تحریر سید ایوب آغا سینئر نائب صدر PPPکوئٹہ سٹی
4اپریل تجدید عہد

4اپریل کا دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکر اور جمہوریت پسند تاریخ دان ایک سیاہ ترین دن کے طور پر مناتے ھیں، جب 1979ء میں سابق وزیر اعظم اور شہید جمہوریت عوامی رہنما شہید ذوالفقار علی بھٹوکو ایک متنازع عدالتی فیصلے کے بعد پھانسی دی گئی۔ جمہوریت پسند تاریخ دان و قلم نگاران ان کی شخصیت کو ھمہ وقت سنہری حروف سے تحریر کرتی ہیں
4 اپریل: ایک عہد ساز شخصیت کی برسی کی مناسبت سے چند چیدہ عظیم کردار قلم کار کرنا جمہوری کارکن کی حیثیت سے اپنی اھم ذمہ داری سمجھتا ھو۔
عوامی رہنما کی حیثیت سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی تاریخ میں پہلا رہنما مانا جاتا ہے جس نے سیاست کو محلات سے نکال کر عام آدمی، کسان اور مزدور تک پہنچایا۔
سیاسی وڑن اور ملک کی وسیع تر مفاد میں انہوں نے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین (1973) دیا اور ملک کو ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ کر دفاعی طور پر مضبوط بنایا جس کی آج واضع ثبوت کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا
بین الاقوامی سطح پر انہوں نے عالم اسلام کو متحد کرنے اور شملہ معاہدے کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیامتفقہ آئین میں قادیانیت کو غیر مسلم قرار دیکر شہید ختم نبوت کا عظیم اعزاز حاصل کیا۔
عدالتی متنازع فیصلہ کالم نگار اور قانون دان اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ 4 اپریل 1979ء کو ایک غیر شفاف اور ڈکٹیٹر کے دباؤ کے تحت عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بھٹو کو پھانسی دی گئی۔
رات کے اندھیرے میں ملک کی جمہوری نظام پر ڈاکہ ڈال کر انہیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی، جسے “عدالتی قتل” قرار دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کا اعتراف: حالیہ سالوں میں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں ملا۔ اور اس عدالتی فیصلہ کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
بھٹو کا فلسفہ اور میراث میں جمہوریت پسند عوام نے انہیں قائد عوام” کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے غریب عوام کو ان کے حقوق اور عوامی طاقت سے روشناس کرایا۔
پیپلز پارٹی کی بنیاد: بھٹو نے شہید جمہوریت نے جس پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو آج بھی ان کے نظریے (“روٹی، کپڑا اور مکان”) پر سیاست کر رہی ہے۔اور بلا تفریق عوام کی خدمت کی راہ پر گامزن
4 اپریل صرف ایک برسی نہیں، بلکہ جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے ایک جدوجہد کا دن ہے۔تاریخ دان شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ایسا رہنما قرار دیتے ہیں جو پھانسی کے پھندے پر چڑھ گیا لیکن عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
4 اپریل شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ان عظیم قربانیوں کی تجدید عہد کے طور پر منایا جاتاہے
کہ آئے ہم شہید جمہوریت کی ان عظیم قربانیوں کے دفاع میں ان کے راستے پر چلتے ھوئے جمہوریت کی دفاع اور پاکستان کی سالمیت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرے۔

