جے شنکر کی بد زبانی

محمد اظہارالحق
قد چھ فٹ سے زیادہ! جسم مضبوط اور متناسب! دیکھنے میں شخصیت وجیہ‘ رعب دار اور دلکش! مگر موصوف جب بولتے تو سننے والا افسوس کرتا کہ کاش نہ بولتے۔ اتنی بے اثر اور فضول گفتگو کرتے کہ سارا تاثر زائل ہو جاتا۔ جو بات بھی کرتے‘ احمقانہ کرتے۔ سب نے ان کا نام گِٹّے شاہ رکھ دیا۔ گِٹّا پنجابی میں ٹخنے کو کہتے ہیں۔ بیوقوف آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عقل اس کے گِٹّے میں بھی نہیں۔ اسی وجہ سے ان کا نام گِٹّے شاہ پڑ گیا۔
غور کریں تو بھارت آپ کو گِٹے شاہ لگے گا۔ اس کا نقشہ دیکھیں تو انسان حیران ہوتا ہے اور متاثر!! کہاں کیرالہ اور تامل ناڈو اور کہاں ہما چل پردیش اور آسام! رقبہ 32 لاکھ 87 ہزار مربع کلو میٹر سے زیادہ! یعنی پاکستان کے رقبے سے چار گنا بڑھ کر! جنوب میں بھارت کا آخری شہر کنیا کماری ہے۔ یہ ریاست تامل ناڈو میں ہے۔ شمال میں بھارت کا آخری شہر لیہہ (Leh) ہے جو لداخ میں واقع ہے۔ ان دونوں‘ یعنی انتہائی جنوبی اور انتہائی شمالی شہروں کا درمیانی فاصلہ تین ہزار آٹھ سو کلو میٹر ہے۔ بھارت کا انتہائی مشرقی شہر کبیتو (Kibithu) ہے جو اروناچل پردیش کا حصہ ہے۔ اندازہ لگائیے‘ کنیاکماری سے کبیتو کا فاصلہ چار ہزار کلو میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں کراچی سے گلگت کا فاصلہ دو ہزار کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ بھارت کی جغرافیائی وسعت پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ شیر ہے۔ مگر بھارتی حکومت کا مائنڈ سیٹ‘ اس کی تنگ نظری اور تعصب دیکھیں تو اس وسعت کا تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ حالیہ جنگ کے نتیجے میں‘ جو بھارت نے پاکستان پر مسلط کی‘ یوں بھی بھارت کاغذی شیر ثابت ہوا۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے بعد بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے جو شائستگی سے گری ہوئی سوقیانہ زبان استعمال کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جے شنکر بھی بی جے پی کے اسی انتہا پسند گروہ سے تعلق رکھتا ہے جس سے ادتیا ناتھ‘ امیت شاہ اور خود مودی کا تعلق ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور طویل سفارتکاری کا تجربہ بھی جے شنکر کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ یعنی:
خرِ عیسیٰ گرش بہ مکّہ برند؍ چون بیاید ہنوز خر باشد
حضرت عیسیٰ کے گدھے کو کیوں نہ مکہ لے جائیں‘ واپس آنے پر پھر بھی گدھا ہی رہے گا۔
جے شنکر نے جو کچھ کہا وہ حماقت اور پاکستان دشمنی کا عفونت بھرا آمیزہ ہے۔ بھارت کے پیٹ میں دردِ قولنج اس لیے اُٹھ رہا ہے کہ پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں مصر‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ تا دم تحریر نہیں آئے۔ ان کے نہ آنے کی وجوہات اور ہیں۔ وہ وجوہات اگر دور ہو جائیں تو انہیں بھی اسلام آباد آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اگر سفارتکاری کامیاب ہو گئی تو امریکہ سے بھی اہم شخصیات کی آمد متوقع ہے۔ بین الاقوامی سفارتکاری کے حوالے سے اگر بھارت نکّو ثابت ہوا ہے تو اس کے پس منظر میں بھارت کی اپنی منافقانہ پالیسیاں ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے جو رویہ بھارت نے ایران اسرائیل کی تیرہ روزہ جنگ (جون 2025ء) کے دوران اپنایا‘ اس کے بعد ایران دہلی کو سفارتکاری کے لیے منظور کر سکتا ہے؟ نہیں! ہر گز نہیں! جیسے ہی جنگ چھڑی‘ بھارت نے منہ دوسری طرف کر لیا! اس کے منہ سے ایران کی حمایت میں ایک لفظ تک نہ نکلا حالانکہ جنگ سے پہلے ایران اور بھارت کے تعلقات ایک طویل عرصہ سے بظاہر اچھے چلے آ رہے تھے۔ یہ تو جنگ کے دوران ایران کو معلوم ہوا کہ بھارت اسرائیل کا گماشتہ ہے۔ اسرائیل بھارت کے اندر اسلحہ کے کارخانے قائم کرتا رہا ہے۔ رواں سال فروری میں مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تو بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ مودی نے کھل کر اسرائیل کا ساتھی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس دورے کے دوران بھارت اور اسرائیل نے ستائیس دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ معاہدے دفاع سمیت کئی شعبوں پر محیط ہیں۔ یوں غیر جانبداری پر لات مارتے ہوئے بھارت اسرائیل کے کیمپ میں واضح اور علانیہ طور پر شامل ہو گیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے یہ بھی کہا کہ یہ دو قدیم تہذیبوں کا ملاپ ہے۔ بھارت کے اندر سے بھی مودی کی اس جانبدارانہ روش پر مذمت کی گئی۔ مذمت کرنے میں اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ متعدد تھنک ٹینک بھی شامل تھے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان نے کھل کر ایران کا ساتھ دیا اور حمایت کی۔ ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔
بی جے پی (اور آر ایس ایس) ایک عرصہ سے پاکستان کے خلاف زہر اُگل رہی ہیں۔ معاندانہ پروپیگنڈا کے اس تسلسل نے بہت سے عام بھارتیوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ تمام بھارتی عوام پاکستان دشمنی کے جذبات رکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے بھارتی پاکستان کو ”اچھوت‘‘ سمجھتے ہیں۔ ایک دلچسپ واقعہ میرے ذاتی علم میں ہے۔ ایک بھارتی طالبعلم پہلی بار آسٹریلیا کی سرزمین پر اترا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسے پہلی رہنمائی اور معاونت کچھ پاکستانی طلبہ سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے اسے اپنے پاس ٹھہرایا‘ ابتدائی معاملات میں اس کی مدد کی‘ یونیورسٹی میں اس کے داخلے کا بندو بست کیا اور ان تمام تکالیف کا ازالہ کیا جو دیارِ غیر میں ایک نو وارد کو پیش آتی ہیں۔ پاکستانی طلبہ کے ساتھ رہتے ہوئے اسے جب کئی ماہ ہو گئے تو ایک دن اس نے انہیں بتایا کہ بھارت سے نکلتے وقت اس کے والدین نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ جو کچھ بھی ہو‘ پاکستانیوں سے ہر صورت بچنا ہے۔ مگر کاتبِ تقدیر نے اس کی قسمت میں پاکستانیوں کی سرپرستی لکھی تھی۔ اس نے اعتراف کیا کہ پاکستانیوں نے کسی غرض اور لالچ کے بغیر اس کی بے انتہا مدد کی۔ مسلسل پروپیگنڈا اور میڈیا کی یکطرفہ یلغار ذہنوں میں زہر بھر دیتی ہے۔ شکیب جلالی نے کہا تھا:
کیا کہوں دیدۂ تر! یہ تو مرا چہرا ہے
سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے
ایران کے مشہور شاعر ملک الشعرا بہار نے ”چشمہ و سنگ‘‘ کے عنوان سے ایک لافانی نظم کہی ہے۔ پہاڑ سے ایک چشمہ پھوٹا اور ندی کی صورت اختیار کر کے رواں ہو گیا۔ اچانک راستے میں چٹان حائل ہو گئی۔ چشمے نے عاجزی سے راستہ مانگا مگر چٹان نے رعونت اور تکبر سے اسے جھڑک دیا اور کہا کہ مجھے تو بڑے بڑے سیلاب اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے‘ تیری کیا مجال ہے کہ تُو راستہ مانگ رہا ہے۔ چشمہ اس کے انکار سے مایوس نہیں ہوا۔ اس نے مستقل مزاجی سے کھودنا اور کاٹنا شروع کیا اور ایک دن راستہ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہی حال منفی پروپیگنڈا کا ہے۔ کئی دہائیوں سے بھارتی عوام کے کانوں میں پاکستان دشمنی کا زہر اتارا جا رہا ہے۔ اگر بھارتی عوام اس سے متاثر ہو رہے ہیں تو تعجب ہی کیا ہے!
عالمی سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کی نمایاں کامیابی بھارت کیلئے دوسرا بڑا صدمہ ہے۔ گزشتہ جنگ میں یہ کاغذی شیر بری طرح پِٹ چکا ہے اور دنیا بھر میں رسوا ہو چکا ہے۔ اس پر طُرّہ یہ کہ ایران اور امریکہ دونوں پاکستان پر اعتماد کر کے اس کے ذریعے جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ مصر‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں آمد اور مذاکرات کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا میں اسے ایک بڑی خبر کے طور پر پڑھا اور سنا جا رہا ہے۔ بھارت کے لیے یہ ایک بھاری اور دلسوز صدمہ ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا امریکی صدر سے جو براہِ راست رابطہ ہے اس سے بھارت پر مردنی چھائی ہوئی ہے۔ بھارت کو یہی نصیحت کی جا سکتی ہے کہ محنت کر! حسد نہ کر!

اپنا تبصرہ بھیجیں