جلیل بلوچ
گوادر… ایک ایسا شہر جسے پاکستان کا مستقبل کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مستقبل میں وہاں کے اپنے لوگوں کا بھی کوئی حصہ ہے؟
حکومتِ پاکستان نے اربوں روپے خرچ کر کے ایک جدید اور عالمی معیار کا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ تعمیر کیا۔ 12000 فٹ طویل رن وے، جدید نیویگیشن سسٹم، رات کے وقت لینڈنگ کی سہولت اور بڑے طیاروں کی آمدورفت کی مکمل صلاحیت—سب کچھ موجود ہے۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ ایئرپورٹ آج بھی تقریباً غیر فعال ہے۔ جہاں مسافروں کی چہل پہل ہونی چاہیے تھی، وہاں ویرانی ہے، اور ہفتے میں بمشکل ایک پرواز آتی جاتی ہے۔
مکران کے علاقے گوادر، تربت اور پنجگور کے لوگ آج بھی بین الاقوامی سفر کے لیے کراچی جانے پر مجبور ہیں۔ یہ سفر 14 سے 15 گھنٹے طویل، تھکا دینے والا اور غیر محفوظ ہے، خاص طور پر خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لیے۔ کیا یہی ترقی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ 1958 میں جب گوادر پاکستان کا حصہ بنا، اُس وقت سے لے کر آج تک مکران کے ہزاروں لوگ خلیجی ممالک—خصوصاً مسقط، دبئی، شارجہ اور العین—میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے عمان کی شہریت بھی حاصل کر لی ہے اور وہاں مستقل آباد ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ متحدہ عرب امارات میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے خاندان آج بھی مکران میں آباد ہیں۔
طلب موجود ہے، ضرورت موجود ہے مگر سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔
اس مسئلے کا حل نہ تو مشکل ہے اور نہ مہنگا۔ اگر ہفتے میں کم از کم دو پروازیں اس روٹ پر شروع کر دی جائیں:
کراچی → گوادر → مسقط → شارجہ → گوادر → کراچی
تو نہ صرف مکران کے عوام کو براہ راست بین الاقوامی سفر کی سہولت ملے گی بلکہ کراچی ایئرپورٹ پر دباؤ بھی کم ہوگا اور گوادر ایئرپورٹ فعال ہو جائے گا۔
اگر تکنیکی طور پر ایئربس A320 کی لینڈنگ سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو اضافی پائلٹ (Supernumerary Crew) شامل کر کے سیفٹی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، کرایوں میں بھی شدید ناانصافی نظر آتی ہے۔ گوادر سے کراچی کا فاصلہ کم ہونے کے باوجود کرایہ 40,000 سے 50,000 روپے تک لیا جاتا ہے، جبکہ کراچی سے اسلام آباد جو فاصلہ اور وقت میں زیادہ ہے—کا کرایہ اس سے کہیں کم ہوتا ہے۔ یہ صرف فرق نہیں بلکہ کھلی ناانصافی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اہم مسئلے پر ہمارے منتخب نمائندے چاہے وہ ایم پی اے ہوں، ایم این اے ہوں یا سینیٹرز خاموش ہیں۔ عوام میں یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کو خود سفری سہولت حاصل ہے، وہ عام شہریوں کی مشکلات کو محسوس ہی نہیں کرتے۔
یہ کوئی عیاشی کا مطالبہ نہیں، بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔
گوادر تیار ہے۔ ایئرپورٹ تیار ہے۔ عوام تیار ہیں۔
اب صرف حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا یہ ایئرپورٹ واقعی عوام کے لیے استعمال ہوگا، یا صرف ایک خالی علامت بن کر رہ جائے گا؟
1958 سے لے کر آج تک مکران کے لوگ خلیجی ممالک، خصوصاً عمان اور متحدہ عرب امارات، میں محنت کر رہے ہیں۔ ان کے خاندان، ان کے رشتے، اور ان کا روزگار اس خطے سے جڑا ہوا ہے۔
لہٰذا فوری طور پر گوادر سے مسقط اور یو اے ای کے لیے براہ راست پروازوں کا آغاز کیا جائے، تاکہ لوگ آسانی سے اپنے عزیزوں سے مل سکیں اور روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکیں، بغیر اس مشکل اور طویل زمینی سفر کے جو انہیں کراچی تک کرنا پڑتا ہے۔ یہ سہولت کوئی رعایت نہیں یہ مکران کے عوام کا حق ہے
Load/Hide Comments

