تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک سرکاری اعلان نہیں بلکہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات براہِ راست ہر پاکستانی کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے مقرر ہوئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 184.49 روپے اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی۔جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکدم اتنا بڑا اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ عام آدمی کی جیب پر ایک نیا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو سنبھالا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ کفایت شعاری کے فروغ اور اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ تاہم اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ اقدامات عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکیں گے؟پاکستان میں اکثریت موٹر سائیکل استعمال کرتی ہے۔ حکومت نے اس طبقے کے لیے محدود سبسڈی کا اعلان کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک عام مزدور یا کم آمدنی والا شخص، جو روزانہ ایندھن استعمال کرتا ہے، اس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دی گئی سبسڈی اس اضافی بوجھ کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ نتیجتاً عام آدمی کے لیے اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔دوسری طرف رکشہ، ٹیکسی اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد بھی اس فیصلے سے بری طرح متاثر ہوں گے۔ ڈیزل مہنگا ہونے کا سیدھا مطلب ہے کہ کرایوں میں اضافہ ہوگا۔ جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، کیونکہ ہر چیز کی ترسیل اسی نظام کے ذریعے ہوتی ہے۔ یوں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے جو ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ٹرانسپورٹ کا شعبہ اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہے۔ رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی چلانے والے، بس آپریٹرز اور ٹرک ڈرائیورز سب کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ یہ بوجھ کرایوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر منتقل کریں گے۔ نتیجتاً روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کے لیے آمدورفت مزید مہنگی ہو جائے گی، جبکہ دیہی علاقوں سے شہروں کا سفر کرنے والوں کے لیے یہ بوجھ اور بھی زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پورے سپلائی چین کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتی ہے۔ اشیائے خوردونوش، صنعتی خام مال، ادویات، سبزی، پھل اور دودھ جیسی بنیادی ضروریات کی ترسیل ایندھن کے بغیر ممکن نہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے، اور یہی اضافہ بالآخر صارف تک منتقل ہو جاتا ہے۔زراعت کے شعبے پر اس کے اثرات اور بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں ٹریکٹر، ٹیوب ویل، تھریشر اور دیگر مشینری زیادہ تر ڈیزل پر چلتی ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو کسان کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ کسان پہلے ہی کھاد، بیج اور پانی کے مسائل سے دوچار ہے، اور اب ایندھن کی قیمت میں اضافہ اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ نتیجتاً زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے لوگوں کو متاثر کرے گا۔سانچ کے قارئین کرام! چھوٹے کاروبار پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں۔ اب جب توانائی اور ٹرانسپورٹ کی لاگت میں اضافہ ہوگا تو ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو معاشرتی مسائل کو مزید بڑھا دے گا۔حکومت کی جانب سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا تصور یقیناً درست سمت میں ایک قدم ہے، لیکن اس کا انحصار مکمل طور پر اس کے شفاف اور مؤثر نفاذ پر ہے۔ اگر سبسڈی صحیح افراد تک نہ پہنچ سکی یا اس میں بدعنوانی ہوئی تو یہ پالیسی اپنے مقصد میں ناکام ہو جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے تاکہ کسی قسم کی لیکج نہ ہو۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی حالات پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم نے طویل مدتی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے کام کیا؟ متبادل توانائی کے ذرائع، اسٹریٹیجک ذخائر اور مقامی پیداوار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچا جا سکے۔موجودہ صورتحال میں عوام کو صرف صبر کی تلقین کافی نہیں۔ حکومت کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر پالیسی اپنائی جائے اور کفایت شعاری کو صرف عوام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حکومتی سطح پر بھی اس کا عملی مظاہرہ کیا جائے تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ بوجھ سب پر برابر ڈالا جا رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی آزمائش بھی ہے۔ اس کے اثرات ہر گھر تک پہنچیں گے اور لاکھوں خاندانوں کی زندگی کو متاثر کریں گے۔ اگر حکومت واقعی عوام کے ساتھ کھڑی ہے تو اسے محض اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی نتائج دکھانا ہوں گے، ورنہ یہ وقتی مشکل ایک مستقل بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔٭

