انتخابی عمل منطقی انجام کے قریب پہنچنے پراین اے 256میں انتخابات ملتوی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے،پیپلز پارٹی خضدار

خضدار(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی خضدار کے ترجمان نے این اے 256 خضدار کے ضمنی انتخاب کے اچانک اور غیر متوقع التواء کو جمہوری عمل پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے عوامی مینڈیٹ کے راستے میں غیر ضروری رکاوٹ ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ جب پورا انتخابی عمل اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکا تھا، سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھیں، اور عوام اپنے آئینی و جمہوری حقِ رائے دہی کے استعمال کیلئے پوری طرح آمادہ تھے، خلق جھالاوان خضدار اور وڈھ باڈڑی کے جلسوں میں عوام کا جم غفیر بتارہا تھا کہ کون الیکشن کیلئے تیار اور کون راہ فرار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، ایسے فیصلہ کن مرحلے پر الیکشن کو ملتوی کرنا نہ صرف حیران کن بلکہ باعثِ تشویش بھی ہے۔ یہ فیصلہ کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے،انہوں نے دوٹوک انداز میں استفسار کیا کہ کیا بلوچستان کے حالات کا ادراک الیکشن کمیشن کو پہلے نہیں تھا؟ اگر حالات واقعی اس قدر نازک تھے تو انتخابی شیڈول جاری کرتے وقت ان عوامل کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ انھوں نے کہا کہ ایسے غیر دانشمندانہ فیصلے ملک دشمن عناصر کو تقویت دینے کے مترادف ہے اور اگر اب انتخاب کو مؤخر کیا گیا ہے تو کیا یہ توقع کی جائے کہ التواء کے بعد امن و امان کی صورتحال میں کوئی غیر معمولی اور انقلابی بہتری واقع ہو جائے گی؟ جمہوری تسلسل کو متاثر کرتے ہیں اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ خضدار کے باشعور عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جمہوری عمل میں تاخیر کسی بھی صورت میں مسائل کا حل نہیں بلکہ یہ عوامی رائے کے اظہار کو مؤخر کرنے کا ایک غیر مؤثر اور نقصان دہ طریقہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی خضدار نے اپنی انتخابی مہم نہایت منظم، بھرپور اور مربوط انداز میں مکمل کر لی تھی۔ پارٹی کارکنان گلی گلی، محلہ محلہ اور دور دراز علاقوں تک پارٹی کا پیغام پہنچا چکے تھے، اور ایک فیصلہ کن عوامی معرکے کیلئے ہر سطح پر تیار تھے۔ ترجمان کے مطابق میر شفیق الرحمن مینگل کی قیادت میں عوامی حمایت ایک مضبوط اور ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے، جس نے مخالفین کو واضح طور پر دفاعی پوزیشن اور راہ فرار کے راستے پر لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو التواء کا شکار کرنا دراصل اس بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کے آگے بند باندھنے کی ایک ناکام کوشش ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اس قسم کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والی جماعت نہیں۔ پارٹی اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر فورم پر عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرتی رہے گی۔ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ این اے 256 خضدار کا ضمنی انتخاب محض ایک نشست کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عوامی شعور، سیاسی بصیرت اور خدمت پر مبنی قیادت کے انتخاب کا امتحان ہے۔ اس عمل میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ عوامی امنگوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔ ترجمان نے پرزور مطالبہ کیا کہ این اے 256 خضدار کے ضمنی انتخاب کی نئی تاریخ بلا تاخیر اور واضح حکمت عملی کے تحت مقرر کی جائے، تاکہ جمہوری عمل کو بحال رکھا جا سکے اور عوام کو ان کے بنیادی حق سے مزید محروم نہ رکھا جائے۔نیز پارٹی قیادت نے کارکنان اور پارٹی عہدیداران کو انتخابی مہم جاری رکھنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں