تحریر: ایم بی سالک
گوادر کا جغرافیہ اگر کسی ایک قدرتی شاہکار کا مرہونِ منت ہے تو وہ “کوہِ باتیل” ہے۔ یہ وہ عظیم پہاڑی سلسلہ ہے جس نے نہ صرف اس شہر کو تین اطراف سے سمندر کے نرغے سے محفوظ رکھا بلکہ اسے ایک دلکش جزیرہ نما کی شکل بھی عطا کی۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر کوہِ باتیل کا وجود نہ ہوتا، تو آج گوادر محض بے رحم لہروں کے درمیان ایک غیر محفوظ ساحلی پٹی ہوتا۔
اس پہاڑ کی بلندی سے گوادر شہر کا نظارہ کسی طلسماتی منظر سے کم نہیں۔ ایک جانب نیلگوں سمندر کی وسعتیں اور دوسری جانب شہر کی باریک لکیر نما آبادی؛ یہ وہ منظر ہے جو سیاحوں اور مقامی افراد کے دلوں کو موہ لیتا ہے۔ قدرت نے اسے نہ صرف حسن بخشا بلکہ “بحرِ بلوچ” کے دہانے پر ہونے کی وجہ سے اسے “گیٹ آف ایشیا” جیسی کلیدی تجارتی اہمیت بھی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں سنگار ہاؤسنگ اسکیم، پی سی ہوٹل اور مرجان جیسے بڑے منصوبے اس کی جدید ترقی کی گواہی دے رہے ہیں۔
اصل مسئلہ: آبی ذخائر کا تحفظ
تاہم، کوہِ باتیل کی اصل روح اس کی جدید عمارات میں نہیں بلکہ اس کے قدیم اور قدرتی آبی ذخائر—کنوؤں اور بندات—میں بستی ہے۔ صدیوں سے مقامی آبادی بارش کے میٹھے پانی کو انہی ذخائر میں محفوظ کر کے اپنی پیاس بجھاتی آئی ہے۔ بارش کے بعد جب پتھریلی زمین سے سبزہ پھوٹتا ہے اور پرندوں کی چہچہاہٹ گونجتی ہے، تو یہ علاقہ پورے مکران کے لیے ایک جنت نظیر سیر گاہ بن جاتا ہے۔
انتظامی غفلت اور ٹینکر مافیا کا راج کو روکنا ہوگا،
افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ قدرتی نظام اب دم توڑ رہا ہے۔ میونسپل کمیٹی کی عدم توجہ نے جہاں صفائی کے نظام کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں ایک سنگین جرم “پانی کی چوری” کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ مختلف نجی کمپنیاں اور بااثر حلقے بارش کے بعد ان بندات میں جمع ہونے والے قیمتی پانی کو ٹینکروں کے ذریعے بے دردی سے نکال لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو ذخیرہ مہینوں تک علاقے کو سیراب رکھ سکتا تھا، وہ چند ہی دنوں میں خشک ہو جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ماحولیاتی تباہی ہے بلکہ مقامی وسائل پر ایک ڈاکہ بھی ہے۔
وقت کی پکار
اب وقت آ گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی اپنی طویل نیند سے بیدار ہوں۔ کوہِ باتیل کے آبی ذخائر سے پانی کی غیر قانونی نکاسی پر فوری اور مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
پانی چوری کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
منتخب عوامی نمائندے، خصوصاً رکنِ صوبائی اسمبلی، کوہِ باتیل کے بندات کی بحالی اور سڑکوں کی پختگی کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کا حصہ بنائیں۔
اس مقام کو ایک باقاعدہ “ایکولوجیکل زون” قرار دیا جائے تاکہ اس کا قدرتی حسن برقرار رہ سکے۔
کوہِ باتیل محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ گوادر کی بقا اور ماحولیاتی توازن کی علامت ہے۔ اگر آج ہم نے اس کی سسکیاں نہ سنیں اور اس کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات نہ کیے، تو کل یہ خاموشی سے اپنی اہمیت کھو دے گا—اور اس کے ساتھ ہی گوادر ایک انمول قدرتی اثاثے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گا۔

