ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی مسقط کے دورے کے بعد اتوار کو دوبارہ پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عباس عراقچی اس وقت دوبارہ اسلام آباد پہنچے جب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی پاکستان میں اہم ملاقاتوں کے بعد روس کے لیے روانہ ہو گئے۔
Foreign Minister @araghchi has met with Pakistan’s Chief of the Army Staff of the Pakistan Army Field Marshal Syed Asim Munir Ahmed Shah in Islamabad on Sunday. pic.twitter.com/vr6ZhPrHLp
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کہا کہ پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کی تعریف کی۔
ایرانی سفیر نے اتوار کی شب ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ایرانی وفد کے اس دورے کے اختتام پر، جس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے سفارتی دورے کے آکے تحت پاکستان کا دورہ کیا جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور علاقائی صورت حال پر مشاورت کرنا تھا، میں پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید لکھا: ’خصوصی طور پر میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں اور مثبت سفارتی کردار ادا کیا۔‘
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ’گذشتہ دورے کی طرح، اس مرتبہ بھی وفد کے لیے مکمل سکیورٹی، تحفظ اور پرامن ماحول فراہم کیا گیا، جو برادر، دوست اور ہمسایہ ملک پاکستان کی مؤثر انتظامی صلاحیت، بہترین منصوبہ بندی اور کامیاب عمل درآمد کا نتیجہ ہے۔‘
At the end of This round of the visit of the Iranian delegation, H.E. Syyed Abbas Araghchi, Honorable Minister of Foreign Affairs to Pakistan at the onset of the regional diplomatic tour, which was carried out with the aim of reviewing bilateral relations and consulting on the…
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 26, 2026
رضا امیری مقدم نے پاکستانی عوام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس موقع پر پاکستان فوج کے عملے، سکیورٹی اداروں، پولیس، تمام سرکاری محکموں کے اہلکاروں اور بالخصوص پاکستان کے معزز عوام اور اسلام آباد کے رہائشیوں کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس دوران صبر، مہمان نوازی اور بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔‘
ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عمان کے حکام سے ملاقاتوں اور خطے کے سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔
ایرانی نیوز ایجنسی آئی آر آئی بی کے مطابق عباس عراقچی نے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے تحت مسقط کے حالیہ دورے کے بعد دوبارہ اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق ان ملاقاتوں میں ایران کے مؤقف اور حالیہ سفارتی مشاورت کے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری صورت حال پر ایران کے نقطہ نظر کی وضاحت، حالیہ سفارتی رابطوں کا جائزہ اور علاقائی پیش رفت پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، خاص طور پر جنگ کے مکمل خاتمے کی کوششوں کے تناظر میں، جس میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملاقاتوں میں کشیدگی میں کمی کی کوششوں، مخالف فریق کی سرگرمیوں کے جائزے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال بھی شامل ہے۔
اس سے قبل عراقچی جمعے کو اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ فروری میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد کی کشیدگی پر بات چیت کی جا سکے۔
وہ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد ہفتے کی رات عمان کے دورے پر چلے گئے تھے۔
ایران سے بات چیت کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر نے اسلام آباد پہنچنا تھا۔
تاہم، ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ دورہ منسوخ کر دیا کیونکہ ایران کی نظرثانی شدہ امن پیشکش ’کافی نہیں‘ تھی۔
ارنا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرنے اور روس روانگی سے قبل دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔
ارنا نے یہ بھی بتایا کہ عراقچی کے وفد کا ایک حصہ ہفتے کی رات اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے مذاکرات کے بعد تہران واپس لوٹ گیا تھا۔
یہ وفد جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تہران واپس پہنچا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی وزیر خارجہ نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ ان ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ٹرمپ کی جانب سے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کیے جانے سے اسلام آباد میں جاری ثالثی کی کوششوں کو ایک نیا دھچکا لگا۔
ایرانی صدر مسعود پزشیکیان نے شہباز شریف کو بتایا کہ تہران دھمکیوں یا ناکہ بندی کے تحت ’مسلط کردہ مذاکرات‘ میں شامل نہیں ہو گا۔
انہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں سمیت آپریشنل رکاوٹیں ختم کرے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل برقرار ہے، جہاں ایران نے عالمی توانائی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو محدود کر رکھا ہے جبکہ امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہے۔

