اداریہ
دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک ممکنہ عالمی جنگ کے خدشات کو تقویت دی ہے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر تیسری عالمی جنگ کا آغاز نہیں ہوا، مگر مختلف خطوں میں جاری تنازعات، پراکسی جنگیں، اور سفارتی محاذ آرائی ایک خطرناک سمت کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
مشرقِ یورپ میں جاری جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بے چینی، اور ایشیا پیسیفک میں طاقت کا توازن بگڑنے کے خدشات نے عالمی امن کو کمزور کر دیا ہے۔ بڑی طاقتیں جہاں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں، وہیں چھوٹے ممالک اس کشمکش کا ایندھن بن رہے ہیں۔ جدید ہتھیاروں، سائبر جنگ، اور معلوماتی پروپیگنڈے نے جنگ کے روایتی تصور کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارے، جو امن کے ضامن سمجھے جاتے تھے، اب کمزور اور غیر مؤثر دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارتکاری کی جگہ دھمکیوں اور پابندیوں نے لے لی ہے، جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت ہوش کے ناخن لے اور تصادم کے بجائے مکالمے کو فروغ دے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ انسانی تباہی، معاشی زوال، اور سماجی انتشار کا سبب بنتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے ہمیشہ نقصان ہی پہنچایا ہے، جبکہ امن اور تعاون نے ترقی کی راہیں ہموار کی ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ قیادت، مؤثر سفارتکاری، اور عالمی تعاون ہی وہ واحد راستہ ہے جو دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتا ہے۔

