہ خان مینگل اور میر غوث بخش بزنجو نے بلوچستان یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی۔
جم یوسف خان کے دور میں اوتھل یونیورسٹی قائم ہوئی۔
اور اسی تسلسل میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایک ایسا باب رقم کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو، وژن بلند ہو اور مقصد عوام کی خدمت ہو، تو محدود مدت میں بھی بڑے کارنامے سر انجام دیے جا سکتے ہیں۔

بلوچستان کی 78 سالہ تاریخ میں ان کا دور واقعی سنہری، نمایاں اور روشن باب ہے.
ایک ایسا باب جو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں