سانچ: جرمن آرٹسٹ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سینتا سلر کو خراجِ تحسین: دیہی خواتین کی بااختیاری کا روشن باب

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

اوکاڑہ یونیورسٹی میں گزشتہ روز ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا جس میں جرمن آرٹسٹ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سینتا سلر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یہ سیمینار بالخصوص خواتین کی بااختیاری، صنفی امتیاز کے خاتمے اور دیہی خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کے فروغ میں ان کے نمایاں کردار کے اعتراف کے لیے منعقد کیا گیا۔ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹرنل لنکیجز اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز کے مشترکہ اہتمام سے ہونے والی اس تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین سمیت سول سوسائٹی کے نمائندگان، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس بھرپور شرکت نے اس بات کو واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں سماجی خدمات کو کس قدر اہمیت دی جا رہی ہے۔ڈاکٹر سینتا سلر اپنے شوہر پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنٹسچ کے ہمراہ ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ یہ دورہ ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ نئی نسل سے روابط کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ ان کی موجودگی نے طلبا و طالبات میں خاصی دلچسپی اور جوش پیدا کیا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر سلر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اوکاڑہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ٹھٹھہ غلامکا ڈیروکا میں خواتین کو کاروباری مہارتیں سکھا کر انہیں معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں زیرِ تعمیر گرلز ہاسٹل کو ڈاکٹر سینتا سلر کے نام سے منسوب کیا جائے گا، جو نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل تحریک بھی ہوگا۔سیمینار میں امجد علی نے 1990 کی دہائی میں شروع کیے گئے منصوبے ’ٹھٹھہ کیڈونا‘ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے دیہی خواتین کو گڑیاں بنانے، کڑھائی اور دیگر ہینڈی کرافٹس کی تربیت دی گئی، جس سے نہ صرف انہیں روزگار ملا بلکہ گاؤں کی سماجی و معاشی حالت میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ آج یہ گاؤں ’ڈول ویلیج‘ گڑیا کاگاؤں کے نام سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے اور یہاں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی سطح پر سراہی جاتی ہیں۔راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) نے بھی اس گاؤں کا متعدد بار دورہ کیا اور مختلف مواقع پر میڈیا کے ذریعے اس منصوبے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ ذاتی مشاہدے کے مطابق گاؤں کی خواتین نے اپنی محنت، لگن اور ہنر کے ذریعے نہ صرف اپنے گھروں کے حالات بدلے بلکہ خود اعتمادی اور خودداری بھی حاصل کی، جو کسی بھی معاشرتی تبدیلی کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر سینتا سلر نے بتایا کہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں پاکستان آمد کے دوران دیہی خواتین کی محرومیوں نے انہیں گہرے طور پر متاثر کیا۔ یہی احساس ان کے لیے تحریک بنا اور انہوں نے اپنی زندگی اس مشن کے لیے وقف کر دی۔ ان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں خواتین کو نہ صرف معاشی مواقع میسر آئے بلکہ تعلیم، صحت اور سماجی شعور کے شعبوں میں بھی بہتری آئی۔پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنٹسچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر سلر نے صرف فنونِ لطیفہ کی تعلیم نہیں دی بلکہ ایک پائیدار کمیونٹی ڈویلپمنٹ ماڈل پیش کیا، جو آج بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور دیگر علاقوں کے لیے قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔ دیگر مقررین نے ڈاکٹر سلر کی خدمات کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوستی اور ثقافتی ہم آہنگی کا ایک خوبصورت مظہر قرار دیا۔تقریب کی نظامت اوکاڑہ یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر (پریس، میڈیا و پبلیکیشنز) شرجیل احمد نے خوش اسلوبی سے انجام دی، جس سے تقریب کا وقار مزید بڑھ گیا۔ڈاکٹر سینتا سلر کی کہانی بین الاقوامی تعاون، انسانی ہمدردی اور پائیدار ترقی کی ایک روشن مثال ہے۔ جرمنی میں ایک مستحکم اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی چھوڑ کر پاکستان کے ایک دیہی علاقے میں کام کرنا ان کے غیر معمولی عزم، جذبے اور انسان دوستی کا ثبوت ہے۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ پاکستان سے نوازا جانا ان کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف ہے۔ تقریباً 90 برس کی عمر میں بھی ان کی مسلسل سرگرمیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ خدمتِ انسانیت کے جذبے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔راقم کے مشاہدے کے مطابق ’ٹھٹھہ کیڈونا‘ کا ماڈل نہ صرف اوکاڑہ بلکہ پورے پاکستان کے دیہی علاقوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ اگر خواتین کو ہنر، وسائل اور رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔اوکاڑہ یونیورسٹی کا یہ سیمینار اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے تک محدود نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کے فعال مراکز بھی بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر سینتاسلر کے نام سے منسوب گرلز ہاسٹل آنے والی طالبات کے لیے حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا مستقل ذریعہ ثابت ہوگا۔ خواتین کی بااختیاری ہی معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ جب خواتین مضبوط ہوں گی تو خاندان، معاشرہ اور ملک خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ ایسے اقدامات نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ پاکستان کے روشن اور متوازن مستقبل کی ضمانت بھی ہیں ٭

اپنا تبصرہ بھیجیں