پنجگور(این این آئی) تعلیمی سال کو شروع ہوئے 40 دن ہونے کو جارہا ہے مگر پنجگور میں کتابوں کی فراہمی کا مرحلہ مکمل نہیں ہوسکا ہے جس سے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچے شدید بے چینی کا شکار ہوگئے ہیں محمکہ تعلیم پنجگور کے زرائع کا کہنا ہے کہ آٹھویں اور نویں جماعت کی اہم کتابیں تاحال مسنگ ہیں اسی طرح کچھی کی کتابیں بھی نامکمل ہیں واضح رہے کہ حسب سابق اس سال بھی سابقہ روایات کو برقرار رکھاگیا پنجگور کے والدین نے وائس آف مکران کو بتایا کہ ہمارے بچوں کا تعلیمی انحصار سرکاری اسکولوں پر ہے تاہم حکومتی دعووں کے برعکس سرکاری اسکولوں میں جدید دور کے دیگر سہولتوں کی فراہمی اپنی جگہ پر ہر سال انہیں کتابوں کے پھیچے بھاگنا پڑتی ہے والدین کے مطابق نجی اسکولوں میں باقاعدہ درس وتدریس کا عمل جاری ہے تاہم انکے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی پرائیویٹ اسکول میں جاکر داخلہ دلائیں حکومت اور محکمہ تعلیم اس گیپ کو پر کرنے کے لیے فوری اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ ہر شخص کو یکساں تعلیمی ماحول اور سہولتیں میسر آسکیں اس طرح کی روایتوں کو ہر سال برقرار رکھ کر کتابوں کی مکمل ترسیل نہ ہونے سے عام شہریوں کے بچے حصول علم سے محروم ہورہے ہیں اور ساتھ میں وہ شدید بے چینی محسوس کررہے ہیں کیونکہ معاشرے کا ایک حصہ جن کو نجی سطح پر تعلیم کے مواقعے تو مل رہے ہیں مگر دوسرے حصے کے بچوں کا وقت کتابوں کے پھیچے ضائع ہورہا ہے اور اس صورتحال سے وہ اس مشکل دور میں جہاں مقابلے کے روجحاں کو اہمیت حاصل ہے وہ احساس کمتری کی جانب جارہے ہیں۔

