کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی ترقی اور پائیداری کیلئے اسٹریٹجک مالیاتی منصوبہ بندی بہت ضروری ہے۔ یونیورسٹیز اور ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کو فائدہ پہنچانے کیلئے شفاف مالیاتی منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کو ادارے کے مفاد میں بروئے کی ضرورت پر زور دیا۔ مالی آمور و معاملات میں بہتری لانے سے یونیورسٹیاں اپنی آمدنی میں ریسرچ گرانٹس اور شراکت داری کے نئے ذرائع تلاش کر سکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں صوبہ وزیر فنانس میر شعیب نوشیروانی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں نئی اصلاحات متعارف کرانے کا مقصد گورننس، شفافیت اور مالیاتی ڈسپلن کو بڑھانا ہے۔ یہ بات یقین کے کی جا سکتی ہے کہ ہمارے ٹھوس اقدامات سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار اور مالی استحکام کو تقویت ملے گی۔ بلوچستان حکومت نے تمام یونیورسٹیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ دیرینہ مالیاتی مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک پائیدار حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی حقیقی ترقی اور تعلیمی ماحول کو فروغ دینے کیلئے صوبائی وزیر خزانہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نوشیروانی نے بتایا کہ یونیورسٹی فنانس کمیشن کی مدد سے ہمیں تنخواہوں کے مسائل پر قابو پانے میں پہلے سے کامیابی ہوئی ہے اور پنشن اور آپریشنل اخراجات کو حل کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئیں ہیں۔

