تحریر: رشیداحمد نعیم
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ حالیہ پانچ ہفتوں پر محیط شدید کشیدگی کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان بظاہر ایک خوش آئند پیش رفت ضرور ہے مگر اس خاموشی کے پردے میں چھپی ہوئی بازگشت اب بھی سنائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا نے وقتی سکون تو اختیار کر لیا ہولیکن زمین کے سینے میں دبی حرارت ابھی پوری طرح سرد نہیں ہوئی۔ عالمی منظرنامہ، علاقائی سیاست، عسکری حکمتِ عملی اور معاشی دباؤ سب ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہے ہیں کہ کیا یہ وقفہ امن کی بنیاد بنے گا یا کسی بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے؟راقم الحروف کے نزدیک جنگ بندی کا پہلا تاثر یقیناً مثبت اور حوصلہ افزا ہے۔ دھماکوں کی گونج وقتی طور پر تھم چکی ہے۔ سرحدی تناؤ میں کمی آئی ہے۔ عام انسان نے ایک مختصر مگر سکون کا سانس لیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈیوں میں بھی اس کے اثرات فوری طور پر نمایاں ہوئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام، اسٹاک مارکیٹس میں جزوی بہتری اور عالمی تجارت میں اعتماد کی وقتی بحالی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا جنگ کے بوجھ کو زیادہ دیر برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان جیسے ممالک جو درآمدی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں اس صورتحال میں ایک عارضی معاشی ریلیف ضرور محسوس کرتے ہیں مگر تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرا ہے۔ عسکری و سفارتی حلقے اس جنگ بندی کو”امن“کی بجائے ایک”اسٹریٹیجک وقفہ“ قرار دے رہے ہیں۔ راقم الحروف یہ سمجھتا ہے کہ تاریخ بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندیاں اکثر مستقل سکون کا پیش خیمہ نہیں بنتیں بلکہ نئی صف بندیوں اور تازہ حکمت عملیوں کی بنیاد رکھتی ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب فریقین نہ صرف اپنی تھکن اتارتے ہیں بلکہ آئندہ کے لیے زیادہ منظم اور مؤثر تیاری بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ خدشہ ہرگز بے بنیاد نہیں کہ موجودہ خاموشی دراصل کسی بڑے تصادم کی تمہید بھی ہو سکتی ہے۔
اس تنازعہ کی نوعیت بھی روایتی جنگوں سے مختلف رہی ہے۔ یہ صرف ٹینکوں، توپوں اور میزائلوں کی جنگ نہیں بلکہ بیانیے، معیشت، سفارت کاری اور اثر و رسوخ کی ہمہ جہت کشمکش ہے۔ ایک طرف عسکری طاقت کا اظہار ہے تو دوسری جانب معاشی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور پراکسی قوتوں کا کردار بھی نمایاں ہے۔ یہی کثیرالجہتی پہلو اس جنگ بندی کو مزید نازک بنا دیتا ہے کیونکہ کسی ایک محاذ پر پیش رفت دوسرے محاذ پر کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔پراکسی قوتوں کی موجودگی اس پورے منظرنامے کو اور بھی پیچیدہ بناتی ہے۔ بظاہر مرکزی فریقین کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے مگر خطے میں سرگرم غیر ریاستی عناصر مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوئے۔ راقم الحروف کے نزدیک یہی وہ”خاموش خطرہ“ہے جسے بعض ماہرین”غیر مستحکم استحکام“سے تعبیر کرتے ہیں یعنی بظاہر امن مگر اندر ہی اندر سلگتی ہوئی کشیدگی۔ یہ کیفیت کسی بھی لمحے دوبارہ بھڑک سکتی ہے اور حالات کو یکسر بدل سکتی ہے۔
اس کے باوجود اس جنگ بندی کو مکمل مایوسی کی عینک سے دیکھنا بھی دانشمندی نہیں ہوگی۔ عالمی سفارتی حلقے اسے ایک سنہری موقع قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس وقفے کو بصیرت، تدبر اور سنجیدگی سے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف کشیدگی میں کمی بلکہ ایک دیرپا امن معاہدے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مرحلہ وار مذاکرات اور علاقائی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی مخلصانہ کوششیں اس خاموشی کو ایک نئے دور کے آغاز میں بدل سکتی ہیں۔اگر آنے والے دنوں کا نقشہ کھینچا جائے تو ایک محتاط مگر امید افزا منظر سامنے آتا ہے۔ سب سے پہلے محدود نوعیت کے معاہدے سامنے آ سکتے ہیں۔قیدیوں کا تبادلہ، انسانی امداد کی فراہمی اور مخصوص علاقوں میں مستقل جنگ بندی جیسے اقدامات دکھائی دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد بتدریج بڑے اور پیچیدہ مسائل جیسے سکیورٹی خدشات اور علاقائی اثر و رسوخ زیر بحث آئیں گے۔ یہ عمل سست اور صبر آزما ضرور ہوگا مگر اگر تسلسل برقرار رہا تو یہی سفر ایک پائیدار امن کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر یہ موقع ضائع ہو گیا اور فریقین دوبارہ طاقت کے استعمال کی طرف مائل ہو گئے تو آئندہ تصادم پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور ہمہ گیر ہو سکتا ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں اس بار جنگ محض محدود دائرے تک نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں جس کے عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔معاشی اعتبار سے یہ جنگ بندی وقتی طور پر مثبت اثرات کی حامل ہے مگر اس کا تسلسل صرف اسی صورت ممکن ہے جب خطے میں دیرپا استحکام پیدا ہو۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور منڈیوں میں بہتری عارضی سہارا تو دے سکتی ہے لیکن عالمی اعتماد کی حقیقی بحالی سیاسی اور عسکری استحکام سے مشروط ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال بیک وقت ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ ایک طرف معاشی دباؤ میں ممکنہ کمی کی امید ہے تو دوسری جانب سفارتی سطح پر فعال اور متوازن کردار ادا کرنے کا موقع بھی میسر ہے۔ اگر پاکستان دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرے تو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔اگر اس تمام صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو راقم الحروف یہ عرض کرے گا کہ یہ جنگ بندی نہ مکمل امن ہے اور نہ ہی محض ایک عارضی وقفہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا سنگِ میل ہے جہاں سے راستہ دونوں سمتوں میں جا سکتا ہے۔ یہ فریقین کی بصیرت، عالمی قیادت کی سنجیدگی اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ اسے امن کی تمہید بناتے ہیں یا طوفان سے پہلے کی خاموشی میں بدل دیتے ہیں۔
یہ دو ہفتے دراصل تاریخ کے وہ قیمتی لمحات ہیں جو آنے والے برسوں کا رخ متعین کریں گے۔ اگر عقل و دانش نے جذبات پر غلبہ پایا تو یہی وقفہ ایک روشن اور پُرامن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے لیکن اگر طاقت کی سیاست اور ہٹ دھرمی غالب آ گئی تو یہی خاموشی ایک بار پھر گرجتے ہوئے طوفان میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ دنیا کی نظریں اسی امتحان پر جمی ہوئی ہیں اور تاریخ اپنے اگلے باب کے انتظار میں ہے۔

