انڈہ پہلے یا مرغی ؟

خالد مسعود خان
عالم یہ ہے کہ موٹر وے اور گاؤں دیہات کی رابطہ سڑکوں کی مرمت کا معاملہ ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے۔ اس طرح کا ٹرخانے والا مرمتی کام تو ملتان کے سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں اور کھڈوں کو پُر کرنے کیلئے نہیں جاتا جس طرح کی ٹرخاؤ مرمت سے موٹر وے کو بھگتایا جا رہا ہے۔ ملتان سے اسلام آباد کے سفر کے دوران فیصل آباد سے تھوڑا پہلے پینسرہ انٹرچینج کے قریب مجھے تھوڑی سستی سی محسوس ہوئی۔ میں نے سروس ایریا پر گاڑی روک کر منہ پر چھینٹے مارے‘ کافی کا ایک کپ لیا اور دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ اس دوران بار بار گاڑی کی باڈی پر نیچے سے چھوٹے چھوٹے کنکر یا پتھر لگنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ میں نے غور کیا تو پتا چلا کہ سامنے سڑک پر پڑنے والے گڑھوں کو تازہ تازہ پُر کیا گیا ہے اور جب گاڑی کے ٹائر ان تازہ مرمت شدہ گڑھوں کے اوپر سے گزرتے ہیں تو ان گڑھوں میں بھرا جانے والا تازہ اسفالٹ ٹائروں سے چپک جاتا ہے اور پھر پہیوں کے چلنے سے پیدا ہونے والی سینٹری فیوگل فورس ان چپکنے والے پتھروں کو نیچے گاڑی کی باڈی پر مار رہی ہے۔ پُر کیے جانے والے گڑھے کسی ترتیب میں تو تھے نہیں کہ دو لین پر مشتمل سڑک میں کوئی صاف لین تلاش کر لی جاتی۔ لہٰذا تھورے تھوڑے وقفے سے یہ کوفت برداشت کرتا رہا۔
فیصل آباد گزرتے ہی نیند کا احساس ہونے لگا تو میں نے حسبِ معمول گاڑی روک کر مختصر سی نیند لینے کا فیصلہ کیا۔ اگلا سروس ایریا ساہیانوالہ تھا‘ جو بیس کلو میٹر دور تھا۔ میں نے بیس کلو میٹر گاڑی چلانے کے بجائے کسی پل کے نیچے گاڑی روک کر سونے کا ارادہ کر لیا۔ پل کے نیچے اس لیے کہ سورج کی براہِ راست روشنی اور تپش سے محفوظ رہ سکوں۔ ڈپٹی والا انٹرچینج سے دو تین کلومیٹر پہلے ایک اوور ہیڈ برج کے نیچے گاڑی روکی‘ سیٹ کو کھینچا‘ فون پر تیس منٹ کا الارم لگایا اور عینک اتار کر آنکھیں بند کیں اور نیند فوراً ہی آگئی۔ میری آنکھ الارم بجنے سے پہلے ہی ایک نامانوس سے شور سے کھل گئی۔ دیکھا کہ ایک ڈالا جس پر سڑک بنانے والا سیاہ رنگ کا گرم گرم اسفالٹ لدا ہوا ہے میری گاڑ ی کے ساتھ کھڑا ہے اور کام کرنے والا عملہ اس ڈالے سے یہ میٹریل میرے آگے اور پیچھے سڑک پر پڑے ہوئے گڑھوں میں ڈال رہا ہے۔ ڈالے کا شور اور عملے کی بھاگ دوڑ سے مچنے والی ہاؤ ہو کے باعث میری آنکھ اپنے طے شدہ وقت سے تھوڑا پہلے کھل گئی تھی مگر میرا مقصد پورا ہو گیا تھا۔ اب میں اگلے کئی گھنٹوں کیلئے تازہ دم تھا۔ درمیان میں لی جانے والی دس سے تیس منٹ کی اس مختصر سی نیند کو پاور نیپ کہتے ہیں اور میں دورانِ سفر نیند کا احساس ہوتے ہی قریب ترین کسی بھی ریسٹ ایریا میں گاڑی روکتا ہوں اور نیند کا سدباب اس پاور نیپ سے کر لیتا ہوں۔
میں نے ڈالے کے پہلو میں کھڑے ہوئے اس مرمتی کام کے سپروائزر دکھائی دینے والے شخص سے پوچھا کہ یہ کس معیار کی مرمت کی جارہی ہے کہ ڈالا جانے والا سارا اسفالٹ گاڑیوں کے ٹائروں سے چپک کے اُڑ رہا ہے۔ آپ ڈالے جانے والے مرمتی میٹریل کو اچھی طرح دبانے اور بٹھانے کے بجائے محض گڑھے میں ڈال کر اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ شرمندہ ہوتا وہ الٹا مجھے سمجھانے لگ گیا کہ موٹر وے پر چلنے والے ٹرک اور بھاری گاڑیاں اس میٹریل کو ہم سے کہیں بہتر طور پر پریس کر دیں گی۔ میں نے کہا مجھے یہ تو علم نہیں کہ یہ میٹریل بھاری گاڑیوں اور ٹرکوں کے گزرنے سے بیٹھے گا یا نہیں لیکن اتنا ضرور پتا ہے کہ بیٹھنے سے پہلے ہی آدھا میٹریل ٹائروں سے چپک کر اُڑ جائے گا۔ وہ کہنے لگا: سرجی! آپ فکر نہ کریں جو مال اُڑ جائے گا ہم ایک دو دن بعد دوبارہ ڈال دیں گے۔
گزشتہ سے پیوستہ ہفتے میں لاہور سے واپس آرہا تھا اور میرے آگے ایک ایس یو وی جا رہی تھی۔ میرے اور اس کے درمیان مسلسل لگ بھگ ڈیڑھ سو میٹر کا فاصلہ تھا اس لیے مجھے اندازہ تھا کہ وہ ایک سو دس کلومیٹر کی رفتار سے جا رہا ہے۔ اچانک اس گاڑی نے بریک لگاتے ہوئے ایک غیر معمولی جھٹکا لیا اور گاڑی بائیں طرف موڑتے ہوئے سائیڈ پر ہارڈ شولڈر کے طرف لگا دی۔ سامنے سڑک پر اس کے ٹوٹے ہوئے بمپر کا ایک بڑا سا ٹکڑا اور ایک کتا مرا پڑا تھا۔ میں اپنی گاڑی آہستہ کرتے ہوئے اس گاڑی کو دیکھا‘ اس کا آدھا بمپر غائب تھا جبکہ بقیہ آدھا بمپر بری طرح ٹوٹ کر لٹکا ہوا تھا اور ریڈی ایٹر کی گرِل پچکی پڑی تھی۔ اللہ جانے ریڈی ایٹر سلامت تھا یا اس ٹکر سے متاثر ہوا تھا لیکن گاڑی والے کو کئی لاکھ روپے کی ”ڈز‘‘ پڑ چکی تھی۔ مہذب ممالک میں اول تو تمام گاڑیاں مکمل انشورڈ ہوتی ہیں بصورت دیگر ایسے کسی حادثے کی صورت میں ٹول ٹیکس وصول کرنے والے گاڑی کے نقصان کا ازالہ کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔
ہم موٹر وے پر ٹول ٹیکس ایک محفوظ‘ آرام دہ‘ تیز رفتار اور عام سڑکوں پر اچانک سامنے آجانے والی ٹریفک‘ ریڑھیوں‘ انسانوں اور جانوروں جیسی قباحتوں سے بچنے کے عوض ادا کرتے ہیں۔ لیکن اب موٹر ویز پر ارد گرد کے دیہات کے لوگ‘ ان کے مویشی اور آوارہ کتے اُکا دکا کی تعداد سے زیادہ دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ دیہات کے پاس سے گزرنے والے موٹر وے سیکشنز کے ساتھ لگی ہوئی حفاظتی باڑ لوگوں نے بالکل ویسے ہی کاٹ دی ہے جیسی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں نے پاک افغان سرحد پر لگنے والی حفاظتی باڑ جگہ جگہ سے کاٹ دی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں! چاہیے تو یہ کہ سرکار کٹی ہوئی باڑ کی مرمت کرتے ہوئے اس علاقے کے دیہات کے عمائدین اور عوام کو تنبیہ کرے کہ وہ اپنے علاقے کی حفاظتی باڑ کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اور باڑ کے کٹنے یا نقصان کی صورت میں نہ صرف یہ کہ اس کی مرمت کا سارا خرچ اہل دیہہ سے وصول کیا جائے گا بلکہ ان پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں فوجداری قانون کے تحت پرچہ کاٹ کر سزا بھی دی جائے گی۔
ہم بچپن سے ایک پہیلی نما سوال سنتے تھے کہ پہلے مرغی پیدا ہوئی یا انڈہ وجود میں آیا۔ اس سوال کا کوئی منطقی جواب تو اب تک ہماری عقل یا سمجھ میں نہیں آیا تاہم سائنسدانوں نے بالآخر اس کا بھلے غیر منطقی ہی سہی مگر جواب نکال لیا ہے کہ نظریۂ ارتقا کے مطابق موجودہ مرغی اپنے قدیم آباؤ اجداد سے بتدریج ارتقا کے ذریعے وجود میں آئی۔ آپ سائنسدانوں کے اس نتیجے سے اتفاق کریں یا نہ کریں مگر کم از کم انہوں نے ایک عرصہ سے لاینحل اس مسئلے کا کوئی جواب تو نکال ہی لیا۔ لیکن ہمارے ماہرین ابھی تک اس سوال کا جواب معلوم نہیں کر سکے کہ سڑک پہلے بننی چاہیے یا یوٹیلیٹی سروسز کو پہلے بچھایا جانا چاہیے۔ ابھی سڑک بن کر پوری طرح تیار نہیں ہوتی کہ سیوریج والے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ دوبارہ سے مرمت کی گئی سڑک کا ایک پنجابی محاورے کے مطابق ”ابھی راہ بھی میلا نہیں ہوا ہوتا‘‘ کہ ٹیلی فون والوں پر نئی تاریں بچھانے کا خبط سوار ہو جاتا ہے۔ اب بھلا گیس والے اس معرکے میں کیوں شریک نہ ہوں ؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سڑک بنتی ہے‘ ادھڑتی ہے‘ پھر بنتی اور پھر بنتی ہی رہتی ہے۔
چند ماہ قبل راول چوک اسلام آباد سے این اے آر سی کی جانب جانے والی سڑک ابھی بمشکل مکمل ہوئی تھی کہ اب اس پر ایک انڈر پاس بننا شروع ہو گیا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی نئی سڑک برباد ہو گئی ہے۔ یہ ہماری سرکاری کارکردگی کا نہ تو پہلا واقعہ اور نہ ہی آخری۔ عشروں سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ سرکاری خزانہ اور سڑکیں مسلسل برباد ہو رہی ہیں مگر ایک ہی شہر میں کام کرنے والے سرکاری ادارے آج تک کام کی ترجیحات اور ان کے درمیان تال میل کا فارمولا طے نہیں کر سکے۔ یہ تو انڈے اور مرغی والے مسئلے سے بھی زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں