تحریر: رشید احمد نعیم
ریاستی نظام کی اصل پہچان اس کے دعووں، منصوبوں یا دفتری ڈھانچوں سے نہیں بلکہ ان نتائج سے ہوتی ہے جو عام آدمی کی زندگی میں محسوس کیے جا سکیں۔ کسی بھی حکومتی مشینری کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ کتنے محکمے قائم ہیں یا کتنی فائلیں نمٹائی جا رہی ہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں کس حد تک سہولت، تحفظ اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اگر تمام ادارے موجود ہوں، وسائل بھی صرف ہو رہے ہوں اور رپورٹس میں کارکردگی بھی نمایاں ہومگر عوامی زندگی میں بہتری نظر نہ آئے تو پھر سوال صرف کارکردگی کا نہیں بلکہ پورے نظام کی سمت کا بن جاتا ہے۔ہمارے ہاں بظاہر ایک مکمل انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ اشیائے خوردونوش کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ادارے سرگرم ہیں۔ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پرائس کنٹرول کا نظام قائم ہے۔ ٹریفک کے نظم و ضبط کے لیے اہلکار تعینات ہیں۔ امن و امان کے لیے پولیس اور دیگر فورسز اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ کاغذی سطح پر یہ تمام پہلو ایک مربوط اور فعال نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بریفنگز میں اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے اور کارکردگی کے اعداد و شمار بھی مثبت انداز میں سامنے لائے جاتے ہیں مگر جب اسی تصویر کو زمینی حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو کئی سوالات ابھر آتے ہیں۔ عام شہری آج بھی بنیادی ضروریات کے معیار کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہے۔ بازاروں میں خالص اور معیاری اشیاء کا حصول آسان نہیں رہا۔ دودھ، گھی، مصالحہ جات اور ادویات جیسے بنیادی استعمال کی اشیاء میں معیار کا مسئلہ مسلسل موجود ہے۔ سرکاری نرخ نامے اپنی جگہ آویزاں ہوتے ہیں مگر عملی طور پر قیمتوں کا تعین اکثر مختلف انداز میں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک عام خریدار نہ صرف مالی دباؤ کا شکار ہے بلکہ معیار کے حوالے سے بھی مطمئن نہیں۔
یہ صورتحال صرف معاشی پہلو تک محدود نہیں۔ امن و امان کا مسئلہ بھی شہری زندگی پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں مگر عوامی سطح پر پائے جانے والے خدشات اور تجربات اس سے مختلف تاثر دیتے ہیں۔ شہری کے لیے اصل حقیقت وہ ہے جو وہ خود محسوس کرتا ہے نہ کہ وہ جو رپورٹ میں درج ہوتی ہے۔ جب خوف اور غیر یقینی کی کیفیت روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے تو یہ صورتحال کسی بھی نظام کے لیے ایک سنجیدہ اشارہ ہوتی ہے۔راقم الحروف کے نزدیک اس تمام صورتحال کا سب سے اہم پہلو ادارہ جاتی رویہ ہے۔ جب کوئی شہری، صحافی یا ذمہ دار فرد کسی خامی کی نشاندہی کرتا ہے تو اکثر ردعمل اصلاح کی بجائے دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے۔ مسائل کو تسلیم کرنے کی بجائے انکار یا تاخیر کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔”ہم دیکھ رہے ہیں“یا”ہمیں علم ہے“جیسے جملے وقتی طور پر تو اطمینان کا تاثر دیتے ہیں مگر عملی طور پر مسئلے کو حل نہیں کرتے۔ یہی طرزِ عمل بتدریج عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کرتا ہے۔اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات اور عملدرآمد کا ہے۔ اکثر اداروں میں کارکردگی کی بجائے رپورٹنگ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ فیلڈ میں جا کر حقائق کا جائزہ لینے کی بجائے دفاتر میں بیٹھ کر رپورٹس مرتب کرنا زیادہ آسان سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا تضاد پیدا ہو جاتا ہے جس میں کاغذی کامیابی اور زمینی حقیقت ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ یہی فرق دراصل عوامی اعتماد میں کمی کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ کسی بھی نظام کی کامیابی قوانین کے نفاذ سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر نگرانی کا نظام کمزور ہو، احتساب کا عمل غیر مؤثر ہو اور جوابدہی محض رسمی حد تک محدود ہو تو بہترین
پالیسیاں بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔ دنیا کے کامیاب نظام وہی ہیں جہاں قانون کی عملداری واضح، مسلسل اور بلا امتیاز ہو۔راقم الحروف یہ سمجھتا ہے کہ اس مسئلے کا ایک اہم پہلو اداروں کے درمیان باہمی ربط کا فقدان بھی ہے۔ مختلف محکمے اپنی اپنی حدود میں کام تو کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کا فقدان مجموعی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ جدید گورننس کا تقاضا یہی ہے کہ مختلف ادارے ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں تاکہ نتائج زیادہ مؤثر اور دیرپا ہوں۔ٹیکنالوجی نے شفافیت اور نگرانی کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں مگر ان مواقع سے حقیقی فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب انہیں سنجیدگی سے نافذ کیا جائے۔ صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا آن لائن رپورٹس سے بہتری نہیں آتی جب تک کہ ان کے پیچھے عملی اقدامات نہ ہوں۔ اصل تبدیلی ہمیشہ میدانِ عمل میں نظر آتی ہے نہ کہ اعلانات میں دکھائی دیتی ہے۔راقم الحروف کے نزدیک اس پورے تناظر میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ اصلاح کی گنجائش کو تسلیم کیا جائے۔ کسی بھی نظام میں خامیاں ہونا غیر معمولی بات نہیں مگر اصل فرق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان خامیوں کو چھپایا جائے۔ انہیں بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے۔ تنقید کو اگر اصلاح کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے تو یہی عمل بہتری کی بنیاد بن سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر تمام ادارے موجود ہیں، وسائل بھی صرف ہو رہے ہیں اور منصوبے بھی جاری ہیں تو پھر عام آدمی کی زندگی میں واضح بہتری کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا مسئلہ ترجیحات کا ہے یا عملدرآمد کا؟ یا پھر احتساب کے فقدان کا؟ یہ سوالات محض تنقید نہیں بلکہ ایک سنجیدہ دعوت ہے کہ نظام کو اس کے اصل مقصد یعنی عوامی ریلیف کے ساتھ دوبارہ جوڑا جائے۔
ریاستی نظام کی اصل طاقت اس کے بیانیے میں نہیں بلکہ اس کے نتائج میں ہوتی ہے۔ جب شہری کو یہ یقین ہو جائے کہ قانون اس کے تحفظ کے لیے ہے، ادارے اس کی خدمت کے لیے سرگرم ہیں اور نظام اس کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تو یہی اعتماد کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا سرمایہ بن جاتا ہے مگر اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو مضبوط ترین ڈھانچے بھی اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کیا جائے۔ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ جوابدہی کے تصور کو مضبوط کیا جائے کیونکہ بالآخر یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی نظام کو کاغذی کارکردگی سے نکال کر حقیقی عوامی خدمت میں بدل سکتے ہیں اور جب یہ تبدیلی آ جائے تو پھر نہ صرف دعوے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ان پر یقین بھی خود بخود قائم ہو جاتا ہے

