سانچ: سیف سٹیز کنٹرول روم: جدید نگرانی، سماجی شراکت اور محفوظ معاشرہ

تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

سیف سٹیز کنٹرول روم جدید شہری نظامِ تحفظ کی ایک ایسی مثال ہے جس نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنایا ہے بلکہ سماجی تنظیموں اور شہری نمائندوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنا دیا ہے۔ اوکاڑہ میں حالیہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سرکاری ادارے اور فلاحی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تو امن و امان کے قیام میں مثبت پیش رفت ممکن ہوتی ہے۔تحفظ مرکز ڈی پی اوآفس کے انچارج اختر چودھری کی قیادت میں ہونے والے اس دورے میں مختلف این جی اوز اور سماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر چودھری ابرار علی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال غلام جیلانی سیال،سماجی تنظیم ’ماڈا‘ کے صدر محمد مظہر رشید چودھری، جگنو ویلفیئر سوسائٹی کے علی جگنو اور قاسم علی، النسا ویلفیئر کے رائے یاسین اویسی اور ایکٹو ہیلپ آرگنائزیشن کے نمائندگان شامل تھے۔ یہ شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ اب سماجی شعبہ بھی سکیورٹی کے معاملات میں سنجیدہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔سیف سٹیز کنٹرول روم دراصل ایک مرکزی اعصابی نظام کی حیثیت رکھتا ہے جہاں شہر بھر میں نصب کیمروں سے لائیو نگرانی کی جاتی ہے۔ منیجر زین اسلم اور اسسٹنٹ منیجر عدیل اکرم نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر اہم شاہراہ، بازار اور چوراہے پر نظر رکھی جاتی ہے۔ کنٹرول روم میں موجود عملہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، حادثے یا ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل دیتا ہے، جس سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد ملتی ہے۔یہ نظام صرف نگرانی تک محدود نہیں بلکہ ایک مربوط کارروائی کا حصہ ہے۔ جیسے ہی کسی واقعے کی نشاندہی ہوتی ہے، کنٹرول روم سے فوری طور پر پولیس، ریسکیو یا دیگر متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جاتی ہے۔ اس تیز رفتار رابطے کی بدولت قیمتی وقت ضائع نہیں ہوتا اور بروقت کارروائی ممکن بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں میں اس نظام کو ایک مؤثر حفاظتی ڈھال سمجھا جانے لگا ہے۔دورے کے دوران این جی اوز کے نمائندگان نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری)نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی آگاہی مہمات کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ شہری خود بھی قانون کی پاسداری میں کردار ادا کریں۔ علی جگنو اور قاسم علی نے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، جبکہ رائے یاسین نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے مزید اقدامات کی تجویز دی۔ اس طرح کے مکالمے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سماجی تنظیمیں محض تنقید تک محدود نہیں بلکہ عملی تعاون کے لیے بھی تیار ہیں۔کنٹرول روم کا ایک اہم پہلو ٹریفک مینجمنٹ بھی ہے جہاں کیمروں کے ذریعے ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ رش کے اوقات میں متبادل راستوں کی نشاندہی اور حادثات کی صورت میں فوری اطلاع دینا اس نظام کی کارکردگی کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محفوظ شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے مستقبل کی حکمت عملی بھی ترتیب دی جاتی ہے، جس سے حساس علاقوں میں سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی جدید نظام کی کامیابی صرف ٹیکنالوجی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ انسانی تعاون اس کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اگر سماجی تنظیمیں، سرکاری ادارے اور عام شہری ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں تو سیف سٹیز جیسے منصوبے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ یہ دورہ محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔ اختر چودھری اور ان کے ساتھ شریک این جی اوز نے جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ مستقبل میں ایسے اشتراک سے نہ صرف جرائم میں کمی آئے گی بلکہ ایک محفوظ اور بااعتماد معاشرہ بھی تشکیل پائے گا٭

اپنا تبصرہ بھیجیں