کراچی پریس کلب کی ناکہ بندی آزادیِ اظہار پر حملہ ہے، گوادر پریس کلب کی شدید مذمت

​گوادر (بیورو رپورٹ)گوادر پریس کلب کے عہدیداروں اور ممبران نے کراچی پریس کلب کے گرد و نواح میں کنٹینرز لگا کر عام شہریوں اور صحافیوں کے لیے راستے بند کرنے کے اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔​ایک مشترکہ بیان میں صدر گوادر پریس کلب و سی ای او گوادر ٹو ڈے نور محسن، سرپرستِ اعلیٰ و بانی ممبر محمد اسماعیل بلوچ، نائب صدر و منیجنگ ڈائریکٹر و سی ای او گوادر ڈیجیٹل، جی این این نیوز کہ شریف ابراہیم،جنرل سیکریٹری و بیوروچیف وائس آف مکران سلیمان ہاشم، جوائنٹ سیکریٹری و ڈیلی خبر دار کہ شئے علی بلوچ اور خازن اسماعیل عمر سمیت بیوروچیف نوائے وقت مراد سالک بیوروچیف جنوبی بلوچستان اے آر وائی نیوز اللہ بخش دشتی ، رپورٹر انتخاب نیوز جاوید سلمان,سابق نائب صدر و گوادر ڈیجیٹل کے رپورٹر اختر ملنگ، سابق جنرل سکریٹری و ڈیلی ایگل حب کہ نمائندہ سہیل محمود اور تمام اراکین نے سندھ حکومت کے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔​بیان ​میں کہا گیا ہے کہ کراچی پریس کلب کے اطراف میں کنٹینرز لگا کرراستوں کی بندش نہ صرف عام شہریوں کے لیے اذیت کا باعث ہے بلکہ یہ براہِ راست آزادیِ صحافت پر حملہ اور اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ​جمہوری ریاستوں میں میڈیا ہاؤسز اور پریس کلبوں کی ناکہ بندی کرنا مارشل لا نافذ کرنے کے مترادف ہے، جو کہ سندھ حکومت کی بو کھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں جہاں میڈیا معلومات کا بنیادی ذریعہ ہے، وہاں پریس کلب جیسے اداروں پر پابندیاں لگانا معاشرے کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔​گوادر پریس کلب نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کراچی پریس کلب کے اطراف سے کنٹینرز ہٹا کر راستے بحال کرے اور صحا فتی اداروں کے تقدس کوپامال کرنے سے گریز کرے۔ بصورتِ دیگر، صحافتی برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں