بے تکی باتیں : صحافتی فریب کی صنعت کا معتبر چہرہ

اے آر طارق
یہ صرف ایک اعتراف نہیں بلکہ ایک فردِ جرم ہے۔ میں اس صنعت کے اُن چہروں میں سے ایک ہوں جو بظاہر معتبر دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے ایک پیچیدہ فریب کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر لفظ امانت ہیں تو میں اس امانت میں دراڑ ڈالنے والوں میں شامل ہوں۔ اگر تحریر دیانت کا تقاضا کرتی ہے تو میں اس دیانت کے ساتھ ایک سمجھوتہ کر چکا ہوں اور اگر صحافت سماج کا ضمیر ہے تو میں اس ضمیر میں موجود اُس خاموش خلش کی علامت ہوں جسے سب محسوس تو کرتے ہیں مگر بیان کم ہی کرتے ہیں۔میں یہ سب کسی جذباتی خودملامتی کے تحت نہیں کہہ رہا بلکہ ایک واضح ادراک کے ساتھ تسلیم کر رہا ہوں کہ میں اس عہد کی پیداوار ہوں جس نے رفتار کو سچائی پر، ترتیب کو تجربے پر اور چمک کو حرارت پر ترجیح دینا سیکھ لیا ہے۔اس صنعت میں معتبر دکھائی دینا اب اتنا مشکل نہیں رہا جتنا کبھی ہوا کرتا تھا۔ ایک مربوط نثر، چند بظاہر مضبوط دلائل اور ایک متوازن لہجہ کافی ہوتا ہے تاکہ ایک تحریر کو سنجیدہ اور قابلِ اعتماد سمجھ لیا جائے۔ قاری کو ایک مکمل اور ہموار متن مل جاتا ہے۔ مدیر کو بروقت مواد اور اخبار کو تسلسل۔ سب کچھ بظاہر درست رہتا ہے مگر اگر اس سارے عمل میں صداقت کا جوہر غائب ہو جائے تو یہ سارا انتظام دراصل ایک خوبصورت فریب کے سوا کیا ہے؟میں نے کامیابی کی ایک سادہ اور عملی تعریف اختیار کر لی ہے۔کالم وقت پر پہنچ جائے۔ معیار برقرار دکھائی دے۔ بحث پیدا ہو جائے اور نام قائم رہے۔ اس تعریف میں نہ کسی بڑی تخلیقی اُڑان کی گنجائش ہے نہ کسی گہری داخلی کشمکش کی۔ میں نے مان لیا ہے کہ اس دور میں اصل قدر رفتار ہے۔جو تحریر کبھی ہفتوں کی محنت سے تشکیل پاتی تھی وہ اب چند لمحوں میں ترتیب پا جاتی ہے۔ جو دلیل کبھی کتابوں، نوٹس اور طویل غور و فکر سے جنم لیتی تھی وہ اب چند نکات کے بعد مکمل شکل اختیار کر لیتی ہے۔ میں موضوع چنتا ہوں، زاویہ طے کرتا ہوں، سمت دیتا ہوں اور ایک تیار متن میرے سامنے آ جاتا ہے۔ میں اسے دیکھتا ہوں، چند لفظ بدلتا ہوں، ایک آدھ جملہ اپنی لَے میں ڈھالتا ہوں اور وہ میرے نام سے شائع ہو جاتا ہے۔بظاہر یہ سب پیشہ ورانہ لگتا ہے۔ شاید اسی لیے قابلِ قبول بھی دکھائی دیتا ہے۔ میں خود کو تسلی دیتا ہوں کہ قاری کو نتیجے سے غرض ہوتی ہیذریعے سے نہیں۔ اسے ایک معیاری مضمون مل رہا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ پہلا مسودہ کس نے ترتیب دیا۔ اخبار کو بروقت مواد چاہیے، مدیر کو تسلسل چاہیے اور مارکیٹ کو رفتار۔ اگر میں یہ سب فراہم کر رہا ہوں تو پھر اعتراض کی گنجائش کہاں رہتی ہے؟کیا تخلیق کبھی مکمل طور پر انفرادی ہوتی ہے؟ کیا ہم سب دوسروں سے سیکھ کر نہیں لکھتے؟ اگر میں نے صرف عمل کو تیز اور منظم بنا دیا ہے تو کیا یہ واقعی غلط ہے؟ یہ سوال بظاہر معقول لگتے ہیں۔ ان میں ایک ظاہری منطق موجود ہے اور یہی منطق اس فریب کو معتبر بنائے رکھتی ہے۔دن کے شور میں یہ دلیل مضبوط محسوس ہوتی ہے۔ تعریفوں، دعوتوں اور سوشل میڈیا کی ستائش میں سب کچھ درست دکھائی دیتا ہے۔ تحریر شائع ہوتی ہے۔ پسند کی جاتی ہے۔ شیئر کی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ نثر رواں ہے۔ استدلال مضبوط ہے اور لہجہ متوازن ہے۔ میں مسکرا دیتا ہوں مگر رات کی خاموشی میں ایک سوال ابھرتا ہے جو اس ساری چمک کو بے معنی بنا دیتا ہے۔ کیا یہ واقعی میرا لکھا ہوا ہے؟ کیا اس کے پیچھے میری اپنی فکری کشمکش ہے یا میں نے صرف خوبصورت جملوں کی ترتیب پیش کی ہے؟میں پھر خود کو یہی سمجھاتا ہوں کہ اثر اہم ہے ذریعہ نہیں مگر دل کا ایک خالی گوشہ ایسی دلیل سے کبھی نہیں بھرتا۔میں اپنے پرانے کالموں کو یاد کرتا ہوں جو واقعی میرے قلم سے نکلے تھے۔ ان میں خامیاں تھیں، بے ترتیبی تھی، کہیں دلیل کمزور تھی اور کہیں جذبات غالب مگر ان میں زندگی تھی۔ وہ میری تلاش کا عکس تھے۔ میری الجھنوں کی گواہی تھے۔ ان میں وہ لمحے محفوظ تھے جب ایک خیال پیدا ہونے میں دن لگ جاتے تھے اور ایک جملہ لکھنے سے پہلے کئی بار ٹوٹ کر دوبارہ بننا پڑتا تھا۔آج کی تحریریں زیادہ مکمل اور زیادہ پیشہ ورانہ ہیں۔ ان کی ساخت مضبوط ہے۔ترتیب واضح ہے اور زبان ہموار ہے مگر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں کسی اور کی آواز دہرا رہا ہوں۔ نام میرا ہے مگر سانس کسی اور کی۔مدد لینا بذاتِ خود جرم نہیں۔ ہر لکھنے والا سیکھتا ہے اور ہر قلم کسی نہ کسی اثر کے سائے میں پروان چڑھتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سہارا بنیاد بن جائے، جہاں مشق کی جگہ انحصار لے لے اور جہاں ذہن کی محنت کو ایک سہولت سے بدل دیا جائے۔ہہ طریقہ وقت بچاتا ہے اور تحریر کو جلد مکمل کر دیتا ہے مگر اسی کے ساتھ یہ اندر کے اُس حصے کو بھی آہستہ آہستہ خاموش کر دیتا ہے جو سوال کرنے، شک کرنے اور ٹوٹ کر دوبارہ بننے سے زندہ رہتا ہے۔ تخلیق دراصل اسی تکلیف سے جنم لیتی ہے۔ اگر وہ تکلیف ختم ہو جائے تو لفظ باقی رہ جاتے ہیں مگر تخلیق مر جاتی ہے۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر یہ سہولت ایک دن مجھ سے چھن جائے تو کیا میں پھر بھی لکھ سکوں گا؟ کیا میں خالی کاغذ کا سامنا کر سکوں گا؟ کیا میں دوبارہ وہی بے ترتیبی، وہی جدوجہد اور وہی خام جملے برداشت کر سکوں گا جو کبھی میری تحریر کا ابتدائی چہرہ ہوا کرتے تھے؟ یا میں اپنی ہی شہرت کے بوجھ تلے دب جاؤں گا؟ہہ سوال مجھے بے چین کرتا ہے مگر اگلے کالم کی ڈیڈ لائن سامنے آتے ہی میں پھر اسی راستے پر چل پڑتا ہوں جسے میں جانتا ہوں کہ آسان ہے مگر شاید سچا نہیں۔درحقیقت یہ مسئلہ صرف کسی ایک لکھنے والے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ مدیر جو صرف وقت دیکھتا ہے۔ قاری جو ہموار نثر کا عادی ہو چکا ہے اور پلیٹ فارم جو رفتار کو معیار سمجھنے لگے ہیں۔ ہم سب اس تبدیلی کے شریک ہیں۔ ہم نے مان لیا ہے کہ ترتیب ہی صداقت ہیحالانکہ دونوں ایک چیز نہیں۔جب لفظ محض مواد بن جائیں تو سچ بھی ایک پروڈکٹ بن جاتا ہے۔پیک ہو کر پیش کیا جانے والا، پسند اور شیئر کے پیمانے پر پرکھا جانے والا۔ اس ماحول میں تحریر ایک تجربہ نہیں رہتی بلکہ ایک پیداوار بن جاتی ہے۔میں ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں ہوں۔ مسئلہ آلے کا نہیں، انحصار کا ہے۔ ہر دور نے اپنے اوزار پیدا کیے ہیں اور ہر لکھنے والے نے ان سے فائدہ اٹھایا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اوزار مدد دیتے ہیں آواز نہیں بنتے۔اگر میں کسی سہولت سے رہنمائی لیتا ہوں مگر متن کو اپنی فکری کسوٹی پر نہیں پرکھتا تو میں تخلیق نہیں کر رہا بلکہ صرف نام دے رہا ہوں۔ میں ایک تیار ڈھانچے پر اپنا دستخط ثبت کر رہا ہوں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں فریب اپنی سب سے مہذب شکل اختیار کر لیتا ہے اور اسی وجہ سے اسے پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
قاری کے لیے بھی یہاں ایک ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی تحریر پڑھی جائے تو صرف اس کی روانی اور ترتیب پر نہیں بلکہ اس کے پس منظر پر بھی غور ہونا چاہیے۔ کیا اس کے پیچھے کسی ذہن کی حقیقی جدوجہد ہے یا صرف مہارت سے ترتیب دیئے گئے الفاظ؟کیونکہ جب قاری یہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتا ہے تو لکھنے والا بھی آہستہ آہستہ جواب دینا چھوڑ دیتا ہے
اور میرے لیے اصل سوال یہی ہے کہ اگر میں نے اپنی آواز کی مشق ترک کر دی تو ایک دن میرا نام تو ہوگا مگر اس کے پیچھے کوئی زندہ وجود نہیں ہوگا۔ لوگ تحریریں پڑھیں گے مگر اس میں میرا دل نہیں دھڑکے گا۔ لفظ درست ہوں گے مگر سچ غائب ہوگا۔شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جب ایک لکھاری اپنی کامیابی کے عروج پر پہنچ کر اندر سے خالی ہو چکا ہوگا۔اس لیے یہ تحریر کسی اخلاقی درس کے طور پر نہیں لکھی گئی بلکہ ایک آئینے کی طرح رکھی گئی ہے۔ان سب کے سامنے جو لفظوں کے پیشے سے وابستہ ہیں۔جو کالم لکھتے ہیں۔ جو مضامین تخلیق کرتے ہیں اور جو اپنی تحریر کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں۔
اگر سہولت نے ہماری سوچ کی جگہ لے لی ہے تو ہمیں رک کر یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اب بھی لکھ رہے ہیں یا صرف شائع ہو رہے ہیں۔
کیونکہ اگر ہم نے سہولت کو صداقت پر ترجیح دینا جاری رکھا تو ایک دن ہمارے صفحات بھرے ہوں گے مگر خالی ہوں گے۔ لفظ موجود ہوں گے مگر تجربہ غائب ہوگا۔ نثر ہموار ہوگی مگر روح بے آواز ہوگی
اور اس دن ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے وقت تو جیت لیا تھا مگر سچ ہار گئے تھے۔اصل کامیابی وقت پر پہنچنا نہیں بلکہ سچ کے ساتھ پہنچنا ہے چاہے اس میں دیر ہی کیوں نہ لگے۔ کیونکہ تاخیر سے پہنچنے والا سچ بھی زندہ رہتا ہے مگر جلدی میں لکھی گئی بے روح تحریر صرف شائع ہوتی ہے زندہ نہیں رہتی
اور اگر ایک لکھاری اپنے لفظوں میں زندگی پیدا نہیں کر سکتا تو پھر اسے یہ حق بھی نہیں کہ وہ اپنے نام کے ساتھ سچ کا دعویٰ کرے۔ہہی اس صحافتی فریب کی صنعت کا اصل المیہ ہے کہ اس کے معتبر چہرے اکثر وہ ہوتے ہیں جو اندر سے سب سے زیادہ سوالوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں

artariq2018@gmail.com
03024080369

اپنا تبصرہ بھیجیں