مشرق وسطی کی جنگ اور پاکستان کی سفارت کاری۔۔۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سلیوٹ، وزیر اعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو خراج تحسین


خصوصی تحریر:رضوان احمد فکری
مشرق وسطی جنگ کی لپیٹ سے عارضی طور پر باہر آیا ہے۔ دو ہفتے کے لئے بند جنگ ساری دنیا دعا گو ہے کہ مستقل جنگ بندی ہوجائے۔ پاکستان نے جس طرح معجزاتی کرشمہ دکھا کر ایران کو بروقت حملے سے بچا کر مذاکرات کی ٹیبل سجائی اس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سلیوٹ، وزیر اعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو خراج تحسین۔ لیکن ایک دور مکمل ہونے کے باوجود خطرات ٹلے نہیں ہیں۔ اسرائیل لبنان پر حملے کرکے ایران کومشتعل کر نا چاہتا ہے اور صدر ٹرمپ کے بیانات جلتی پر تیلی کاکام کرتے ہیں۔ صبر و ضبط کا یہ کھیل پاکستان کی قیادت اور فیلڈ مارشل سے ساری دنیا امید لگائے بیٹھی ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کرائیں گے۔ پاکستان نے مشرق وسطی کی جنگ میں خلیجی ممالک کو صف آراء ہونے سے روکنے کے علاوہ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اسے ایران کو ضواب دینے سے روک کر تیسری عالمی جنگ کے خطرات کو ٹالا۔ یہ بہترین سفارت کاری کا نتیجہ بھی ہے اور ہمارے فیلد مارشل اور وزرائے اعظم کا بھی۔ مشرق وسطی کی جنگ اور کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر پڑھے ہیں۔ معیشت، سیاست اور سلامتی پر بھی اسکے واضع اثرات ہیں۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے جس تدبر،حکمتاور متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل رشک ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی رہا ہے اور اسکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بھی امن، استحکام، اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ موجودہ بحران میں پاکستان نے نہ صرف غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیابلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لئے بھرپور آواز بلند کی۔ یہی وہ اصولی موقف ہے جس نے پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا میں نمایاں کیا۔ اس موقع پر سید عاصم منیر فیلڈ مارشل کی قیادت کو خرج تحسین پیش کرنا ضروری ہے۔ جنہوں نے قومی سلامتی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت بصیرت کے ساتھ ادارے کی رہنمائی کی۔ ان کی پیشہ وارانہ مہارت اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی اور سفارتی پوزیشن فراہم کی۔ اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی فورمز پر پاکستان کا موقف موثر انداز میں پیش کیا۔ انکی قیادت میں حکومت نے نہ صرف داخلی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ بلکہ عالمی برادری کے ساتھ مثبت اور فعال روابط کو بھی فروغ دیا۔ انکی سفارتی کاوشوں نے پاکستان کو ایک معتدل اور سنجیدہ ریاست کے طور پر اجاگر کیا۔ مذید براں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی مہارت بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کو مضبوط کیا اور ہنوز یہ عمل جاری ہے۔ انکی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف اپنی ساکھ کو بہتر بنایا بلکہ خطے میں امن کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں۔ پاکستان کا واضع موقف ہے کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری میں ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں پاکستان نے جس متوازن، باوقار، اور اصولی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ دیگر ممالک کے لئے بھی ایک مثال ہے۔ قومی قیادت، افواج پاکستان اور سفارتی حلقوں کی مشترکہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں نہ صرف اپنے مفادات کا تحٖفظ کرنا جانتا ہے بلکہ عالمی امن کے لئے بھی مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ قوم کی دعائیں ہیں کہ ایران اور امریکہ کی جنگ بندی پاکستان کی بہترین سفارت کاری سے مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو اور متنازعہ امور خوش اسلوبی سے حل ہوجائیں۔ ایرانی قوم نے پاکستان کو جس طرح یاد اور اعزاز بخشا ہم انکی دیرپا خوشیوں کو واپس لانے کا زریعہ ہوں۔ ہمیں فیلڈ مارشل، ایرانی قیادت، شہباز شریف سے پوری امید ہے کہ اللہ کی رحمت و رضا سے پاکستان انشاء اللہ مستقل جنگ بندی میں بھی کامیاب ہوگا اور دنیا واپس اپنے روزمرہ کے معاملات میں آجائے گی۔ پاکستان کو ہر کوئی پارٹنر بنے گا اور خوشحالی اور ترقی ملک کا مقدر ہوگی۔ آمین آخر میں پوری قوم کی جانب سے سید عاصم منیرکوبالخصوص ، وزیرعظم شہباز شریف کو خا ص طور پر اور، اسحاق ڈار، آصف زرداری صدر، بلاول بھٹو، قومی سیاست دانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنکی قیادت اور کاوشوں نے پاکستان کو ایک باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی وہ قیادت ہے جو پاکستان کو ترقی، استحکام اور عالمی وقار کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔ اس موقع پر سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی ماضی میں کی گئی شاعری کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ان کی شاعری میں جو خیالات تھے آج فیلڈ مارشل نے حقیقت بنا دیئے۔ انکی میری پہچان پاکستان سوچ کی جیت ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں