ایاز امیر
اُمہ کا حصہ ہم بھی تو ہیں اور حالِ اُمہ دیکھ کر کبھی ہنسی آتی ہے‘ کبھی رونے کو جی چاہتا ہے۔ خاندانی بادشاہتوں کے پاس تیل کی دولت اتنی کہ گنی نہیں جاتی لیکن اپنی کمزوری کی بنا پر امریکہ کی محتاجی اتنی کہ حیرانی کی انتہا نہیں رہتی۔ ایرانی قوم تو انقلاب اور جنگ کے کندن سے گزری ہے‘ وہ اس جنگ کی تباہی سہہ جائے گی لیکن ہماری برادر بادشاہتوں کا کیا بنے گا؟ اُن کے تحفظ کا سارا دارو مدار امریکی اڈوں کے گرد گھومتا تھا۔ امریکی اڈوں کی وجہ سے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے۔ اُس سوچ کا بھانڈا تو ایران نے ایسے پھوڑا کہ برادر ملکوں کی بے بسی دنیا کے سامنے عیاں ہو گئی۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں سے امریکی اپنے اڈے نہ بچا سکے اُنہوں نے عرب بادشاہتوں کی فضاؤں کو کیا بچانا تھا۔
چوتھے ہفتے میں جنگ جا چکی ہے اور تیل سے لدے ٹینکر خلیج فارس میں لنگر انداز کھڑے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتے۔ امریکی صدر‘ جو دنیا کے سامنے اب ایک نمونے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے‘ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی کتنی دھمکیاں دیں۔ شروع میں یہ بھی کہا کہ امریکی بحری جہاز ٹینکروں کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزاریں گے۔ وہ بات نہ بنی تو اتحادیوں سے کہہ ڈالا کہ خلیج فارس کے تیل پر تمہارا انحصار زیادہ ہے تم آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بحری جہاز بھیجو۔ امریکہ کی حالت اس جنگ کی وجہ سے یہ ہو گئی ہے کہ کسی ایک اتحادی نے مدد نہ بھیجی۔ پھر اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکر نہ گزرے تو ایران کے انرجی انفراسٹرکچر یعنی پاور سٹیشنوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ الٹی میٹم کا وقت پورا نہیں ہوا اور اعلان کر دیا کہ پانچ دن کیلئے امریکی حملے بند رہیں گے۔ ساتھ یہ ہوائی چھوڑی کہ ایران کے ساتھ بامقصد مذاکرات ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حملے بند کیے جا رہے ہیں۔ ایران نے اس دعوے کی کھلم کھلا تردید کر دی ہے کہ کوئی براہِ راست یا پیچھے سے مذاکرات نہیں ہوئے اور امریکی صدر بلّف یعنی جھوٹ بول رہا ہے۔ اتنا البتہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر دونوں طرف سے پیغام رسانی کا کام انجام دے رہے ہیں۔ لیکن اتنی بات تو دنیا کو نظر آ رہی ہے کہ آبنائے ہرمز ایران دشمن تیل کیلئے بدستور بند ہے اور ایرانی حملے اسرائیل پر جاری ہیں۔ یعنی ایران نے کوئی لچک نہیں دکھائی اور امریکی صدر پینترے بدل رہا ہے کیونکہ جنگ شروع تو کر دی اب نکلنے کی صورت نظر نہیں آ رہی۔
ہوا تو یہ تھا کہ جب صدر ٹرمپ نے ایران کے تیل انفراسٹرکچر پرحملے کی دھمکی دی تو ایران کی طرف سے جواب آیا کہ اس صورت میں علاقے کی تمام تیل پروڈکشن اور پانی کے ڈی سیلینیشن پلانٹوں پر حملے ہوں گے۔ اس جنگ میں دنیا کو اتنا پتا چل گیا ہے کہ ایران بھبکیاں نہیں کَستا اور جو کہتا ہے وہ کر دکھانے کی ہمیت رکھتا ہے۔ گلف ممالک کی تیل اور گیس پروڈکشن تو سب بند ہو گئی ہے لیکن اُن کے پاس پینے کا پانی بھی نہیں ہے۔ زیادہ انحصار انہی ڈی سیلینیشن پلانٹوں پر ہے اور انہیں کچھ ہو جائے تو کویت سے لے کر باقی ملکوں تک پینے کا پانی نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی دھمکیاں کارآمد ثابت نہ ہوئیں اور ہر گزرتے دن برادر ملکوں کی بنیادی کمزوریاں زیادہ عیاں ہوتی گئیں۔ ٹرمپ پینترے بدل رہا ہے تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ قیادت کی ہلاکتوں اور بمباری کی تباہی کے باوجود ایرانی ہمت اور استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی۔
بات تو یہاں تک بھی ہو رہی ہے کہ شاید براہِ راست مذاکرات کی صورت اسلام آباد میں پیدا ہو جائے۔ ایسا ہوتا بھی ہے تو کسی پُرامن حل کا قصہ مخدوش ہی لگتا ہے کیونکہ اگر بہ زبان حرب امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا تو سمجھ سے بالاتر بات ہے کہ وہ مقاصد مذاکرات کی میز پر کیسے حاصل کر لے گا۔ امریکی صدر کی زبان اب بھی گھمنڈ سے لدی پڑی ہے۔ کہتے ہیں کوئی جوہری ہتھیار نہیں‘ کوئی جوہری پروگرام نہیں۔ اور جو یورینیم افزودہ کیا جا چکا ہے وہ امریکہ کے حوالے کیا جائے۔ ہوش ٹھکانے آئیں تو امریکیوں کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی طاقتور ترین بمباری کے سامنے ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے تو اُن کی لایعنی باتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے؟ اب تو بہت سے امریکی خود کہہ رہے ہیں کہ اُن کا صدر عقل اور ہوش سے فارغ لگتا ہے اور اس جنگ کے دوران بدلتی باتیں اسی سوچ کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ پوری دنیا اس جنگ سے متاثر ہو رہی ہے اور ایک ایسا شخص دنیا کی مضبوط ترین ملٹری کا کمانڈر انچیف بیٹھا ہوا ہے۔
بہرحال جو کچھ بھی ہو رہا ہے دنیا کو سمجھ آ رہی ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کی ہے اور اسرائیل اس مقصد میں کامیاب ہوا ہے کہ امریکہ کو اس جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ کیا برادر اسلامی ممالک اتنی بات سمجھنے سے قاصر ہیں؟ وہ نہیں دیکھ سکتے کہ جنگ کیسے شروع ہوئی اور کس منافقانہ طریقے سے ایران پر حملہ ہوا؟ کچھ تو امریکہ کو تنبیہ کرتے کیونکہ جو مصیبت اُن پر آن پڑی ہے وہ اس امریکی اور اسرائیلی حملے کی وجہ سے ہے۔ لیکن کیا داد ان کی عقل کو دینی پڑتی ہے کہ امریکہ کی مذمت میں ایک لفظ ان کے لبوں سے نہیں نکلا۔ ایرانی حملوں کی مذمت لیکن ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بارے میں سِلے ہوئے ہونٹ۔ ایرانی حملوں پر نہ روئیں‘ اپنی کمزوری اور لاچاری پر روئیں۔ ہمارے برادر ملک امریکی یاری کو اپنا دفاع سمجھتے تھے اور وہی اُن کی بربادی کا سبب بن رہا ہے۔
یہ خام خیالی ہے کہ جنگ بندی اور امن کا قیام جلد ہو جائے گا۔ کس بنا پر جنگ بندی؟ ایران کہہ رہا ہے کہ ضمانتیں مہیا ہوں کہ پھر سے ایسا حملہ نہ ہو۔ تباہی کا ہرجانہ دیا جائے۔ امریکی اڈے علاقے سے ختم کیے جائیں۔ یہ سب کچھ کون کرے گا؟ مستقبل کی ضمانتیں کون دے گا؟ پاکستان اور مصر کیا ایسی ضمانتیں دے سکتے ہیں؟ ٹرمپ کی زبان پر کون بھروسا کرے گا؟ ایرانی تو نہیں کریں گے‘ اُنہوں نے ٹرمپ کو بہت دیکھ اور آزما لیا۔ اور وہ جو دو رئیل اسٹیٹ ایجنٹ سٹیو وِٹکاف اور جیرڈ کُشنر جو کہ کلیدی ایلچی ہیں‘ اُن کی بات پر کون یقین کرے گا؟
لگتا تو یہ ہے کہ یہ تباہ کن جنگ جاری رہے گی اور جتنی طویل رہی ہمارے برادر ملکوں کا کام ہو جائے گا۔ اسرائیل کو فائدہ ہو گا‘ مسلم ممالک میں جتنی تباہی ہو اسرائیل والے اپنے لیے اچھا سمجھیں گے۔ وہ تو ایک بڑے اسرائیل کا خواب دیکھ رہے ہیں‘ دریائے فرات سے لے کر دریائے نیل تک۔ بڑے اسرائیل کا تصور اُن کی نظروں میں یہ ہے۔ خطرہ اسرائیل سے اور برادر ملکوں نے دشمنیاں ایران سے پال رکھی تھیں۔ اب سارے مفروضے ہوا ہو گئے ہیں۔ کہاں گئی وہ ساری چاپلوسی‘ وہ بوئنگ جہاز کا تحفہ‘ وہ انوکھے اندازِ استقبال؟ عقل ہوتی تو مل کر امریکی عزائم کو روکتے۔ لیکن ایسی بات کہاں ہونی تھی۔ امریکیوں کو بھی پتا تھا کہ جب یہ دوست ممالک ہم سے ملتے ہیں تو اندرونِ خانہ کہتے ہیں کہ ایرانیوں کو خوب مارو۔ اسی لیے تو حیرانی کی بات نہیں کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ہوئے تو اُف کی ایک آواز نہ آئی۔ یہ تو کسی کے فرشتوں کو معلوم نہیں تھا کہ ایرانی قوم اس طرح ڈٹ جائے گی۔
Load/Hide Comments

