پاشا کا کراچی میں خصوصی سی ایکس او (CXO) میٹ اپ اختتام پذیر

کراچی: پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) نے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی ایچ بی ایل پاشا سی ایکس او (HBL P@SHA CXO) میٹ اپ کی میزبانی کی۔ اس خصوصی تقریب میں آئی ٹی انڈسٹری کے سرکردہ ایگزیکٹوز، پالیسی سازوں اور حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی تاکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو تیز کرنے اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی جا سکے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی (SACM) برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، علی راشد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو صوبے کی اقتصادی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔

علی راشد نے کہا، “صوبائی حکومت آئی ٹی سیکٹر کو ہماری معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے اور انڈسٹری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ ہم صوبائی سرکاری محکموں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای گورننس کے لیے پاشا اور مقامی آئی ٹی انڈسٹری کی مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔”

انہوں نے مزید زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) کو فروغ دیے بغیر پاکستان عالمی سطح پر مقابلہ نہیں کر سکتا، اور واضح کیا کہ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے لیے کاروبار میں آسانیاں (Ease of Doing Business) پیدا کرنا حکومت کے ڈیجیٹل وژن کا بنیادی جزو ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے سی ای او فیصل جیدی نے برآمدات میں اضافے کی حکمت عملیوں پر انڈسٹری لیڈرز کے ساتھ براہ راست مشاورت کے لیے بطور کلیدی مقرر میٹ اپ میں شرکت کی۔ انہوں نے ایک اہم پیش رفت شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب غیر ملکی کمپنیاں بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس (RDAs) کھولنے کی اہل ہیں۔

جیدی نے کہا، “ہم آئی ٹی برآمدات بڑھانے اور عالمی کلائنٹس کو راغب کرنے کے لیے پاشا کے تعاون سے ایک جامع حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔ مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے پی ایس ای بی اپنے سہولتی دائرہ کار کو وسعت دے رہا ہے۔ آئی ٹی پارکس کی تعمیر اور عالمی معیار کے ورکنگ انفراسٹرکچر کی فراہمی ہمارے اولین اہداف میں شامل ہیں۔”

انہوں نے آئی ٹی انڈسٹری کے جائز مطالبات اور تجاویز کو پالیسی سازی کے لیے حکومتی اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے کے حوالے سے پی ایس ای بی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

چیئرمین پاشا، سجاد مصطفیٰ سید نے ٹیکنالوجی کو اپنانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، “مصنوعی ذہانت (AI) اور 5G انفراسٹرکچر کے بغیر، ہم عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل نہیں رہ سکتے۔”

انہوں نے یقین دلایا کہ انڈسٹری حکومت کے ڈیجیٹل وژن کی کامیابی بشمول ایک ارب ڈالر کے پرعزم اے آئی (AI) منصوبوں میں اپنا بھرپور مشاورتی اور تکنیکی کردار ادا کرے گی۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “حقیقی اور مسابقتی ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ کو یقینی بنائے بغیر غیر ملکی کلائنٹس اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا ناممکن ہے۔”

حکومت سندھ کے سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو محض تعلیمی ڈگریوں کے بجائے عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی تربیت کی ضرورت ہے۔

پاشا کے سینئر وائس چیئرمین، محمد عمیر نظام نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاشا کی اہم کامیابیوں پر روشنی ڈالی؛ جبکہ انڈسٹری انگیجمنٹ کو-چیئر، مناف مجید نے حکومت کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے کے ذریعے آئی ٹی انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

جناب خوشنود آفتاب نے زور دیا کہ “میڈ اِن پاکستان” اقدام کو تیز کرنے کے لیے ملک بھر میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) کی جلد تکمیل ایک بنیادی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں