تحریر:رشیداحمدنعیم
دنیا کی تاریخ اپنے اوراق میں یہ حقیقت بارہا رقم کر چکی ہے کہ طاقت کے اظہار کے پیمانے ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ کبھی تلواروں کی جھنکار میں فیصلے لکھے جاتے تھے، کبھی توپوں کی گھن گرج سلطنتوں کے عروج و زوال کا اعلان کرتی تھی اور میدانِ جنگ میں بہتا ہوا انسانی خون ہی فتح و شکست کا معیار ٹھہرتا تھا۔ اس عہد میں قوت کی علامت فولاد کی دھار تھی اور حکمرانی کا جواز عسکری غلبہ تصور کیا جاتا تھامگر جیسے جیسے وقت نے کروٹ بدلی، انسانی فکر نے نئے زاویے تراشے اور تہذیب نے ارتقا کی منازل طے کیں ویسے ویسے جنگ کا مفہوم بھی اپنی ہیئت بدلتا چلا گیا۔آج کا دور ایک نئے طرزِ معرکہ آرائی کا عکاس ہے جہاں تلواروں کی جگہ معاشی ہتھیاروں نے لے لی ہے۔جنگ کے میدان سرحدوں سے نکل کر مالیاتی اداروں، عالمی منڈیوں، تجارتی معاہدوں اور کرنسی کی اتار چڑھاؤ میں منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جس نے نہ صرف جنگ کے طریقہ کار کو بدل دیا ہے بلکہ اس کے اثرات کو بھی زیادہ پیچیدہ اور ہمہ گیر بنا دیا ہے۔ اب کسی ریاست کو زیر کرنے کے لیے بارود کی نہیں بلکہ اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور مالیاتی شکنجوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون کم بہتا ہے مگر اثرات نسلوں تک سرایت کر جاتے ہیں۔
معاشی جنگ کے نمایاں ترین ہتھیاروں میں اقتصادی پابندیاں سرِفہرست ہیں۔ بڑی طاقتیں جب کسی ملک کو زیرِ اثر لانا چاہتی ہیں تو اس کی معیشت پر قدغنیں عائد کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً تجارت سکڑ جاتی ہے۔ سرمایہ کاری کا بہاؤ رک جاتا ہے۔عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری کے گرداب میں پھنس جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک غیر مرئی جنگ ہوتی ہے مگر اس کے زخم کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ایسے زخم جو معاشروں کی رگوں میں دیر تک درد کی لہر دوڑاتے رہتے ہیں۔اسی طرح کرنسی کی جنگ بھی اس عہد کا ایک نہایت مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ طاقتور ممالک اپنی مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے نہ صرف اپنی کرنسی کو مضبوط رکھتے ہیں بلکہ دیگر معیشتوں کو دباؤ میں لانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ایک معمولی سی گراوٹ ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر میں اضافہ یا کمی اب محض معاشی عوامل نہیں رہے بلکہ باقاعدہ جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔
تجارتی جنگیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جہاں محصولات، درآمدی پابندیاں اور مقامی مصنوعات کو ترجیح دینے کی پالیسیاں دراصل ایک خاموش محاذ آرائی کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ سب اقدامات بظاہر اقتصادی اصلاحات کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ان کے پسِ پردہ ایک منظم حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے جس کا مقصد مخالف معیشت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ نیا نظام واقعی زیادہ مہذب ہے؟ راقم الحروف کے نزدیک بلاشبہ اس میں فوری جانی نقصان کم ہوتا ہے مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع اور دیرپا ہوتے ہیں۔ ایک معاشی بحران پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔تعلیم کا نظام کمزور پڑتا ہے۔ صحت کی سہولیات متاثر ہوتی ہیں۔ سماجی بے چینی جنم لیتی ہے۔ گویا یہ ایک ایسی جنگ ہے جو انسان کو میدان میں نہیں بلکہ اس کے گھر، اس کی روٹی اور اس کے مستقبل کو نشانہ بناتی ہے۔اس جنگ میں طاقت کا توازن بھی یکساں نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے پاس مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی اداروں پر اثر و رسوخ ہوتا ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک اکثر ان کے فیصلوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ یہی عدم توازن اس جنگ کو کمزور اقوام کے لیے زیادہ تباہ کن بنا دیتا ہے۔
ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورتحال محض ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں یہ ادراک کرنا ہوگا کہ اب بقا کی جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ معیشت کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ اگر ہم نے خود انحصاری، صنعتی ترقی، زرعی استحکام اور برآمدات کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کیا تو ہم اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔تعلیم اور تحقیق اس نئی جنگ کے اصل ہتھیار ہیں۔ جو قومیں علم، ٹیکنالوجی اور جدت میں آگے ہیں وہی عالمی معیشت میں اپنا لوہا منواتی ہیں۔اس لیے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو محض ڈگریوں تک محدود رکھنے کی بجائے تحقیق، اختراع اور عملی مہارتوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط معیشت کی عمارت استوار کی جا سکتی ہے۔راقم الحروف یہ سمجھتا ہے کہ تلواروں کی جنگ درحقیقت ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنا قالب بدل لیا ہے۔ آج کی جنگ بظاہر مہذب سہی مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ پیچیدہ اور دور رس ہیں۔ اب طاقت کا اصل پیمانہ عسکری نہیں بلکہ معاشی قوت ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے نظرانداز کرنا کسی بھی قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔اگر اس بدلتی ہوئی عالمی بساط پر پاکستان کے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہمیں محض تماشائی بن کر نہیں رہنا بلکہ ایک فعال، متوازن اور دور اندیش کردار ادا کرنا ہوگا۔ تلواروں کی جنگ سے معاشی ہتھیاروں تک کے اس نئے عہد میں پاکستان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ داخلی استحکام کو مضبوط کرے۔ معاشی خود انحصاری کو شعار بنائے۔خارجہ پالیسی میں توازن و حکمت کو پیشِ نظر رکھے۔
ہمیں اپنی برآمدات کو وسعت دینا ہوگی۔مقامی صنعت کو سہارا دینا ہوگا۔ عالمی منڈی میں اپنی موجودگی کو مؤثر بنانا ہوگا۔ ساتھ ہی سفارتی محاذ پر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو ہمیں کسی ایک بلاک کا محتاج بنانے کی بجائے ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر ابھاریں۔ یہ وقت محض نعروں یا جذباتی بیانات کا نہیں بلکہ ٹھوس اور دیرپا پالیسیوں کا ہے۔اگر پاکستان نے بروقت بصیرت اور حکمت کے ساتھ اپنی سمت کا تعین کر لیا تو وہ نہ صرف اس نئی معاشی جنگ میں خود کو محفوظ بنا سکتا ہے بلکہ ایک مؤثر اور باوقار قوت کے طور پر عالمی منظرنامے پر اپنی شناخت بھی مستحکم کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگرتاریخ کے صفحات میں ایک اور ایسا باب رقم ہو سکتا ہے جہاں کمزوری، انحصار اور غفلت کی قیمت ایک قوم کو چکانی پڑتی ہےhar

