بابر اعوان
پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل ڈکٹیٹرشپ کی کئی باتیں صدر ٹرمپ کی ہم جولی لگتی ہیں۔ بات بات پر CMLA آرڈر نمبر 420‘ 1680‘ 840 جاری ہو جاتا۔ مثال کے طور پر قومی لباس شیروانی ہے‘ اسے جاری کرنے کا مطلب عوام کو اسلامائزیشن کا دھوکا دینا تھا۔ سرکاری دفاتر میں پُہوڑ بچھا کر صفیں درست رکھیں‘ اس کا مقصد نیکی کی تلقین تھا۔ دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنے والوں کو کبھی یہ خیال نہ آیا کہ انہوں نے کس اختیار سے پنشن ایبل ملازمت سے اپنے آپ کو اولی الامر کے درجے پر فائز کر لیا۔ پٹرول کی بچت اور حکومتی اخراجات پر اس سے بھی کمال کا آرڈر نکلا۔ امرِ حاکم جاری ہوا کہ کل صبح دو ہزار سرکاری ملازمین کو بینک روڈ پنڈی سے کمیٹی چوک تک دو رویہ کھڑا کرکے سادگی اور بچت کی چلتی پھرتی مثال سائیکل چلائیں۔ اُس دور کے جاری ہونے والے اکثر آرڈر عارضی ہوا کرتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے آرڈر گزٹ آف پاکستان میں نوٹیفائی کرکے پبلش کئے جاتے رہے۔ اس آرڈرستان میں واحد عارضی چیز آرڈر تھی‘ جس پر بیورو کریسی نے یہ واقعاتی لطیفہ گھڑ لیا تھا‘ CMLA کا مطلب ہے ”کینسل مائی لاسٹ انائونسمنٹ‘‘۔ جس نرسری کے پودوں کو سائیکل راج میں بغیر ووٹوں کے اقتدار سونپے گئے‘ ڈکٹیٹرشپ کی اس باقیات نے ویسے ہی آرڈر کرنے کا چلن گھٹی میں پایا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ ایران آج ایک نئی طرح کی عالمی جنگ لڑ رہا ہے۔ پرشین گلف اور گلف آف میکسیکو المعروف گلف آف امریکہ کا طاقتوں سے جنگ لڑنا عالمی جنگ نہیں تو اور ہے کیا؟ اتنے بڑے معرکے کے باوجود اس وقت ایران میں پاکستانی روپے کے حساب سے پٹرول پندرہ روپے فی لٹر بک رہا ہے۔ لیکن جونہی اس جنگ کا اعلان ہوا‘ غربت کی لکیر سے بھی نیچے جینے والے عوام کے گلے کاٹنے‘ کسانوں کے پیٹ کاٹنے اور مڈل کلاس کی جیب کاٹنے کے لیے ڈیزل‘ پٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس پر میڈیا نے مشکل فیصلہ سازی کا نعرہ لگا کر ہائبرڈ نظام کو خراجِ تحسین پیش کر دیا۔ اس داد وتحسین سے خوش ہو کر حکومت نے بطور انعام ہائی اوکٹین کی قیمت میں تین سو فیصد کا اضافی ٹانکا لگا دیا۔ ساتھ ہی مٹی کے تیل کو تاریخ میں سب سے مہنگا کر دیا۔
قارئینِ وکالت نامہ! سرکاری میڈیا اور درباری بندگانِ شکم کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جس طرح پینٹاگون کی فیصلہ سازی ان سے پوچھ کر ہوتی ہے۔ جب کوئی درباری راگ چھیڑتا ہے کہ ہم عملی طور پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس کے بطن سے شہرِ اقتدار میں ہر روز املی زدہ لطیفے جنم لے رہے ہیں۔ ان میں سے دو آپ بھی پڑھ لیجیے: پہلے لطیفے کا راوی کہتا ہے ایک لوکل ارسطو نے ایرانی سے کہا: آغا آپ فکر نہ کریں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آغا نے جواب دیا: آپ پر امن کے نوبیل پرائز کا بھاری بوجھ پڑا ہوا ہے اس کے ساتھ کھڑا رہنا آپ کی کمر توڑ دے گا اس لیے آپ بیٹھ جائیں۔ دوسرا لطیفہ اقوامِ متحدہ سے آیا ہے۔ اس لطیفے کے راوی کے مطابق اقوامِ متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے ایران پر امریکہ اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ بند کرنے کے لیے قرارداد پیش کی گئی جس پر بیرونی ارسطو نے کہا‘ میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔ پھر یو این سکیورٹی کونسل میں صدر ٹرمپ بہادر نے ایران کی طرف سے جی سی سی ممالک میں تیرہ امریکی اڈوں اور تنصیبات پر ایران کے خلاف قرارداد داخل کر دی۔ بیرونی ارسطو نے ایک بار پھر کہا‘ میں اس کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کے بعد عالمی حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کی۔ خیال آرائی یہ کی کہ ایران کے پاس ویپن آف ماس ڈسٹرکشن موجود تھے‘ اس لیے امریکہ نے pre-emtive strike کا حق استعمال کیا ہے۔ بیرونی ارسطو نے پھر سے وہی جملہ دہرا دیا: میں اس کی بھی تائید کرتا ہوں۔ تائید سے تنگ آ کر یو این کے سیکرٹری جنرل نے سوال کیا: میاں یہ کیا! آپ ہر طرف تائید کرتا ہوں‘ تائید کرتا ہوں کہہ رہے ہیں۔ آپ کسی ایک طرف تائید کریں۔ بیرونی ارسطو اس سوال پر واہ واہ کرتے ہوئے پہلے لہرائے‘ پھر شرمائے‘ آخر میں مسکرائے اور کہنے لگے‘میں آپ کی بھی تائید کرتا ہوں۔ تائید سے یاد آیا ہائبرڈ سرکار نے ٹرمپ کے ایران سے امن مذاکرات کی بھی تائید کر دی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹرمپ کے دعویٰ مذاکرات پر یوں تبصرہ کیا ”امریکہ امریکہ سے مذاق رات کر رہا ہے‘‘۔ ساتھ کہا: ایرانی قوم شہدا کا بدلہ تاوانِ جنگ اور آبنائے ہرمز پر حقِ ملکیت تسلیم کئے بغیر مذاکرات نہیں کرے گی۔
امریکی مذاکرات کا منترا دھوکے اور اعترافِ شکست کے سوا اور کچھ نہیں۔ جس کا پچھلا ثبوت 24 جون 2025ء کے روز ملتا ہے جب عالمی ایٹمی توانائی کے ادارے کے توسط سے ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر یلغار کی تھی۔ تازہ ثبوت 28 فروری 2026ء کی بلا اشتعال امریکہ اسرائیلی جنگ سے شروع ہوا جو تاحال چل رہا ہے۔ ایران پر یہ حملہ بھی مذاکرات کو مثبت کہنے کے بعد شروع ہوا۔ کچھ نادان یا تو اصل بات سمجھ نہیں پا رہے ہیں یا چھپا رہے ہیں۔ یہی کہ امریکہ کو F35 سٹیلتھ‘ B52‘ AI کی مشینوں اور ہائی ٹیک chips کے لیے قیمتی منرلز کی فوری ضرورت ہے اسی لیے کبھی آئس لینڈ‘ کبھی کیوبا‘ کبھی برازیل‘ کبھی کینیڈا اور کبھی یوکرین کے بازو مروڑ کر ان جیسے ملکوں کے منرلز تک رسائی امریکہ کا مسئلہ نمبر ایک ہے۔ یو ایس بہادر صرف چین کا تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔ اتنی بڑی رقم کمائی نہیں جا سکتی‘ کمزوروں سے مگر لوٹی جا سکتی ہے۔ ایران قومی وسائل اور آبرو دونوں سرنڈر کرنے پر تیار نہیں۔ دوسرے مسلم ملکوں کے منیجرز ٹرمپ کی ہر ادا پر فدا ہونے کی دوڑ میں لگے ہیں۔
چھڑکتے ہیں جو اپنا خون امیروں کے پسینے پر
غریبوں پر بھی دو آنسو بہا لیتے تو کیا ہوتا
زبانِ شاہ سے اوچھے خطابوں کے تمنائی
گدائے رہ نشیں کی بھی دعا لیتے تو کیا ہوتا
Load/Hide Comments

