چنگیز بلوچ
انسانی تہذیب کی بنیاد اگر کسی ایک ستون پر قائم ہے تو وہ ستون استاد ہے۔ استاد وہ مقدس ہستی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و شعور کی روشنی میں لاتا ہے، کردار کو سنوارتا ہے، فکر کو جلا بخشتا ہے اور زندگی کو مقصد عطا کرتا ہے۔ دنیا کی ہر کامیابی کے پیچھے اگر کسی کا خاموش کردار ہوتا ہے تو وہ استاد کا ہوتا ہے، جو اپنے شاگردوں کو پروان چڑھانے کے لیے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
استاد محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن، ایک عبادت اور ایک ذمہ داری ہے۔ یہ وہ منصب ہے جس میں صبر، خلوص، محبت اور قربانی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ استاد اپنی زندگی کا بہترین حصہ آنے والی نسلوں کے نام کر دیتا ہے، اپنے علم کا چراغ جلا کر ہزاروں چراغ روشن کرتا ہے، اور معاشرے کو ایسے افراد عطا کرتا ہے جو علم، اخلاق اور خدمت کی مثال بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں استاد کا مقام ہمیشہ بلند اور قابلِ احترام رہا ہے۔
ایسے ہی باوقار اور عظیم اساتذہ کی صف میں ایک درخشاں اور قابلِ فخر نام *واجہ ابراہیم عابد صاحب* کا ہے، جو نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ بلوچی زبان و ادب کے ایک روشن چراغ بھی ہیں۔ آپ نے اپنی ساری زندگی درس و تدریس، علم کی خدمت اور بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے وقف کر دی۔ کیچ، مکران اور پورے بلوچستان میں آپ کے شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو دراصل آپ کی محنت، رہنمائی اور اخلاص کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
*واجہ ابراہیم عابد صاحب* کی شخصیت علم، اخلاق، سادگی اور محبت کا حسین امتزاج ہے۔ آپ نے نہ صرف کتابوں کے ذریعے علم دیا بلکہ اپنے کردار، اپنے رویے اور اپنی شفقت سے شاگردوں کو انسان بننے کا درس دیا۔ آپ کا اندازِ تدریس ایسا تھا کہ شاگرد صرف سبق نہیں سیکھتے تھے بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد آج بھی آپ کو محض استاد نہیں بلکہ ایک روحانی رہبر اور مشفق سرپرست سمجھتے ہیں۔
استاد کی اصل کامیابی نہ عہدوں میں ہوتی ہے، نہ دولت میں اور نہ شہرت میں، بلکہ اس کے شاگردوں کی کامیابی میں ہوتی ہے۔ جب شاگرد مختلف شعبوں میں کامیاب ہو کر معاشرے کی خدمت کرتے ہیں تو دراصل وہ اپنے استاد کی محنت کا پھل ہوتے ہیں۔ واجہ ابراہیم عابد صاحب اس اعتبار سے ایک کامیاب اور مثالی استاد ہیں کہ ان کے شاگرد آج ڈاکٹر، انجینئر، افسر، استاد اور مختلف اداروں کے ذمہ دار عہدوں پر فائز ہو کر قوم و معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔
عیدالفطر کے تیسرے دن کا وہ خوبصورت لمحہ اسی استاد اور شاگرد کے لازوال رشتے کی ایک دلکش مثال تھا، جب 1983 کے شاگردوں نے اپنے عظیم استاد سے ملاقات کا اہتمام کیا۔ اس ملاقات میں *ڈاکٹر عبدالصبور صاحب (ڈین ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر)، واجہ مولا بخش صاحب (سابق ہیڈ ماسٹر ڈگاری کہن)، ریٹائرڈ تحصیلدار چنگیز بلوچ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن خضدار طارق بلوچ، منیجر سوئی سدرن گیس کمپنی گوادر انجینئر انور حسین، ایگریکلچر آفیسر حفیظ بلوچ، سابق الائیڈ بینک منیجر محمد اقبال صاحب اور دیگر شاگرد شریک ہوئے۔*
عید کی خوشیوں میں جب شاگرد اپنے استاد کے گھر پہنچے تو وہ منظر عقیدت اور محبت کا ایک خوبصورت استعارہ بن گیا۔ وقت کی گرد نے چہروں پر جھریاں تو ڈال دی تھیں، لیکن دلوں میں استاد کی محبت آج بھی ویسی ہی تازہ تھی جیسی برسوں پہلے ہوا کرتی تھی۔ شاگردوں کے دلوں میں برسوں کی حسرت تھی کہ اپنے استاد کے سامنے بیٹھ کر ان کی دعائیں حاصل کریں، ان کی شفقت بھری باتیں سنیں اور ان کے قدموں میں بیٹھ کر اپنی کامیابیوں کا اعتراف کریں۔
اس موقع پر *واجہ ابراہیم عابد صاحب* کے چہرے پر خوشی اور اطمینان نمایاں تھا۔ شاگردوں کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں محبت کی چمک اور دل میں خوشی کی لہر صاف محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
“مجھے آپ سب سے ملاقات کر کے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ میں مختلف مواقع پر آپ میں سے اکثر سے ملتا رہا ہوں، لیکن کچھ شاگردوں سے آج 43 سال بعد ملاقات ہو رہی ہے۔ استاد کے لیے اس کے شاگرد اس کے بچوں کی طرح ہوتے ہیں، اور جب شاگرد کامیاب ہو کر استاد کے سامنے آتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔”
انہوں نے مزید نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اساتذہ سے رابطہ اور ملاقات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ اس سے محبت اور احترام کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور معاشرے میں علم و ادب کی قدر بڑھتی ہے۔ اساتذہ کی عزت دراصل علم کی عزت ہے، اور جو معاشرہ علم کی عزت کرتا ہے وہ ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔
یہ ملاقات محض ایک عید ملن نہیں تھی بلکہ استاد اور شاگرد کے درمیان محبت، وفاداری اور عقیدت کے اس لازوال رشتے کی تجدید تھی جو وقت اور فاصلے کے باوجود قائم رہتا ہے۔ استاد وہ ہستی ہے جس کا احسان کبھی ختم نہیں ہوتا، کیونکہ وہ شاگرد کو زندگی کی وہ روشنی دیتا ہے جو ہر اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ استاد ایک ایسا محسن ہے جس کا قرض نہ لفظوں سے ادا ہو سکتا ہے اور نہ کسی تحفے سے۔ شاگرد کی کامیابی، اس کی نیک نامی اور اس کی خدمت ہی استاد کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہوتی ہے۔ استاد کی دعا وہ خزانہ ہے جو زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں کامیابی کی کنجی بن جاتا ہے۔
*واجہ ابراہیم عابد صاحب* جیسے اساتذہ قوم کا سرمایہ اور معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ ان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی، اور ان کے شاگردوں کی محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک سچا استاد کبھی دلوں سے جدا نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ *واجہ ابراہیم عابد صاحب* کو صحت، عزت، سکون اور درازیٔ عمر عطا فرمائے، ان کے علم و فیض کو مزید عام کرے اور ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر و منزلت پہچاننے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

