لسبیلہ(رپورٹ بیوروچیف حفیظ دانش) ہنگلاج نانی مندر کا جاری تین روزہ سالانہ میلہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پزیر ہوگیا،میلے میں ملک بھر سے ہزاروں ہندو یاتریوں نے بھرپور شرکت کی، جبکہ میلے میں۔ سینیٹر۔ دھنیش کمار پلیانی ایم پی اے بلوچستان اسمبلی سنجے کمار سابق ایم پی اے مکھی شام لال لاسی نے میلے کا دورہ کیا اور سییکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ محترمہ حمیرا بلوچ نجیب اللہ پندرانی ان کے ہمراہ تھے میلے میں تین روز قافلوں کی صورت میں زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔لسبیلہ کے سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع اس مقدس مقام پر میلے کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے 700 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ یاتریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ہنگلاج نانی مندر ویلفیئر ڈویلپمنٹ سوسائٹی کے عہدیداران مکھی ونود کمار لاسی، جنرل سیکریٹری ویرسی مل کے ڈیوانی، ڈاکٹر تولا رام لاسی، پرکاش کمار لاسی اور گھنشام داس لاسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ نے زائرین کی سہولت کے لیے مثالی انتظامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور سینیٹر دنیش کمار پلیانی کے خصوصی تعاون سے میلے میں متعدد اقدامات کیے گئے، جن میں میڈیکل سہولیات، صاف پانی کی فراہمی اور کھانے پینے کے لیے راشن کی دستیابی شامل ہے۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس، ریسکیو 1122 کے اہلکار اور دیگر امدادی ٹیمیں ہمہ وقت الرٹ رہیں۔انتظامیہ کے مطابق میلے کے دوران یاتریوں کی رہنمائی، ٹریفک کنٹرول اور خوراک کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے تاکہ تمام زائرین پرامن اور محفوظ ماحول میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔علاوہ ازیں پاکستان کوسٹ گارڈز بٹالین ون کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم مریضوں کا معائنہ کرکے مفت ادویات فراہم کرتی رہی۔ محکمہ صحت لسبیلہ نے بھی اپنا میڈیکل کیمپ قائم کیا، جبکہ ایدھی بلوچستان کی ٹیمیں بھی مسلسل خدمات انجام دیتی رہیں۔انتظامیہ کے مطابق میلے میں لاکھوں کی تعداد میں یاتریوں کی شرکت متوقع ہے، جو اس مذہبی اجتماع کی اہمیت اور عقیدت کا واضح مظہر ہے۔

