تربت (این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے گرین بس سروس کو مفت کرنے کے اعلان کے بعد تربت میں اس سہولت سے مستفید ہونے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے شکایت کی ہے کہ گرین بس سروس نے اپنے اسٹاف میں کمی کر دی ہے جس کے باعث نہ صرف سروس متاثر ہوئی ہے بلکہ مسافروں کو راستے میں اٹھانے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔شہریوں کے مطابق گوکدان، ڈھنک، بہمن اور شاہی تمپ سمیت مختلف علاقوں کے رہائشیوں کو بسیں نظر انداز کر کے گزر جاتی ہیں۔ گوکدان کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہاں سے گرین بس سروس کا عملہ بھی ختم کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔خواتین نے خاص طور پر شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ گرین بسیں ان کے گھروں کے قریب سے گزرتی ہیں مگر انہیں سوار نہیں کیا جاتا، جس کے باعث انہیں مجبورا? 300 روپے تک کرایہ دے کر ٹیکسی کے ذریعے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے یہی سفر گرین بس کے ذریعے صرف 50 روپے میں ممکن تھا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر خواتین، بچے، بزرگ، مزدور اور ملازمین سڑکوں پر کھڑے ہو کر بسوں کا انتظار کرتے ہیں، مگر بس ڈرائیور رکنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اپنے بیمار بچے کے ہمراہ بس کو رکوانے کی کوشش کے دوران وہ حادثے سے بال بال بچ گئیں عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گرین بس سروس واقعی عوام کے لیے ہے تو اسے عوامی سہولت کے مطابق چلایا جائے، نہ کہ شہریوں کے لیے مزید اذیت کا باعث بنایا جائے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ، کمشنر مکران ڈویڑن، ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ گرین بس سروس میں فوری طور پر اسٹاف میں اضافہ کیا جائے، بسوں کو تمام اسٹاپس پر رکنے کا پابند بنایا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اصلاحی اقدامات اٹھا کر عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

