تحریر:رشیداحمدنعیم
وہ رات بھی عجیب تھی۔چولہے میں آگ بجھ چکی تھی مگر گھر کے اندر بھوک کی تپش ابھی باقی تھی۔ ایک بوڑھی ماں نے آٹے کے خالی ڈبے کو کئی بار الٹ پلٹ کر دیکھا شاید کوئی ذرا سا آٹا بچ گیا ہومگر نہیں صرف خالی پن تھا۔ بچے کمرے کے ایک کونے میں لیٹے تھے۔ ایک نے ماں سے پوچھا”امی! کل روٹی ملے گی نا؟“ ماں نے مسکرا کر ہاں کہہ دیا مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب اس کے پاس خود بھی نہیں تھا۔ باہر گلی میں بجلی کا کھمبا کھڑا تھا مگر اس گھر میں اندھیرا صرف روشنی کا نہیں بلکہ زندگی کا تھا۔ بجلی کا بل ہاتھ میں تھا۔بل اتنا کہ اگر ادا کرے تو بچے بھوکے رہیں اور اگر بچوں کو کھلائے تو بل کا بوجھ اس کے دروازے پر دستک دیتا رہے۔
ایک مزدور تھا۔ سارا دن دھوپ میں اینٹیں اٹھاتا رہا۔ پسینہ اس کے جسم سے یوں بہہ رہا تھا جیسے اس کی محنت زمین پر ٹپک رہی ہو۔ شام کو جب وہ گھر لوٹا تو جیب میں چند کرنسی نوٹ تھے اور ہاتھ میں بجلی کا بل تھا۔ وہ دروازے پر رکا۔کچھ لمحے چپ رہا پھر آہستہ سے اندر داخل ہوا۔ بیوی نے پوچھا”آج کچھ لے کر آئے ہو؟“ اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔ بچے اس کے گرد جمع ہو گئے مگر وہ نظریں نہیں اٹھا سکا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا”میں اپنی محنت سے زندہ رہوں یا ریاست کے ٹیکسوں سے مر جاؤں؟“’ اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا اور چھت کو دیکھتے ہوئے سوچتا رہا کہ کیا یہی وہ ملک ہے جہاں خواب دیکھنے کی اجازت تھی؟
یہ کہانیاں محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ اس معاشرے کی سچائی ہیں جہاں معیشت کے نام پر عوام کی سانسیں تک گروی رکھی جا رہی ہیں۔ ایک طرف حکومتی ایوانوں میں بیٹھے وزرا اور مراعات یافتہ حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حالات بہتر ہو رہے ہیں مگر دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔معیشت کا بنیادی اصول کیا ہے؟ کیا معیشت صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے؟ کیا چند گراف اوپر چلے جائیں تو قوم خوشحال ہو جاتی ہے؟ یا پھر معیشت کا اصل چہرہ وہ ہوتا ہے جو ایک عام شہری کی زندگی میں نظر آتا ہے؟ جب ہسپتالوں میں دوائیں نہ ہوں، سکولوں میں تعلیم نہ ہو، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں، روزگار کے مواقع ختم ہو جائیں اور مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہوتو پھر یہ کیسی ترقی ہے؟ یہ کیسا عروج ہے؟
یہ سوال صرف عوام کا نہیں، یہ سوال عقل کا ہے. انصاف کا ہے اور حقیقت کا ہے۔
جب معیشت کو ٹیکسوں اور جرمانوں کے سہارے چلایا جائے تو وہ معیشت نہیں ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی کامیاب معیشت اس اصول پر نہیں چلتی کہ عوام پر مسلسل بوجھ ڈالا جائے اور اسے ترقی کا نام دیا جائے۔ کامیاب معیشت وہ ہوتی ہے جو پیداوار بڑھائے، روزگار پیدا کرے، صنعتوں کو فروغ دے اور عوام کو سہولت فراہم کرے نہ کہ ان کی جیبوں سے آخری سکہ بھی نکال لے۔یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہر روز ایک نیا ٹیکس، ایک نیا جرمانہ، ایک نیا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ٹریفک قوانین میں تبدیلی کے نام پر جرمانوں کی بھرمار، بجلی کے بلوں میں نئے فکس چارجز، میٹر رینٹ جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معیشت کو مضبوط کرنے کی بجائے عوام کو کمزور
کیا جا رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کیا کوئی معیشت عوام کو دباکر کامیاب ہو سکتی ہے؟سرکاری طوطوں اور مراعات یافتہ صحافیوں سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کس بنیاد پر معیشت کو کامیاب قرار دے رہے ہیں؟ کیا ان کے نزدیک معیشت صرف حکومتی بیانیے کا نام ہے؟ کیا وہ کبھی اس مزدور کے گھر گئے ہیں جس کے پاس بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں؟ کیا انہوں نے کبھی اس ماں کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے جو اپنے بچوں کو بھوکا سلا دیتی ہے؟
آپ کہتے ہیں معیشت عروج پر ہے تو پھر یہ بتائیے کہ عوام کیوں زوال کا شکار ہیں؟
آپ کہتے ہیں ترقی ہو رہی ہے تو پھر یہ ترقی کس کے لیے ہے؟
آپ کہتے ہیں استحکام آ رہا ہے تو پھر یہ بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے؟
معیشت کا مطلب صرف خزانے بھرنا نہیں ہوتابلکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے لوگوں کی زندگی آسان بنانا۔ اگر خزانہ بھر جائے اور عوام خالی ہو جائیں تو وہ معیشت نہیں استحصال ہوتا ہے۔ یہ مراعات یافتہ صحافی جو حکومتی بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں ان سے ایک اور سوال ہے کیا آپ کی ذمہ داری صرف حکومتی قصیدہ گوئی کرنا ہے؟ کیا آپ کا قلم صرف وہی لکھے گا جسے ایوانِ اقتدار میں پسند کیا جاتاہے؟ کیا آپ نے کبھی سچ لکھنے کی ہمت کی ہے؟آپ کے پاس وسائل ہیں۔سہولیات ہیں۔مراعات ہیں مگر کیا آپ کے پاس ضمیر بھی ہے؟
معیشت کو کامیاب قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ جب ایک غریب آدمی دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے حاصل کرے، جب وہ بجلی کے بل سے خوفزدہ ہو، جب وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں پریشان ہوتو اس وقت معیشت کی کامیابی کے دعوے محض مذاق لگتے ہیں۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکس کسی بھی ریاست کا حصہ ہوتے ہیں مگر ٹیکس کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہوتا ہے نہ کہ انہیں سزا دینا۔ جب ٹیکسوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ جائے کہ عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے تو یہ پالیسی نہیں زیادتی ہوتی ہے۔ بجلی کے بلوں میں فکس چارجز کا اضافہ ایک واضح مثال ہے۔ ایک صارف بجلی استعمال کرے یا نہ کرے اسے ادائیگی کرنی ہے۔یہ اصول نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ معیشت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے اگر ایک شخص بچت کرتا ہے۔بجلی کم استعمال کرتا ہے تو اسے فائدہ ملنا چاہیے نہ کہ سزا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس سمت جا رہی ہے۔ کیا وہ عوام کو ساتھ لے کر چلنا
چاہتی ہے یا ان پر بوجھ ڈال کر انہیں مزید پیچھے دھکیلنا چاہتی ہے؟
معیشت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی زندگی میں کتنا سکون ہے؟کتنا استحکام ہے؟ اور کتنی امید ہے؟ اگر یہ سب ختم ہو جائیں تو پھر معیشت کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
یہ وقت ہے سچ کو تسلیم کرنے کا۔ یہ وقت ہے حقیقت کو ماننے کا۔ جب تک یہ اعتراف نہیں کیا جائے گا کہ مسائل موجود ہیں اور اس وقت تک ان کا حل بھی ممکن نہیں۔
قومیں سچ سے بھاگ کر ترقی نہیں کرتیں بلکہ سچ کا سامنا کر کے آگے بڑھتی ہیں۔اگر واقعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے عوام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کے مسائل کو سمجھنا ہوگا۔ ان کے بوجھ کو کم کرنا ہوگا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی ورنہ یہ کہانیاں،یہ بھوکے بچے، یہ پریشان مزدور، یہ بے بس ماں اسی طرح زندہ رہیں گے۔ ہر نیا دن ایک نئی اذیت لے کر آئے گااور پھر شاید کوئی بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا کہ معیشت واقعی کامیاب ہو رہی ہے
سوال صرف معیشت کا نہیں ضمیر کا ہے۔ اگر ترقی کے نام پر انسان کو کچلا جائے، اگر اعداد و شمار کی چمک میں آنسو چھپا دیئے جائیں، اگر ریاست اپنے ہی شہریوں کے لیے بوجھ بن جائے تو پھر یہ کامیابی نہیں ایک خاموش شکست ہے۔ قومیں نعروں سے نہیں انصاف سے بنتی ہیں۔ پالیسیاں نہیں انسانیت انہیں زندہ رکھتی ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا فریب کے ساتھ بہتے رہیں گے؟ کیونکہ تاریخ ہمیشہ گواہی دیتی ہے جب عوام ٹوٹتے ہیں تو ریاستیں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔
03014033622
rasheed03014033622@gmail.com

