نہیں جے شنکر! پاکستان تمہارا محسن ہے

سعود عثمانی
نہیں مسٹر جے شنکر! پاکستان تمہارا محسن ہے۔ غصے‘ شرمندگی اور جھنجھلاہٹ کی کیفیات سے نکل کر دیکھو گے تو آئینے میں اپنا چہرہ بھی ٹھیک دکھائی دے گا اور گردو پیش کی دنیا بھی۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ بھارت اس جنگ کے کیا نتائج بھگت رہا ہے جو اَب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اور یہ تو کچھ بھی نہیں‘ خدا نخواستہ یہ جنگ مزید ایک ماہ طویل ہوتی ہے تو دنیا کے ساتھ بھارتیوں کی چیخیں بھی اونچی آواز میں سنائی دینے لگیں گی جو ابھی نچلے سروں میں ہیں۔ اس لیے پاکستانی قیادت میں جو جنگ بندی اور تصفیے کی کوششیں ہو رہی ہیں‘ وہ اپنے لیے ہی نہیں پوری دنیا کیلئے ہیں‘ خا ص طور پر اس خطے کیلئے۔ عرب ممالک میں حملے ہو رہے ہیں اس لیے انہیں بھی جنگ سے باہر نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ حقیقی تباہی کے ساتھ معاشی اور توانائی کی تباہی کے خطروں کی براہِ راست زد میں ہیں۔ لیکن وہ ممالک جن پر جنگ میں براہ راست شامل نہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ اثرات پڑیں گے‘ ان میں پاکستان بھی ہے جبکہ بھارت اس خطے میں جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ہو سکتا ہے۔ بلکہ اپنی بہت بڑی آبادی اور عرب ممالک میں بھارتیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بہت ممکن ہے بھارت متاثرین میں پہلے نمبر پر ہو۔
یہ مسائل صرف بھارت نہیں سب ممالک بھگت رہے ہیں ‘ لیکن اس وقت ہم بھارت کی بات کر رہے ہیں۔ جہاں تک جنگ کے اثرات کا تعلق ہے ‘ بھارتی شہروں میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں اور گیس سلنڈر کیلئے گھنٹوں سے منتظر شہریوں کی قطاروں سے ہی فوری اثرات کا اندازہ ہو جائے گا۔ تم کیا جانتے نہیں کہ بھارت دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا بڑا خریدار ہے۔ سٹاک مارکیٹیں بری طرح نیچے آئی ہیں اور Nfity 50 اور BSE Sensex نے سات سے دس فیصد تک سرمایہ کھو دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے جنگ کے آغاز سے اب تک 12 ارب ڈالر بھارتی سٹاکس سے نکال لیے ہیں۔ بھارتی روپیہ بھی جنگ کے آغاز سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں چار فیصد گرا ہے اور اس وقت 92 روپے (انڈین) فی ڈالر ہے۔ یہی بھارتی روپیہ جو ایک ماہ قبل 3.07 پاکستانی روپے کے برابر تھا‘ اس وقت 2.94 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اس جنگ میں بھارت کیلئے تین چار بہت بڑی پریشانیاں ہیں۔ اول توانائی کی ترسیل! بھارت دنیا میں تیل کا تیسرا سب سے بڑا خریدار ہے اور 55 فیصد تیل وہ مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے۔ یہ اس کی صنعتوں کیلئے ہی نہیں‘ شہری زندگی کا پہیہ چلانے کیلئے بھی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ دوسرا مسئلہ تیل کی بڑھتی قیمتیں ہیں جس پر کسی بھی ملک کا کوئی اختیار نہیں۔ بھارت میں تیل کے ذخائر کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ کچھ کے خیال میں چھ سے سات دن کا تیل موجود ہے‘ کچھ خام تیل کا ذخیرہ 25 دن کی ضرورت کا بتاتے ہیں۔ لیکن تیل اور گیس کا مستقبل غیر یقینی ہونے کے باعث ہر وقت یہ ذخیرہ ختم ہو جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس جنگ سے بھارتی تجارت مسدود یا محدود ہو جانا بھی معیشت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔
ایک بہت بڑا مسئلہ ان 90 لاکھ بھارتیوں کا ہے جو عرب ممالک میں نجی اور سرکاری ملازمتوں یا کاروبار کیلئے موجود ہیں۔ یہ بھارتی معیشت کا ستون ہیں اور سالانہ 40 ارب ڈالر بھارت بھیجتے ہیں جو دنیا بھر کے بھارتیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی کل ترسیلات کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ اول تو ان 90 لاکھ بھارتیوں کی حفاظت پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پھر اگر ان کی ملازمتیں جاتی اور کاروبار ختم ہو جاتے ہیں تو لامحالہ یہ بھارت ہی کا رخ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جیسے جیسے جنگ آگے بڑھ رہی ہے اور عرب ممالک خاص طور پر یو اے ای سے کاروبار ٹھپ ہونے اور ڈائون سائزنگ کی اطلاعات آرہی ہیں‘ جن ممالک کی افرادی قوت وہاں موجود ہے‘ سب سے زیادہ متاثر وہی ہوں گے اور بھارت ان میں پہلے نمبر پر ہے۔
اس جنگ نے بھارتی فرٹیلائزر مصنوعات کی سپلائی پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو اگلی فصلوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح سفری سہولتیں بھی بڑے دھچکے کا شکار ہوئی ہیں۔ اس جنگ سے پہلے بھی پاکستان نے تقریباً ایک سال سے بھارتی طیاروں کا اپنی فضا میں داخلہ بند کر رکھا ہے‘ جس سے بھارتی ایئر لائنز بہت خسارہ برداشت کر رہی ہیں۔ اب موجودہ جنگ میں ہفتہ وار ڈیڑھ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں یا طویل راستوں سے اپنی منزل تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بیشمار شعبے ایسے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ جنگ کے اثرات کی لپیٹ میں ہیں۔
مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ خطے میں ایک جنگ شروع ہو چکی ہے جس میں وہ ممالک بھی لپیٹ میں آ رہے ہیں جن کا اس جھگڑے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ بات یہ ہے کہ کون ملک کس فریق کی طرف کھڑا ہے‘ کون کس کا حلیف ہے اور مخالف فریق اسے کس نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم پاکستانی یہ کہتے ہوئے خوش ہوتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بنیادی طور پر اصولوں پر کھڑی ہے اور متوازن ہے‘ اس نے لالچ اور مفاد میں فیصلہ نہیں کیا۔ دوسری جانب ایک طویل مدت سے بھارت کی خارجہ پالیسی کا محور اس کے مفادات ہیں‘ اصول نہیں‘ ہمسائیگی نہیں اور دیرینہ رشتے بھی نہیں۔ ظالم اور مظلوم کی تفریق کیے بغیر یہ خود غرض پالیسی اس جنگ میں مزید نمایاں ہو گئی ہے اور اب پوری دنیا کے سامنے برہنہ ہے۔ غزہ کے80 ہزار مسلمانوں کی مظلوم شہادت اور قتل عام پر بھارت نے ہمدری کا ایک لفظ تک نہیں کہا اس لیے کہ وہ اسرائیل کا مکمل حلیف ہے۔ یاد ہو گا کہ اسرائیل کو سب سے پہلے تسلیم کانگریسی حکومت نے کیا تھا لیکن بی جے پی کے زمانے میں جس طرح اسرائیل کو گلے لگایا گیا اور اس سے ٹیکنالوجی‘ دفاعی‘ افرادی قوت اور تجارت کے معاہدے کیے گئے ہیں اس کی مثال بھارت کی خارجہ پالیسی میں نہیں ملتی۔ موجودہ جنگ سے چند گھنٹے پہلے نریندر مودی کا اسرائیل میں ہونا‘ اسرائیلی سینیٹ سے خطاب اور اسرائیل کی طرف سے مودی کو بڑا اعزاز دیا جانا بہت سے خفیہ معاملات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس جنگ نے بھارت کی خود غرض خارجہ پالیسی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ امریکی اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے شہید ہونے کی مذمت میں بھارتیوں کو ایک لفظ بھی کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اسی طرح ایرانی بحری جہاز جو بھارت میں مشقوں سے واپس لوٹ رہا تھا ‘ بھارتی حدود کے قریب غرق کر دیا گیا۔ اس میں87 ایرانی بحری اہلکار شہید ہوئے لیکن بھارت نے نہ اس حملے کی مذمت کی نہ اس جہاز کی مدد کی۔ ایران پر مسلسل اور ہر طرح کے حملوں اور شہری ہلاکتوں پر بھارت کی طرف سے لفظی ہمدردی بھی نہیں کی گئی۔ ایرانی بچیوں کے سکول پر بمباری کا دکھ پوری دنیا نے محسوس کیا لیکن بھارت خاموش رہا۔ وہ ایران سے اپنے دیرینہ مراسم بھی بھول چکا۔ اس بے مروت پالیسی کی وجہ امریکہ اور اسرائیل اور عرب ممالک سے بھارت کے مفادات ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور عرب ممالک کو بھارت کے یہ بدلتے چہرے خاص طور پر یاد رکھنے چاہئیں۔
اس لیے مسٹر جے شنکر! بھارتی وزیر خارجہ کے طور پر آپ کتنے بھی گھٹیا الفاظ پاکستان کی ثالثی کیلئے ادا کرو (جن سے جلن اور نظر انداز کیے جانے کی تکلیف نظر آتی ہے)‘ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں ایران کی جنگ کا سب سے بڑا بالواسطہ شکار بھارت ہوگا۔ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی کا ملک ابھی سے پورے خطے میں سب سے زیادہ اثرات بھگت رہا ہے۔ جے شنکر! یہ تصفیہ ہو یا نہ ہو‘ جنگ رکے یا نہ رکے‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تمہارا محسن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں