بے تکی باتیں : مودی ٹرمپ عالم تصور میں باتیں

اے آر طارق

عالمِ تصور کے ایک خفیہ کمرے میں جہاں دیواروں پر نقشے الٹے لٹکے تھے اور میز پر چائے کے کپوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بیانات بھی ٹھنڈے پڑے تھے۔نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ دونوں کے چہروں پر وہی سنجیدگی تھی جو عام طور پر تب آتی ہے جب حقیقت بہت کم اور بیان بہت زیادہ ہو۔مودی نے گلا کھنکار کر بات شروع کی ”ٹرمپ جی ایک مسئلہ ہو گیا ہے”۔ٹرمپ نے فوراً بالوں کو ہاتھ لگایا جیسے کسی بڑی خبر سے پہلے انہیں سیٹ کرنا ضروری ہو۔” مودی، مسئلہ؟ ہمارے دور میں مسئلہ نہیں ہوتا، ہم مسئلے کو بڑا بنا دیتے ہیں پھر خود ہی حل بھی بتاتے ہیں۔ بتاؤ کیا ہوا”؟مودی نے آہ بھری ”کویت میں ہمارے کچھ طیارے گر گئے ہیں ”۔ٹرمپ کی آنکھیں چمک اٹھیں جیسے کسی نے اسے ریئلٹی شو کا نیا آئیڈیا دے دیا ہو۔ ”کتنے”؟مودی تھوڑا رکے ”بس یہی تو مسئلہ ہے۔ گرے تو ہیں مگر گننے کا طریقہ سمجھ نہیں آ رہا”۔ٹرمپ نے قہقہہ لگایا ”اوہ مودی! تم ابھی بھی حقیقت گن رہے ہو؟ ہم نے تو ہمیشہ کہانی گنی ہے۔ دیکھو اگر تین گرے ہیں تو کہو پانچ گرے ہیں۔اگر پانچ ہیں تو کہو سات ہیں اور اگر کوئی پوچھے تو کہو ہم ابھی گن رہے ہیں۔ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے”۔
مودی نے سنجیدگی سے سر ہلایا”لیکن پاکستانی مقابلے میں ہم ہمیشہ زیادہ بتاتے آئے ہیں۔ وہ اگر کہیں تین تو ہم کہیں چھ۔ وہ کہیں پانچ تو ہم کہیں آٹھ۔ ایک بار تو ہم گیارہ تک پہنچ گئے تھے۔خود ہمیں بھی یقین نہیں آیا تھا”۔ٹرمپ نے میز پر ہاتھ مارا ”یہی تو اسٹریٹجی ہیحقیقت نہیں۔مقابلہ دیکھو۔ یہ جنگ نہیں، سکور بورڈ ہے”۔مودی نے تھوڑا پریشان ہو کر کہا”لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے لوگ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اصل میں کتنے گرے ہیں ”۔
ٹرمپ نے ہنس کر کہا ”اپنے لوگ؟ مودی اپنے لوگ سوال نہیں کرتے، وہ صرف تالیاں بجاتے ہیں۔ سوال تو وہ کرتے ہیں جو تالیاں نہیں بجاتے اور ان کے لیے ہمارے پاس ایک آسان حل ہے انہیں نظر انداز کرو یا پھر اتنی بڑی بات کر دو کہ وہ چھوٹا سوال بھول جائیں ”۔مودی نے حیرت سے پوچھا”مثلاً ”؟ٹرمپ نے فخر سے کہا ”مثلاً یہ کہو کہ ہم نے طیارے نہیں گرائے، ہم نے دشمن کا حوصلہ گرایا ہے یا پھر کہو کہ ہمارے طیارے خود ہی اسٹریٹجک طریقے سے نیچے آئے تاکہ دشمن کو دھوکہ دیا جا سکے”۔مودی نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ”یہ تو بہت زبردست ہے لیکن اگر کوئی ثبوت مانگ لے تو”؟ٹرمپ نے مسکرا کر کہا ”ثبوت؟ ہم ثبوت نہیں دیتے، ہم بیانیہ دیتے ہیں۔ ثبوت مانگنے والا خود ہی مشکوک ہو جاتا ہے”۔مودی نے تھوڑا اعتماد محسوس کیا تو پھر ہم یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ ہمارے سات طیارے گرے ہیں لیکن دراصل یہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے”۔
ٹرمپ نے فوراً تصحیح کی ”نہیں سات کم ہیں۔ نو کہو۔ نو میں ایک خاص کشش ہوتی ہے اور اگر کوئی زیادہ زور دے تو کہو گیارہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم ابھی تحقیق کر رہے ہیں ”۔
مودی نے خوش ہو کر کہا ”واہ! یہ تو کمال ہو گیا”۔اسی دوران ایک خیالی مشیر کمرے میں داخل ہوا اور بولا ”سر سوشل میڈیا پر لوگ کہہ رہے ہیں کہ صرف تین طیارے گرے ہیں ”۔
مودی نے گھبرا کر ٹرمپ کی طرف دیکھا۔ ٹرمپ نے آنکھ ماری اور کہا”یہی وقت ہے لیول اپ کرنے کا۔ اعلان کرو کہ تین نہیں، تیرہ گرے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی کہو کہ دشمن کے بیس گرائے ہیں تاکہ بیلنس برقرار رہے”۔مودی نے حیرت سے پوچھا ”لیکن بیس کہاں سے آئے”؟ٹرمپ نے ہنس کر کہا ”وہی سے جہاں سے تیرہ آئے ہیں ”۔کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی پھر دونوں زور زور سے ہنسنے لگے۔
مودی نے کہا ”ٹرمپ جی آپ واقعی کمال ہیں۔ آپ کے دور میں تو ہر چیز ایک شو لگتی ہے”۔ٹرمپ نے فخر سے سینہ پھلایا ”کیونکہ سیاست اب حقیقت نہیں تفریح ہے۔ لوگ سچ نہیں، دلچسپی چاہتے ہیں ”۔مودی نے سر ہلاتے ہوئے کہا”تو پھر ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا۔ ہم اعلان کریں گے کہ ہمارے طیارے گرے نہیں بلکہ انہوں نے زمین سے قریبی تعلق قائم کیا ہے”۔ٹرمپ نے تالیاں بجائیں ”واہ! اور ساتھ میں یہ بھی کہو کہ یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جسے دنیا ابھی سمجھ نہیں پائی”۔مودی نے مسکرا کر کہا ”اور اگر کوئی مذاق اڑائے”؟ٹرمپ نے کندھے اچکائے ”تو کہو کہ وہ قوم دشمن ہے۔ یہ سب سے آسان جواب ہے”۔اسی دوران ایک اور خیالی آواز آئی ”سر عوام پوچھ رہی ہے کہ آخر سچ کیا ہے”؟مودی نے گہری سانس لی اور ٹرمپ کی طرف دیکھا۔ ٹرمپ نے مسکرا کر کہا ”سچ؟ سچ وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ بار دہرایا جائے”۔مودی نے سر ہلایا ”تو پھر ہم یہی دہرائیں گے کہ ہمارے طیارے نہیں گرے بلکہ ہم نے دشمن کو گرا دیا ہے ذہنی طور پر”۔ٹرمپ نے قہقہہ لگایا”اور اگر پھر بھی کوئی نہ مانے تو ایک اور بیان دے دو۔ یاد رکھو ایک بیان کو صرف دوسرا بیان ہی ہرا سکتا ہے”۔کمرے میں ہنسی گونجتی رہی، نقشے دیواروں پر ویسے ہی الٹے لٹکے رہے اور حقیقت کہیں کسی کونے میں بیٹھ کر سر پکڑ کر سوچتی رہی کہ آخر اسے کب سیدھا کیا جائے گا۔
اور یوں عالم تصور میں یہ تاریخی ملاقات ختم ہوئی جہاں طیارے کم گرے تھے مگر بیانات بہت زیادہ اڑے تھے۔

artariq2018@gmail.com
03024080369

اپنا تبصرہ بھیجیں