کوئٹہ(این این آئی) محکمہ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈ کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے شمال مشرقی اضلاع سبی، ہرنائی، کوہلو، لورالائی، دکی اور بولان سمیت ملحقہ علاقوں میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلابی ریلا آیا جبکہ دریائے ناری میں بھی پانی کی سطح بلند ہو گئی اس دوران ناڑی ہیڈورکس سے 72ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرا۔محکمے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران سبی، ہرنائی، کوہلو، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان، کچھی، لورالائی اور بولان میں مزید بارش اور گرج چمک کا امکان ہے جس کے نتیجے میں فلیش فلڈ کی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے، لہٰذا عوام کو سیلابی ریلوں اور ندی نالوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ایک اور پیشگوئی کے مطابق یکم اپریل سے بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں ایک نیا مغربی ہواؤں کا سلسلہ داخل ہوگا جو 4 اپریل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔اس دوران کوئٹہ، خضدار، قلات، چاغی، خاران، لسبیلہ، گوادر، پسنی، تربت، پنجگور، آواران، ژوب، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، نوشکی اور دیگر علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارش اور ڑالہ باری متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث شمال مشرقی بلوچستان کے اضلاع خضدار، آواران، خاران، قلات، مستونگ، کوہلو، لسبیلہ، ڑوب اور قلعہ سیف اللہ سمیت مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔حکام کے مطابق تیز ہواؤں، ژالہ باری اور آندھی کے باعث کمزور انفراسٹرکچر، بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا بھی خطرہ ہے، جبکہ درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں۔

