عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر سبی کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا

سبی(رپورٹر)وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان کی خصوصی ہدایات پر عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر سبی کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری میں مختلف سرکاری محکموں کے ضلعی افسران، قبائلی معتبرین، علماء کرام، سماجی شخصیات، سیاسی نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے اپنے علاقوں کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی آگاہ کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر سبی نے عوامی شکایات تحمل سے سن کر ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ شہریوں اور معتبرین کی جانب سے سبی شہر میں بجلی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نئےٹرانسفارمرز کی فراہمی، ایمرجنسی ٹرانسفارمر کی دستیابی اور واپڈہ ورکشاپ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تاکہ خراب ٹرانسفارمرز اور فنی خرابیوں کو فوری طور پر درست کیا جا سکے۔کھلی کچہری میں شہریوں نے شدید گرمی کے باعث غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی طویل بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی لانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی نے متعلقہ حکام کو عوامی مشکلات کے فوری ازالے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی پانی کی قلت٬گلیوں کے خستہ حالی آب نکاسی سمیت تعلیمی مسائل بھی کھلی کچہری میں زیر بحث آئے جہاں شہریوں اور قبائلی معتبرین نے سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی، بنیادی سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی غیر حاضری کے مسائل اٹھائے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ اسکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کے ساتھ اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلباء کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر سبی نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور کھلی کچہریوں کا مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہ راست رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔کھلی کچہری کے اختتام پر قبائلی عمائدین معتبر شخصیات سمیت علماء کرام اور شہریوں نے وزیر اعلی بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل سننے کے اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جلد سامنے آئیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں