پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے امن اور زندگی کی نئی امید پیدا کر دی ہے،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے امریکہ اور ایران کے درمیان شدید محاذ آرائی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا تھا ایسے نازک وقت میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کا آغاز ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جس نے عالمی سطح پر سکھ کا سانس فراہم کیا ہے یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ تباہی کو جنم دیتے ہیں اس اہم پیش رفت میں پاکستان کی سفارتی کوششیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں پاکستان نے نہایت دانشمندی اور تدبر کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے لاکھوں انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا بھارت اور اسرائیل امریکہ ایران کے مابین جنگ بندی نہیں چاہتے بھارت اور اسرائیل امریکہ ایران جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امریکہ اور ایران ان سازشیوں کو شکست دے کر مستقل امن قائم کر سکتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے کہا ہے کہ پاکستان اب بھی اس عزم کا اعادہ کر رہا ہے کہ وہ اس عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا یہ ذمہ داری صرف ایک ملک تک محدود نہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں پر لازم ہے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائیں جنگیں کبھی پائیدار حل فراہم نہیں کرتیں، جبکہ مکالمہ اور باہمی احترام ہی مسائل کا دیرپا حل پیش کرتے ہیں۔ اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو اس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں یہ لمحہ دانشمندی، تحمل اور دوراندیشی کا تقاضا کرتا ہے۔ دنیا مزید کسی بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ طاقت کی بجائے برداشت, تحمل, بردباری اور عقل و شعور کو ترجیح دی جائے۔ امن مذاکرات کو کامیاب بنانا نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پوری انسانیت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر فریقین نے سنجیدگی سے اس موقع کو تھام لیا تو یہ تاریخ کا ایک سنہری باب بن سکتا ہے، بصورت دیگر دنیا ایک ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں