بلوچستان میں تعلیمی بحران، ہزاروں اسکول سہولیات اور اساتذہ سے محروم، پی ایس او

سبی (رپورٹر) پشتونخواہ اسٹوڈنس آرگنائزیشن سبی کے صدر سید اسماعیل شاہ٬سینئیر معاون سیکریٹری ملک صدیق مرغزانی٬رابطہ سیکریٹری ثاقب شاہ٬فنانس سیکریٹری منصوراحمد٬مجاہد شاہ٬علی مراد٬احمدسیلاچی٬قدیرمزری نے صوبہ بلوچستان میں تعلیمی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوۓ کہنا تھا کہ تنظیم گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتونخواہ کے عوام، بالخصوص طلبہ کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان، اساتذہ کی کمی اور غیر حاضر اساتذہ ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔پی ایس او رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ صوبے میں ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ بڑی تعداد میں اسکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4000 اسکول ایسے ہیں جہاں مناسب تدریسی عملہ موجود نہیں، جبکہ 7000 کے قریب اسکول ایک ہی استاد کے رحم و کرم پر چل رہے ہیں۔ اسی طرح درجنوں اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں، جس سے طلبہ کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص بجٹ کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے باعث غریب عوام کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ پی ایس او کے مطابق سالانہ اربوں روپے مختص ہونے کے باوجود تعلیمی نظام میں کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔رہنماؤں نے اساتذہ کی غیر حاضری، اسکولوں کی بندش، اور تعلیم کے معیار میں مسلسل گراوٹ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں ان کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں میں طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ شرح خواندگی میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ پشتونخواہ اسٹوڈنس آرگنائزیشن تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بھرپور تحریک چلائے گی اور اگر حکومت نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
پی ایس او نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے، خالی آسامیوں پر فوری تقرریاں کی جائیں اسکولوں کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور تعلیمی بجٹ کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو بہتر تعلیم فراہم کی جا سکے۔آخر میں تنظیم نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور اگر تعلیمی نظام کو فوری طور پر بہتر نہ بنایا گیا تو اس کے منفی اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑیں گے انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے زائد عمر کے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے سکول میں داخل کرائیں دوران پریس کانفرنس پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ضلعی صدر ڈاکٹر سید نور احمد شاہ اور سیکریٹری اطلاعات سید شاہ زیب شاہ بھی موجود تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں