ب امریکہ ایران جنگ ہار رہا ہے

اے ار طارق

ے تکی باتیں

”امریکہ بہادر“ جو دنیا کا سپر پاور ملک کہلواتا ہے۔اپنی معاشی,عسکری مضبوطی کے سبب اپنے آپ کو فرعون کے درجے پرفائز سمجھتا ہے اور خود کو دنیا کا خدا گردانتا ہے۔اپنی علمی، فنی اور عسکری طاقت کے احساس کے خوشنما گھمنڈ میں مبتلا ہے۔ایسے ممالک کے ذہن و دل میں سمایا ہوتا ہے کہ ہم زمینی خدا ہیں۔ہم فاتح دنیا ہیں۔ہم خاص لوگ ہیں۔قوم عاد و ثمود کو بھی اپنی ذہانت، علم اور قوت پر فخر ہو گیا تھا۔وہ بھی اپنے آپ کو سب سے اعلی و برتر چیز تصور کرتے تھے اور آج دور حاضر میں امریکہ باالخصوص اس کے صدر ڈونڈ ٹرمپ بھی اسی مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں کہ وہ ایک خاص چیز، ہمیشگی سر بلند،اعلی خاصیت و معیار کے حامل فرد ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی فرد یا قوم نے تکبر کیا اور اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور خدائی قوت کو چیلنج کیا تو پھر اس کا خاتمہ کمزور قوتوں کے ہاتھ سے ہی ہو گیا۔آج امریکہ کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اسے اپنی خود مسلط کردہ جنگ میں ایران سے مسلسل مار پڑ رہی ہے۔
ایران امریکہ جنگ میں امریکہ ہار رہا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل اور عرب ممالک کا نقصان ایران اور اس سے کہیں زیادہ ہوا ہے۔جیسا کہ عرب ممالک کی آئل ریفائنریز اور گیس کے پلانٹس کے علاوہ امریکی اڈوں، امریکی نیوی کا نقصان اور اسرائیل کے بڑے بڑے شہروں تل ابیب، حائفہ وغیرہ کا کھنڈرات میں تبدیل ہو جانا اور امریکی جہاز ابراہم لنکن کا مڈل ایسٹ سے فرار ہو جانا، استعمال کے قابل نہ رہنا اور عرب کے دیگر ممالک میں امریکی فضائیہ کے طیاروں، ہیلی کاپٹرز کا گر جانا اور امریکی اڈوں کا تباہ ہو جانا شامل ہے۔
راقم الحروف کے مطابق امریکی ناکامیوں کی اصل وجوہات میں ایران کے اتحادیوں، لبنان کے حزب اللہ، یمن کے حوثیوں کا شامل ہونا، ایران کا خود اسرائیل پر بیک وقت حملے کرنا اور مڈل ایسٹ میں تقریبا ایک درجن ممالک میں امریکی تنصیبات کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنا اور امریکہ کو پسپا کرنا ہے۔
ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بار بار ڈیڈ لائن دینا اور اپنے بیانات کو بدلنا، آبنائے ہرمز کے راستے کو کھلوانے میں مسلسل ناکامیوں اور نیٹو افواج کا ساتھ چھوڑ دینا اور امریکی کانگرس سے بجٹ کا نامنظور ہونا وغیرہ امریکی ناکامیوں کی ایک دوسری وجہ ہے جبکہ عرب کے اہم ممالک کا امریکی سرمایہ کاری سے انکار کرنا اور اپنے فیصلے واپس لینا وغیرہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نا صرف امریکہ کو اس جنگ میں شکست کا سامنا ہے بلکہ اس کی صدیوں سے بنائی گئی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے اور جن ممالک نے امریکہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا دفاعی نظام اس کے حوالے کیا تھا وہ بھی نظر ثانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ کو اپنی ساخت بحال کرنے میں بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ممالک میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔
یہ وہ صورتحال ہے جس کے سبب آج امریکہ پوری دنیا میں ذلت و شرمندگی کا نشان بن چکا ہے اور ہر جگہ ذلیل و خوار نظر آرہا ہے۔ایسے میں جب اس سے کچھ بھی نہیں بن پا رہا، اپنے اوپر شکست کے منڈلاتیبادل دیکھ کر حواس باختہ ہوا پڑا ہے۔اس مشکل گھڑی میں کرے تو کیا کرے کہ معاملہ کچھ ایسا بگڑا ہوا ہے کہ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں سکتا۔اس ایران امریکہ جنگ میں اب اس کو شکست تو ہو ہی چکی ہے اب صرف باعزت واپسی کے لییمذاکراتی ٹیبل سجائے ہاتھ پاؤں مارتا ہوا نظر آتا ہے جس میں بھی یہ اپنی بے وقوفیوں اور نادانیوں کے سبب عزت و احترام کے ساتھ جاتا ہوا نظر نہیں آرہا کیونکہ امریکہ نے اب تک جو روش اختیار کر رکھی ہے اور امریکی صدر کا جو رویہ ہے کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چند ممالک بارے عجیب و غریب بیانات، تبصرے اور ان کے سربراہ مملکت بارے توہین آمیز کلمات کہنا بھی اس کے اپنے گلے کی ہڈی بننے والا ہے۔اگر یوں کہا جائے کہ اس کی ایران سے جنگی ہار کا سبب بننے والے ہیں تو وہ زیادہ مناسب ہوگا۔
دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ مسلم ممالک کے وسائل سونا، تانبہ، معدنیات،پٹرول پر قبضہ کا خواہش مند امریکہ و اس کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی وسائل، پٹرول پر قبضہ کی خواہش میں کھلی ہوئیسمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو پوری دنیا کے لیے بند کروا گیا اور اب اس پوزیشن میں ہرگز نہیں ہے کہ اس کو بطور طاقت و ہتھیار کھلوا سکے اور اب یہ امریکہ کے بس میں بھی نہیں رہا ہے۔
دنیا میں اب واحد ملک جس کے پاس آبنائے ہرمز کھولنے یا بند کرنے کی طاقت ہے وہ چین ہے اور ملکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کہ ”یہ کام کسی اور کو کرنا چاہیے” دراصل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کا عالمی غلبہ اب واحد اور مکمل نہیں رہا۔امریکی خواب کہ وہ ہر جگہ اپنی مرضی نافذ کر سکتا ہے ختم ہو چکا ہے اور اب عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔یہ جہاں امریکی دور کا زوال ہے وہیں عالمی نظام میں نئے توازن اور منتقلی کی واضح نشاندہی بھی ہے۔

artariq2018@gmail.com
03024080369

اپنا تبصرہ بھیجیں