گوادر(این این آئی)حکومت بلوچستان نے گوادر کے ماہی گیروں کے لیے جدید ”فشرمین کالونی“کی تعمیر کیلئے 200 ایکڑ سے زائد اراضی فراہم کر دی ہے جس پر 2,439.6 ملین روپے لاگت آئے گی۔گوادر پرو کے مطابق یہ اراضی موضع انکدا ساؤتھ میں، جیوانی اور آواران ایونیو کے سنگم اور اسپورٹس کمپلیکس گوادر کے قریب واقع ہے۔ فشرمین کالونی ایک کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 2,970 رہائشی پلاٹس مختص کیے جائیں گے، جن میں ہر پلاٹ کا رقبہ 120 مربع گز ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق گوادر میں فشرمین کالونی منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) معین الرحمٰن خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ شاہد علی، اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عبدالرزاق نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فشرمین کالونی منصوبے کا اعلان تقریباً تین سال قبل پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے دورہ گوادر کے دوران کیا تھا، جس کا مقصد مقامی ماہی گیروں کی فلاح و بہبود ہے۔ بعد ازاں جی ڈی اے نے ابتدائی کام مکمل کر لیا۔رپورٹ کے مطابق بتایا گیا کہ مطلوبہ فنڈز کے حصول کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کر دی گئی ہے اور منصوبہ ان فنڈز کے اجرا کا منتظر ہے۔ جیسے ہی فنڈز دستیاب ہوں گے، ترقیاتی کام باضابطہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں ماہی گیروں کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق حکومت بلوچستان زمین کی قیمتوں اور ترقیاتی اخراجات پر نمایاں سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ ماہی گیروں کو سستی اور معیاری رہائش میسر آ سکے۔ اس منصوبے میں جدید شہری سہولیات شامل ہوں گی، جن میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم، سڑکیں، بجلی، اسکول، مساجد، ہسپتال اور پارکس شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) بلوچستان پہلے ہی اس منصوبے کے پی سی-II کی منظوری دے چکا ہے، جس کے تحت کنسلٹنسی سروسز، ماسٹر پلاننگ، ڈیزائن اور دیگر تکنیکی امور مکمل کیے جائیں گے،شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے الاٹیز کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بھی قائم کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق اس موقع پر ڈی جی جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے ہدایت دی کہ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تاکہ گوادر کے اصل مستحقین یعنی ماہی گیروں کو جلد از جلد جدید اور باوقار رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

